Updated: September 13, 2026, 7:04 PM IST
| New York
مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور اس سے وابستہ ممکنہ خطرات کے درمیان ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بار پھر احتیاط کی آواز بلند ہوئی ہے۔ اے آئی کے سربراہ اور ٹیک ارب پتی ایلون مسک نےاینتھروپک کے چیف ایگزیکٹیو داریو اموڈی کی اس اپیل کی حمایت کی ہے۔
مسک اور اے آئی۔ تصویر:آئی این این
مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور اس سے وابستہ ممکنہ خطرات کے درمیان ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بار پھر احتیاط کی آواز بلند ہوئی ہے۔ اے آئی کے سربراہ اور ٹیک ارب پتی ایلون مسک نےاینتھروپک کے چیف ایگزیکٹیو داریو اموڈی کی اس اپیل کی حمایت کی ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی ترقی کی رفتار کو کچھ حد تک کم کیا جانا چاہیے، تاکہ حفاظتی اقدامات اور نگرانی کے نظام کو ٹیکنالوجی کی رفتار کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا موقع مل سکے۔ مسک نے اموڈی کی تجویز پر مختصر مگر واضح ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’داریو صحیح کہہ رہے ہیں۔‘‘
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اے آئی صنعت کے بڑے اداروں کے اندر بھی اس بات پر تشویش بڑھ رہی ہے کہ طاقتور اور خودکار مصنوعی ذہانت کے نظام انسانوں کی نگرانی سے آگے نکل سکتے ہیں۔ انیتھروپک کے سربراہ داریو اموڈی نے حالیہ دنوں میں کہا کہ اے آئی کی ترقی کو اس رفتار سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے کہ حفاظتی انتظامات اس کے پیچھے رہ جائیں۔ ان کے مطابق جدید اے آئی ایجنٹس مستقبل قریب میں ایسے پیچیدہ کام انجام دینے کے قابل ہو سکتے ہیں جن میں سائبر حملے، خودکار کارروائیاں اور انٹرنیٹ پر بڑے پیمانے پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت شامل ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ریباکینا نے سبالینکا کو شکست دے کر پہلی بار یو ایس اوپن کا تاج اپنے نام کیا
اموڈی نے اے آئی کی ترقی مکمل طور پر روکنے کی اپیل نہیں کی، بلکہ ان کا مؤقف ہے کہ اے آئی ڈیولپمنٹ کو ذمہ دارانہ اور قابلِ نگرانی رفتار سے آگے بڑھایا جائے ۔ ان کی تجویز میں آزاد اور بیرونی ماہرین کو اے آئی کمپنیوں کے نظام کا جائزہ لینے کی اجازت دینا، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان حفاظتی معیارات کے لیے تعاون بڑھانا اور حکومتوں کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر مل کر کام کرنا شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نئی صلاحیتیں بہت تیزی سے سامنے آتی رہیں تو معاشرہ اور حکومتیں ان کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مناسب وقت حاصل نہیں کر پائیں گی۔
مسک کی موجودہ حمایت نے ان کی تقریباً ۱۲؍ سال پرانی اے آئی وارننگ کو بھی دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ۲۰۱۴ء میں، جب مصنوعی ذہانت آج کے مقابلے میں بہت ابتدائی مرحلے میں تھی، مسک نے اے آئی کو انسانیت کے لیے ممکنہ طور پر سب سے بڑا وجودی خطرہ قرار دیا تھا۔ اسی سال ایم آئی ٹی میں ایک گفتگو کے دوران انہوں نے اے آئی کے بارے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ انسان ایسی ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جس کے نتائج پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
۲۰۱۴ء میں مسک نےاے آئی کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ریگولیٹری نگرانی کی ضرورت کی بھی بات کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ایسے قواعد ہونے چاہئیں جو انسانوں کو کسی سنگین غلطی یا غیر متوقع صورتحال سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس وقت ان کے خیالات کو کئی حلقوں میں غیر معمولی اور حد سے زیادہ محتاط تصور کیا گیا تھا، لیکن آج اے آئی کی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافے کے بعد وہی خدشات ایک مرتبہ پھر عالمی ٹیکنالوجی بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے ہندوستان دورے میں باندھا بالی ووڈ کا سماں
مسک نے بعد کے برسوں میں بھی اے آئی کے خطرات پر آواز اٹھائی۔ ۲۰۲۳ء میں وہ ان معروف ٹیک ماہرین اور محققین میں شامل تھے جنہوں نے جدید اور زیادہ طاقتور اے آئی ماڈلز کی تربیت میں عارضی وقفے کی حمایت کرنے والے کھلے خط پر دستخط کیے تھے۔ اس اپیل میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ انتہائی طاقتوراے آئی نظام تیار کرنے کی دوڑ کو کچھ عرصے کے لیے روکا جائے تاکہ حفاظتی ضوابط اور مناسب حفاظتی انتظامات وضع کیے جا سکیں۔ تاہم عملی طور پر اے آئی صنعت نے ترقی کی رفتار کم کرنے کے بجائے بڑے پیمانے پر اپنی کوششیں جاری رکھیں۔
حالیہ صورتحال میں خاص بات یہ ہے کہ اے آئی کی رفتار کم کرنے کی بحث اب صرف بیرونی ناقدین تک محدود نہیں رہی۔ اینتھروپک کے اموڈی کے ساتھ اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین اور ایلون مسک جیسے بڑے نام بھی اے آئی کی تیز رفتار ترقی سے پیدا ہونے والے خطرات پر احتیاط کی ضرورت تسلیم کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آلٹمین نے بھی آزاد حفاظتی جائزہ لینے والوں کو اے آئی کمپنیوں کے نظام تک وسیع رسائی دینے کی تجویز کی حمایت کی ہے۔