۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۴ء کے درمیان یوٹیوب نے تخلیق کاروں، فن کاروں اور میڈیا کمپنیوں کو۲۱؍ہزار کروڑ روپے سے زیادہ ادا کئے، ملک کی جی ڈی پی میں ۱۶؍ ہزار کروڑ سے زیادہ کا حصہ۔
EPAPER
Updated: September 07, 2026, 1:04 PM IST | Agency | New Delhi
۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۴ء کے درمیان یوٹیوب نے تخلیق کاروں، فن کاروں اور میڈیا کمپنیوں کو۲۱؍ہزار کروڑ روپے سے زیادہ ادا کئے، ملک کی جی ڈی پی میں ۱۶؍ ہزار کروڑ سے زیادہ کا حصہ۔
ہندوستان میں یوٹیوب اور انسٹاگرام پر مشمولات بنانے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ویوز اور فالوورز بھلے ہی ان کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی آمدنی بھی لازماً زیادہ ہو۔ یوٹیوب نے کہاہے کہ’’دنیا بھر میں۳۰؍لاکھ سے زیادہ چینلز یوٹیوب پارٹنر پروگرام میں شامل ہیں۔‘‘ کمپنی کے مطابق گزشتہ ۴؍ برسوں کے دوران یوٹیوب نے عالمی سطح پر تخلیق کاروں، فن کاروں اور میڈیا کمپنیوں کو۱۰۰؍ارب ڈالر سے زیادہ ادا کئے ہیں۔گوگل کی ملکیت والی اِس کمپنی نے بتایا کہ اس کے تخلیقی ماحولیاتی نظام نے ہندوستان کی جی ڈی پی میں۱۶؍ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا حصہ رہا اور آکسفورڈ اکنامکس کے مطابق۹؍ لاکھ۳۰؍ہزار سے زیادہ کل وقتی مساوی ملازمتوں کو سہارا دیا۔ کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ۲۰۲۲ء سے۲۰۲۴ء کے درمیان ہندوستان میں تخلیق کاروں، فن کاروں اور میڈیا کمپنیوں کو ۲۱؍ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ تقسیم کئے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: سیمی کنڈکٹر شعبے میں ہندوستان کی نئی حکمت عملی،’انجینئر اِن انڈیا‘ کی طرف قدم
ویوز سے حقیقت میں کتنی آمدنی ؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی کوئی مقررہ شرح نہیں ہے۔ یوٹیوب کا آر پی ایم، یعنی ہر ایک ہزار ویوز پر تخلیق کار کی حاصل کردہ آمدنی، کئی عوامل کے لحاظ سے بدلتا ہے۔ ان میں وہ جگہ جہاں کے ناظرین دیکھ رہے ہیں ، مشمولات کی نوعیت ، مشتہرین میں ان کی مانگ اور یہ بات شامل ہے کہ ویو سے آمدنی حاصل ہوئی یا نہیں۔ یوٹیوب کا مونیٹائزیشن نظام اشتہارات کے علاوہ یوٹیوب پریمیم، شاپنگ، ممبرشپس اور مداحوں کی جانب سے مالی معاونت جیسے ذرائع پر بھی مشتمل ہے۔
محل وقوع کے لحاظ سے اشتہارات کی شرح
ہندوستان اور اشتہارات کے حوالے سے زیادہ دولت مند بازاروں کے درمیان فرق بھی اہم ہے۔ یوٹیوب کے مطابق ناظرین کے جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے اشتہارات کی شرح مختلف ہو سکتی ہےکیونکہ مختلف مارکیٹوں میں اشتہار دینے والے مختلف انداز میں مقابلہ کرتے ہیں۔ اس لیے بڑی تعداد میں ہندوستانی ناظرین رکھنے والا تخلیق کار یہ فرض نہیں کر سکتا کہ اسے بھی اتنی ہی اشتہاری آمدنی ملے گی جتنی کسی ایسے تخلیق کار کو ملتی ہے جس کے ناظرین زیادہ تر امریکہ یا برطانیہ میں ہوں۔یوٹیوب کے مطابق اس کا پارٹنر پروگرام اشتہارات، یوٹیوب پریمیم، یوٹیوب شاپنگ اور برانڈ پارٹنرشپ کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ اچانک ملتوی ہونے کی خبر
ایک سے۳۰؍ڈالر فی ایک ہزار ویو
’انفلوئنسر مارکیٹنگ ہب ‘کے جولائی ۲۶ء کے تجزیہ کے مطابق، عالمی سطح پر یوٹیوب تخلیق کاروں کا عام آر پی ایم (ہر ایک ہزار ویوز پر تخلیق کار کی حاصل کردہ آمدنی) تقریباً ایک سے۳۰؍ ڈالر فی ایک ہزار ویو کے درمیان ہے جبکہ بعض زیادہ قدر والے شعبوں میں یہ۲۰؍ سے۴۰؍ڈالر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ اعداد و شمار ہندوستان کیلئے مخصوص نہیں ہیں اور یوٹیوب کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری شرح بھی نہیں ہے۔
انسٹا گرام کی صورتحال