• Mon, 07 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ پر امریکی حمایت کے خلاف ٹرمپ کی سابق حلیف مار جوری ٹیلر گرین برہم

Updated: September 07, 2026, 3:58 PM IST | Washington

سابق امریکی رکن کانگریس مار جوری ٹیلر گرین نے اسرائیل کو مسلسل امریکی فوجی و مالی مدد دینے والے سیاسی لیڈروں اور غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں پر خاموش رہنے والی مسیحی مذہبی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور خبردار کیا کہ اس خاموشی کا ’’حساب‘‘ دینا پڑے گا۔

Marjorie Taylor Greene. Picture: INN
مار جوری ٹیلر گرین۔ تصویر: آئی این این

امریکہ کی سابق رکن کانگریس مار جوری ٹیلر گرین نے غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے معاملے پر امریکی حکومت اور مسیحی مذہبی حلقوں کی خاموشی پر سخت سوال اٹھائے ہیں۔ گرین نے ایکس پر کہا کہ ’’دسیوں ہزار بچے ہلاک ہوچکے ہیں اور بہت سے زندگی بھر کے لیے زخمی، معذور یا یتیم ہوگئے ہیں، پھر بھی امریکہ کے منتخب حکومتی لیڈر رقم اور فوجی مدد بھیجتے رہتے ہیں۔ امریکی مسیحی چرچ بڑی حد تک خاموش ہے۔‘‘ گرین نے مزید کہا، ’’اس دن، مجھے نہیں لگتا کہ یہ اچھی طرح ختم ہوگا۔‘‘ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ’’اس دن‘‘ سے ان کی مراد کیا ہے، تاہم ان کے بیان کو مذہبی تناظر میں یومِ حساب یا قیامت کی طرف اشارہ سمجھا جارہا ہے۔ ان کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ غزہ میں بچوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور زندگی بھر کی معذوری کے باوجود امریکی سیاسی اور مذہبی قیادت اس معاملے پر وہ ردعمل نہیں دکھا رہی جو ان کے خیال میں دکھانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: کروشیا: ہزاروں ٹن کوڑاکرکٹ ہٹانے میں تاخیر پر حکومت کے خلاف زبردست احتجاج

گرین کی یہ تنقید ان کے سابق سیاسی موقف کے مقابلے میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ وہ ۲۰۲۱ء سے امریکی ایوان نمائندگان کی رکن رہیں اور کئی برس تک ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی ’’MAGA‘‘ سیاست کی نمایاں حامی سمجھی جاتی تھیں۔ تاہم ۲۰۲۵ء کے آخر میں ٹرمپ سے ان کے تعلقات میں شدید اختلاف پیدا ہوا اور انہوں نے ۵؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو کانگریس سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے اختلافات میں اسرائیل کے لیے امریکی حمایت، خارجہ پالیسی، صحت عامہ اور دیگر معاملات بھی شامل تھے۔ غزہ کے معاملے پر گرین کا مؤقف وقت کے ساتھ مزید سخت ہوا ہے۔ ان کے کانگریس سے رخصت ہونے سے قبل ہی وہ ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھا رہی تھیں اور ’’America First‘‘ کے نام پر بیرون ملک فوجی کارروائیوں اور اخراجات پر اعتراض کرتی رہی تھیں۔ ان کی موجودہ تنقید بھی اسی وسیع تر مؤقف کا حصہ ہے جس میں وہ امریکی حکومت کو بیرون ملک جنگوں پر وسائل خرچ کرنے کے بجائے ملکی مسائل پر توجہ دینے کی وکالت کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان میں یوٹیوب اور سوشل میڈیا سے آمدنی میں تیز رفتاراضافہ

تازہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں فلسطینیوں کی ہلاکتیں جاری ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک ۱۳۴۴؍ فلسطینی ہلاک او ۴۴۶۴؍ زخمی ہوچکے ہیں۔ مجموعی طور پر اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری جنگ میں فلسطینی حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ۷۳۵۰۰؍ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد ۱۷۴۰۰۰؍ سے زیادہ ہے۔ تازہ ترین واقعات بھی گرین کے بیان کے پس منظر کو نمایاں کرتے ہیں۔ ۷؍ ستمبر کو غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مزید ۵؍ فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں ۲؍ بچے شامل تھے۔

یہ بھی پڑھئے:ترکی: غزہ کے بچوں کے حقوق کیلئے ملک گیر مہم،’’ آسمان بچوں کے لیے چھوڑ دو‘‘

غزہ میں جاری صورتحال پر امریکی انتظامیہ کے اندر بھی اختلاف کے اشارے سامنے آئے ہیں۔ امریکی خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر نے ۶؍ ستمبر کو غزہ کے معاملے میں اسرائیلی حکومت کو اندرونی سیاسی دباؤ کے باعث ’’تھوڑا غیر معقول‘‘ قرار دیا اور کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر واشنگٹن کو تشویش ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب اسرائیلی حملوں میں فلسطینی شہریوں، بشمول بچوں، کی ہلاکتیں جاری تھیں۔ گرین اب کانگریس کی رکن نہیں ہیں، لیکن ان کا بیان امریکی دائیں بازو کے اندر اسرائیل کے لیے امریکی حمایت پر بڑھتی بحث کی ایک مثال ہے۔ ان کے سیاسی سفر میں یہ تبدیلی خاص طور پر نمایاں ہے کہ جو لیڈر کبھی ٹرمپ کی سب سے نمایاں حامیوں میں شمار ہوتی تھیں، وہ اب امریکی خارجہ پالیسی اور اسرائیل کے لیے امریکی امداد پر سابق اتحادی صدر سے اختلاف رکھنے والی آوازوں میں شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK