• Mon, 07 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسک نے بغیر اسٹیئرنگ وہیل اور پیڈلز والی ٹیسلا سائبرکیب لانچ کردی

Updated: September 07, 2026, 3:59 PM IST | Texas

ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے خودکار ڈرائیونگ کے شعبے میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے کمپنی کی نئی سائبر کیب روبو ٹیکسی کو امریکی سڑکوں پر اتار دیا ہے۔ دو نشستوں والی یہ مکمل خودکار گاڑی اسٹیئرنگ وہیل، بریک پیڈلز اور روایتی ڈرائیونگ کنٹرولز کے بغیر تیار کی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ مسافر ہنگامی صورت میں بھی خود گاڑی کا کنٹرول سنبھال نہیں سکتا۔

Cybercab.Photo:X
سائبرکیب۔ تصویر:ایکس

ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک  نے خودکار ڈرائیونگ کے شعبے میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے کمپنی کی نئی سائبر کیب روبو ٹیکسی  کو امریکی سڑکوں پر اتار دیا ہے۔ دو نشستوں والی یہ مکمل خودکار گاڑی  اسٹیئرنگ وہیل، بریک پیڈلز اور روایتی ڈرائیونگ کنٹرولز  کے بغیر تیار کی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ مسافر ہنگامی صورت میں بھی خود گاڑی کا کنٹرول سنبھال نہیں سکتا۔ ٹیسلا نے ۳؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو آسٹن، ٹیکساس کے محدود علاقوں میں سائبرکیب سروس شروع کی، جہاں ابتدائی طور پر محدود تعداد میں گاڑیاں مسافروں کو لے کر سڑکوں پر آئیں۔
سائبر کیب کو بنیادی طور پر ایک  روبوٹیکسی کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میں ڈرائیور کے لیے نہ اسٹیئرنگ وہیل ہے اور نہ ہی ایکسلریٹر یا بریک پیڈل۔ گاڑی ٹیسلا کے فل سیلف ڈرائیونگ سسٹم کے ذریعے سڑک، ٹریفک اور دیگر حالات کو سمجھتے ہوئے سفر کرتی ہے۔ گاڑی میں انسانی ڈرائیور موجود نہیں ہوتا، جبکہ ضرورت پڑنے پر اسے دور بیٹھے ریموٹ آپریٹرز کی جانب سے مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:یش جوہرکے پروڈکشن ہائوس ’دھرما پروڈکشن‘ نے کئی شاندار فلمیں دی ہیں

ٹیسلا کا یہ طریقہ حریف کمپنی  ویمو  سے مختلف ہے، جو اپنے خودکار نظام میں  ایل آئی ڈار، ریڈار اور دیگر سینسرز بھی استعمال کرتی ہے۔ ٹیسلا نے طویل عرصے سے کیمروں پر مبنی وژن سسٹم کو اپنی خودکار ڈرائیونگ حکمت عملی کا بنیادی حصہ بنایا ہوا ہے۔  ٹیسلا نے سائبر کیب کو ابتدائی طور پر  آسٹن، ٹیکساس  کے محدود علاقوں میں متعارف کرایا ہے۔ کمپنی پہلے ہی آسٹن میں ماڈل وائی گاڑیوں کے ذریعے روبوٹیکسی سروس چلا رہی تھی، لیکنسائبر کیب پہلی ایسی مخصوص ٹیسلا گاڑی ہے جسے شروع ہی سے بغیر انسانی ڈرائیور کے استعمال کے لیے بنایا گیا ہے۔ نئی سائبرکیب کا ڈیزائن بھی روایتی گاڑیوں سے مختلف ہے۔ یہ دو نشستوں والی گاڑی ہے اور اس کا گولڈ رنگ اور مستقبل نما ڈیزائن اسے عام ٹیکسیوں سے الگ بناتا ہے۔ ٹیسلا کا مقصد مستقبل میں ایسے روبوٹیکس کا بڑا نیٹ ورک قائم کرنا ہے جو مسافروں کو ایپ کے ذریعے گاڑی طلب کرنے کی سہولت دے۔
 سائبر کیب  کی لانچنگ کے فوراً بعد امریکی وفاقی حکام کی جانب سے اس پر سوالات بھی اٹھ گئے۔ نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے ٹیسلا کے سائبر کیب  کی سیفٹی سرٹیفکیشن کے عمل کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ بغیر اسٹیئرنگ وہیل، بریک پیڈلز اور روایتی کنٹرولز والی گاڑی موجودہ امریکی وفاقی موٹر وہیکل سیفٹی معیارات پر کس طرح پورا اترتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایڈمنسٹریشن تقریباً ۱۰۰۰؍ سائبر کیب  سے متعلق ٹیسلا کے سیلف سرٹیفکیشن عمل کا جائزہ لے رہی ہے۔ موجودہ امریکی قوانین میں روایتی انسانی ڈرائیونگ کے لیے مخصوص حفاظتی تقاضے موجود ہیں، جبکہ مکمل خودکار گاڑیوں کے لیے قوانین میں تبدیلی کی تجاویز بھی زیرِ غور رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان میں یوٹیوب اور سوشل میڈیا سے آمدنی میں تیز رفتاراضافہ

سائبر کیب کے آغاز کا ایک اہم پہلو عوام کا اعتماد بھی ہے۔ مکمل خودکار گاڑی میں سفر کرتے وقت مسافر کے پاس نہ اسٹیئرنگ وہیل ہوگا اور نہ بریک، جس کی وجہ سے ہنگامی صورتحال میں انسانی مداخلت کا روایتی طریقہ موجود نہیں رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیسلا کے لیے صرف ٹیکنالوجی تیار کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی مختلف اور پیچیدہ ٹریفک حالات میں قابلِ اعتماد اور محفوظ ہے۔ امریکی حکام پہلے ہی ٹیسلا کے خودکار ڈرائیونگ سسٹمز سے متعلق دیگر حفاظتی معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK