کانگریس کے بالا صاحب تھورات نے سپریہ سلے کے بیان پر طنز کیا جبکہ وسنت مورے نے این سی پی پر دغابازی کا الزام لگایا
EPAPER
Updated: June 06, 2026, 11:14 PM IST | Ahmednagar
کانگریس کے بالا صاحب تھورات نے سپریہ سلے کے بیان پر طنز کیا جبکہ وسنت مورے نے این سی پی پر دغابازی کا الزام لگایا
ودھان پریشد الیکشن میں مہاوکاس اگھاڑی کے امیدواروںکے آ خری دن پرچہ واپس لینے پر مہایوتی کے ۶؍ امیدوار بلا مقابلہ الیکشن جیت گئے جو کہ مہا وکاس اگھاڑی کیلئے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے۔ اب اس تعلق سے مہا وکاس اگھاڑی میں نوک جھونک شروع ہو گئی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر بالا صاحب تھورات نے اس رویے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے کہ ’’ ہمارے پاس ووٹوں کی تعداد نہیں تھی اس لئے ہم نے نام واپس لے لیا۔‘‘ این سی پی (شرد) کی کارگزار صدر سپریہ سلے نے بھی پونےکے تعلق سے کچھ ایسا ہی بیان دیا ہے جس پر تھورات نے ان پر طنز کیاہے۔
یاد رہے کہ مہا وکاس اگھاڑی امیدواروں نے ناسک اور پونے سیٹ پر بھی پرچہ واپس لے لیا ہے جس پر بالا صاحب تھورات ناراض ہیں۔ کانگریس اور شیوسینا ( ادھو) نے اپنے ان امیدواروں کو پارٹی سے نکال دیا ہے جنہوں نے ودھان پریشد الیکشن کامیدان چھوڑ کر مہایوتی کیلئے راستہ صاف کر دیا لیکن پونے سے نام واپس لینے والے این سی پی (شرد) کے امیدوار شری کانت پاٹل پر اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے بلکہ پارٹی کی کارگزار صدر سپریہ سلے نے اپنے امیدوار کا دفاع کیا ۔ انہوں نے کہا ’’ ودھان پریشد الیکشن میں کوئی رنگت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ لوک سبھا اور ودھان سبھا الیکشن کی طرح اس الیکشن میںجمہوریت کا وہ جوش دکھائی نہیں دے رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا ’’اس میں بڑے پیمانے پر گھوڑ بازاری( امیدواروں کی خرید وفروخت) ہو رہی ہے۔ یہ گھوڑ بازاری ہونے کے آثار دکھائی دے رہے تھے اسی لئےمہا وکاس اگھاڑی نے پونے سے اپنے امیدوار کا نام واپس لے لیا۔ ‘‘ ایک طرح سے سپریہ سلے نے یہ اعتراف کیا کہ پونے سے امیدوار نے اپنا نام ان کی مرضی سے واپس لیا ہے۔
سپریہ سلے کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ کانگریس کے اندر اس رویے کے سبب سخت ناراضگی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر بالا صاحب تھورات نے ناسک میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سپریہ سلے کا نام لئے بغیر کہا ’’ امیدواروں کی دستبرداری کے بعد مہاوکاس اگھاڑی میںناراضگی کا ڈرامہ چل رہا ہے۔ بی جے پی نے جمہوریت کو زیب نہ دینے والا راستہ اختیار کرکے بہت سےامیدواروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے، یہ غیر جمہوری طریقہ ہے۔ لیکن ہمارے درمیان بھی کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ اگر ہمارے پاس ووٹوں کی خاطر خواہ تعداد نہیں ہے تو پھر الیکشن کیوں لڑیں؟‘‘ صرف کانگریس نہیں بلکہ شیوسینا (ادھو) نے بھی اس پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔پارٹی لیڈر وسنت مورے کا کہنا ہے کہ اگر امیدواروں کے نام واپس لینے کے تعلق سے آپس میں گفتگو ہوئی تھی تو اس کا علم ہمیں کیوں نہیں ہے؟ حتیٰ کہ ہمارے سینئر لیڈروں کو بھی اس تعلق سے کچھ نہیں معلوم انہوں نے واضح طور پر الزام لگایا کہ ’’ این سی پی نے ہمارے ساتھ دو بار دغا کی ہے۔ ایک بار میونسپل الیکشن میں اور دوسری بار ودھان پریشد الیکشن میں۔ یہ پوری طرح سیٹنگ (سازباز) کے ذریعے کیا گیا ہے۔‘‘ یاد رہے کہ مہایوتی کے بلامقابلہ منتخب ہونے والے امیدواروں میں سپریہ سلے کے سمدھی ارون لکھانی بھی شامل ہیں۔ اس لئے سپریہ سلے پر زیادہ انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔