• Sat, 07 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲؍ سال قبل خاتون کے قتل کو خود کشی مان کر تفتیش کرنے پر سرزنش

Updated: February 07, 2026, 10:49 AM IST | Mumbai

ہائی کورٹ کی شدید برہمی کے بعد پولیس نے قتل کے تحت کیس درج کرکے مقتول کے شوہر سمیت ۴؍افراد کو گرفتار کیا۔

The court expressed strong anger. Photo: INN
کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ تصویر: آئی این این

دو سال قبل ۳۴؍ سالہ خاتون کے پھانسی لگا کر فوت ہونے پر ساکی ناکہ پولیس نے اسے خود کشی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے حادثاتی موت کے تحت کیس درج کیا تھا۔ وہیں متاثرہ خاتون کے اہل خانہ کی شکایت کے باوجود شوہر اور دیگر گھر والوں کے خلاف خاتون کو قتل کئے جانے کے الزام اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے باوجود کیس درج نہ کرنے پر ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔ تاہم کورٹ نے مذکورہ معاملہ میں فراہم کردہ اطلاعات اور طبی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد قتل کے کیس کو حادثاتی موت کے تحت درج کرنے اور اسی نہج پر تفتیش کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ متاثرہ خاتون گیتا نارنگی چودھری کے اہل خانہ نے بامبے ہائی کورٹ کے روبرو عرضداشت داخل کرتے ہوئے بتایا کہ اکتوبر ۲۰۲۴ء کو گیتا کے شوہر ملزم سکار ام چودھری نےفون کرکے گیتا کی خود کشی کی اطلاع دی تھی لیکن ہمیں شبہ تھا کہ سسرال والوں نے مل کر گیتا کا قتل کیا ہے اور یہ بات وہاں پہنچنے کے بعد ثابت بھی ہوئی تھی کیونکہ اس کے گلے پر زخموں کے نشان تھے اور اس پر گلا گھونٹنے کے بہت واضح نشان موجود تھے۔ وہیں پولیس نے اس معاملے میں ہماری شکایت کے باوجود خود کشی کے تحت کیس درج کیا تھا۔ تاہم جب اس سلسلے میں پوسٹ مارٹم اور فورینسک جانچ کی گئی تو اس میں بھی گلا گھونٹ کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ممبئی میں گزشتہ سال ۴؍ ہزار ۸۴۱؍ مسافر ٹرین حادثات کا شکار ہوئے !

متاثرہ خاتون کے بھائی دنیش بنارام نے کورٹ کو مزید بتایا گیا کہ فورینسک کی واضح رپورٹ کے باوجود پولیس نے اس خود کشی کے جھوٹے معاملہ کو حادثاتی موت قرار دیتے ہوئے تفتیش میں کوتاہی کرتی رہی اور ہماری شکایت کے باوجود قتل کے تحت معاملہ کو درج نہیں کیا اور نہ ہی تفتیش کی۔ اس معاملے میں ملزم شوہر کا چاچا راجا رام چودھری ہمیشہ پولیس سے دوستی ہونے کا حوالہ دے کر اپنے ڈی پی پر ایک آفیسر کے ساتھ کھینچی گئی تصویر دکھا کر پولیس والوں سے اچھے مراسم ہونے کا دعویٰ کیا کرتا تھا۔ کورٹ کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس معاملے میں ساکی ناکہ کے تفتیشی افسر ویشواناتھ دھناؤنے اور سینئر پولیس انسپکٹر سنیل یادو پر پوسٹ مارٹم رپورٹ کو نظر انداز کرنے کا بھی الزام لگایا گیا۔ بعد ازیں کورٹ کی برہمی پر شوہر کے علاوہ دیگر تین ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK