• Sat, 28 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آگ کو بجھانے پرمسلمانوں کی پزیرائی،’’محبت کے فرشتے ہر آگ بجھاتے رہیں گے‘‘

Updated: February 28, 2026, 10:24 AM IST | Bulandshahr

بلند شہر کے فیصل آبادمیں  جس وقت آگ لگی اس وقت نماز تراویح ہورہی تھی، چیخ و پکار سن کر نمازی مدد کو دوڑے، مسجد کی ٹانکی سے پانی نکال کر آگ بجھائی۔

On the right, a man draws water from a mosque tank with a hose. In the middle, the affected house. Left: The affected person. Photo: INN
دائیں جانب ایک شخص مسجد کی ٹانکی میں نلی لگاکر پانی نکالتے۔ درمیان میں  متاثرہ مکان۔ بائیں : متاثرہ شخص۔ تصویر: آئی این این

شہر کے فیصل آباد نامی علاقے میں جمعرات کی شب میں ایک گھر میں سلنڈر لیٖک ہونے سے بھیانک آگ لگ گئی تھی۔ اس دوران فائربریگیڈ کو پہنچنے میں  تاخیر ہورہی تھی، یہ دیکھ کر مقامی مسلمان فوراً حرکت میں  آئے، اور شعلوں  میں  گھرے مکان کی طرف دوڑے۔ وہاں  پھنسے لوگوں  کو باہر نکالنے کے بعد آگ بجھانے میں  بھی پیش پیش رہے۔ انہوں  نے مسجد کی ٹانکی سے پانی نکالا اور برتنوں میں  بھربھرکر متاثرہ مکان پر پانی کا چھڑکاؤ کیا۔ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا، علاقے کی مسجد میں  تراویح کی نماز ہورہی تھی۔ جیسے ہی چیخ پکارو ہاہاکار مچی، مسجد سے نمازیوں  کی بڑی تعداد متاثرین کی مدد کو دوڑپڑی۔ 
بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ جمعرات کی کی شب محلہ فیصل آباد میں پیش آیا ہے۔ جہاں  کھانا بناتے وقت گھریلو گیس سلنڈر میں آگ لگ گئی۔ اس واقعے سے پورے محلے میں افرا تفری مچ گئی۔ یہ معاملہ سٹی کوتوالی تھانہ علاقے کا بتایا جا رہا ہے۔ آگ لگنے کے باعث گھر میں رکھا سارا سامان جل کر راکھ ہو گیا۔ فائر بریگیڈ کے تاخیر سے پہنچنے کا الزام لگاتے ہوئے مشتعل محلہ مکینوں نے عملے کو موقع سے واپس بھیج دیا۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ فائر بریگیڈ بروقت نہیں پہنچی، جس کی وجہ سے نقصان میں اضافہ ہوا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’این سی ای آر ٹی نصاب پر وزیر اعظم کی ناراضگی محض دکھاوا‘‘

ایک مقامی یوٹیوبر(ناپ تول نیوز) سے بات چیت میں سندیپ نامی شخص نے کہا کہ ’’جس وقت آگ لگی تھی، اس وقت ہمارے مسلم بھائی مسجد میں  تراویح کی نماز پڑھ رہے تھے۔ انہوں  نے تعاون کیا اور آگ بجھانے میں  مدد کی۔ ‘‘ ایک ہندو شخص جس کا مکان جل کر راکھ ہوگیا، اس نے کہا کہ ’’مسلم بھائی نماز پڑھ رہے تھے اور ہمیں  مصیبت میں  دیکھ کر وہ فوراً ہماری مدد کو آگئے۔ ‘‘ اس کے بغل میں  کھڑے ایک تلک دھاری شخص نے کہا کہ ’’یہاں  بھائی چارہ ہے اور یہ بنا رہنا چاہئے۔ جو لوگ ہندو مسلمان کو لڑاتے ہیں، انہیں  دیکھنا چاہئے کہ یہاں  کس طرح لوگ باگ نے مسجد سے پانی نکال نکال کر آگ بجھائی اور ان بھائی صاحب اور انکے گھر والوں  کی جان بچائی، بھائی کے درد میں  یہ لوگ شریک ہوئے، میرے یہ بھائی زندگی بھر نہیں  بھول پائیں  گے۔ ‘‘ اس واقعے کے متعلق سوشل میڈیا پربھی کافی کچھ لکھا جارہا ہے۔ ایک ویڈیو کلپ ایکس(ٹویٹر) پر شیئر کرتے ہوئےدیویندر پال سنگھ نامی صارف نے لکھا کہ ’’لوگوں  کے بیچ آگ لگانے والے چاہے جتنی بھی کوشش کیوں  نہ کرلیں، محبت کے فرشتے ہر آگ بجھاتے رہیں  گے۔ تراویح کی نماز چھوڑکر مسلم بھائیوں  نے بچائی پڑوسیوں  کی جان۔ متاثرہ خاندان نے کہا کہ ہم اس انسانیت کو کبھی نہیں  بھولیں  گے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK