سب سے بڑی تعداد مینارہ مسجد میںہے یہاں معتکفین کی تعداد تقریباً ۹۰؍ہے۔حمیدیہ مسجد، چونا بھٹی ، مسافر خانہ مسجد، سنّی بڑی مسجدمدنپورہ ،عر ب مسجد اوراہل حدیث مساجد میںبھی معتکفین کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔
مالونی انجمن جامع مسجد میں معتکفین نظر آرہے ہیں۔ تصویر:آئی این این
شہر ومضافات کی مساجد میں معتکفین خیمہ زن ہیں۔ اخیرعشرے کا اعتکاف منگل کومغرب کی نماز کے بعد سے شروع ہوگیا ہے۔ ٹرسٹیان نے ان کے نام، آدھار کارڈ اور نمبرات بھی لئے ہیں تاکہ وقت ضرورت پر اہل خانہ کو مطلع کیا جاسکے۔
سب سے بڑی تعداد مینارہ مسجد میںہے یہاں معتکفین کی تعداد تقریباً ۹۰؍ہے جبکہ اخیر میںنفلی اعتکاف کرنےوالو ںکی تعداد میںاوراضافہ ہوجائےگا۔اسی طرح حمیدیہ مسجد، چونا بھٹی ، مسافر خانہ مسجد، سنّی بڑی مسجدمدن پورہ ،عر ب مسجد اوراہل حدیث مساجد میںبھی کئی کئی معتکفین ہیں، ان کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ اب یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ نوجوانوں میںبھی کافی شوق پاریا جارہا ہے اوروہ بھی اعتکاف میںبیٹھ رہےہیں۔
مینارہ مسجد کےٹرسٹی عبدالوہاب مرچنٹ نے نمائندۂ انقلاب کوبتایاکہ’’ ۸۰؍ تا ۱۰۰؍ معتکفین ہیں اوراخیر میںنفلی اعتکاف کےلئے آنےوالوں کے بعد یہ تعداد ڈیڑھ سو تک پہنچ جائے گی۔ان کےلئے پہلی منزل پرنظم کیا گیا ہے ا ورتمام انتظامات کئے گئےہیں تاکہ ان کی عبادت اورآرام میںخلل نہ واقع ہو۔‘‘ سنّی بڑی مسجدمدنپورہ کے خزانچی اقبال شمس الدین نےبتایاکہ’’ معتکفین نے ہدایت کے مطابق پہلے ہی آدھارکارڈ وغیرہ جمع کرادیئے ہیں تاکہ دوران ِ اعتکاف اگرضرورت پڑے توگھروالوں سےرابطہ قائم کیاجاسکے ، دوسرے معتکفین کا خیال رکھتے ہوئے پیشگی انتظامات کئے گئے ہیں۔‘‘عرب مسجد کے ٹرسٹی محمد رفیق انصاری نےبتایاکہ’’ عرب مسجد میںبھی کئی معتفکین ہیں، چونکہ عشاء کی نماز کےبعد صحیح تعداد کااندازہ ہوتا ہے۔اس لئےپہلی منزل پرنظم کیا گیا ہے تاکہ وہ یکسوئی کےساتھ عبادت کرسکیں۔‘‘ مالونی انجمن جامع مسجد کےصدر اجمل خان نے بتایاکہ’’ امسال بالائی منزل پر نظم کیا گیا ہے۔تقریباً ۳۰؍افرادنےاپنے نا م لکھوائے ہیں،اس میں۸۰؍فیصد نوجوان ہیں، ۱۶؍سال سے کم عمر کےنوجوانوں کواجازت نہیں دی گئی ہے۔‘‘
اسی طرح مومن پورہ اہل حدیث مسجد،کرافورڈ مارکیٹ مسافر خانہ مسجد اور دیگر مساجد میںبھی انتظامات کئے گئے ہیںتاکہ کوئی مسجد معتکف سے خالی نہ رہے ۔ کچھ ٹرسٹیان نےیہ بھی بتایاکہ پولیس کی جانب سےبھی ٹرسٹیان سے کہاہےکہ باہرسے آنےوالااعتکاف نہ کرے کیونکہ اگر کبھی کوئی مسئلہ پیدا ہوا توپریشانی نہ ہو۔واضح ہوکہ شہر ومضافات کی تمام مساجد میںمعتکفین کے لئے نظم کیا گیا ہے۔