Inquilab Logo Happiest Places to Work

غیر مسلم خاتون کی آخری رسوم ادا کرکے مسلم نوجوانوں نے انسانیت کی مثال پیش کی

Updated: August 31, 2026, 12:00 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Malvani

مالونی میں رکشا بندھن والے دن فوت ہونے والی سویتا کمبلے کی لاش شمشان پہنچانے اور چتا کو آگ دینے تک مسلم نوجوان پیش پیش رہے۔

Muslim youths are seen at Savita Kamble`s last rites. Picture: Inquilab
سویتا کمبلے کی آخری رسومات میں مسلم نوجوان نظر آرہےہیں۔ تصویر:انقلاب

ملک کے موجودہ حالات میں جہاں فرقہ پرست طاقتیں اور شرپسند عناصر ہر وقت نفرت اور انتشار پھیلانے میں لگے ہیں وہیں امن وآتشی اور انسانیت میں یقین رکھنے والے امن وبھائی چارہ اور انسانیت کا پیغام پہنچانے کے لئے مسلسل کوشاں ہیں۔ ایسی ہی انسانیت نوازی کی ایک شاندار مثال مالونی میں جن سیوا سمیتی سے تعلق رکھنے والے مسلم نوجوانوں نے سویتا کمبلے نام کی خاتون کی آخری رسوم ادا کرکے پیش کی۔ اس کی چہار جانب ستائش کی جارہی ہے۔موبائل کی مرمت کرنے والے محمد اعظم شاہ نے اس تعلق سے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مہاراشٹر چال (سینٹ پال ہائی اسکول کے بازو) میں سویتا کامبلے(۴۵) عرف بے بی اپنی سہیلی شکھا کے ساتھ رہتی تھی، رکشابندھن کے دن دوپہر کے وقت اس کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہوگیا۔ اس کے والدین پہلے ہی فوت ہوچکے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دوستوں کے ذریعے معلوم ہوا کہ سویتا فوت ہوگئی ہے اور اس کی آخری رسوم ادا کرنے کا مسئلہ ہے تو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ سویتا کی رہائش گاہ پہنچے۔ وہاں کچھ لوگ موجود تھے مگر کوئی آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔ چنانچہ اپنے دوستوں صابر شیخ، بلال پٹھان، عظیم شیخ، شاکر شیخ، مریم شیخ، طارق شیخ ، کلیم شیخ، فیروز انصاری، آصف انصاری، کیبل والا آکاش بھارسکر، دھیرج، سنی، للن اورکانو وغیرہ کو بلایا اور سب نے مل کر آخری رسوم کا انتظام کیا۔ آخری رسوم کے تعلق سے چونکہ ہم لوگوں کو زیادہ علم نہیں تھا اس لئے شمشان گھاٹ پہنچنے والے ہندو بھائیوں نے آخری رسوم انجام دیں اور شکھا نے چتا کو اگنی دی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ۱۰۰؍ سالہ ناکامیوں کے بعد موڈرنا اور مرک کی کینسر ویکسین میں پہلی بڑی کامیابی

اعظم شاہ نے مزید بتایا کہ ہم لوگوں کے سویتا کی آخری رسوم ادا کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے مذہب نے انسانیت اور بھائی چارہ کی تعلیم دی ہے۔ اگر کوئی پریشان حال ہے تو  اس کی مدد کی جائے، ضرورت مند ہے تو اس کی حاجت روائی کی جائے۔ اسی جذبے کے تحت غیر مسلم بہن سویتا کمبلے کی آخری رسوم میں ہمارے سبھی ساتھی اس دن دوپہر کے وقت سے رات میں۱۱؍ بجے تک اپنی خدمات پیش کرتے رہے۔ ہم سب اس کے ذریعے یہ پیغام بھی دینا چاہ رہے تھے کہ سب سے بڑا مذہب انسانیت ہے ، ہمیں انسان ہونے کا حق اور اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہئے، اس لئے بھی کہ بہترین انسان اسی کو کہا گیا ہے جو انسانوں کو نفع پہنچائے اور ان کے کام آئے۔  اس تعلق سے پیغام رسانی میں اجے بارسکر (کیبل والے) نے خصوصی مدد کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK