مظفرنگر فسادات کے تعلق سے ایم پی ایم ایل اے خصوصی عدالت نے بی جے پی اور ہندوتوا لیڈروں کے خلاف مقدمہ واپس لینے کی اجازت دے دی، یہ ملزمین پابندی کے احکامات کی خلاف ورزی اور فرقہ وارانہ کشیدگی بھڑکانے کے الزام میں مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔
EPAPER
Updated: August 13, 2026, 8:31 PM IST | Muzaffar Nagar
مظفرنگر فسادات کے تعلق سے ایم پی ایم ایل اے خصوصی عدالت نے بی جے پی اور ہندوتوا لیڈروں کے خلاف مقدمہ واپس لینے کی اجازت دے دی، یہ ملزمین پابندی کے احکامات کی خلاف ورزی اور فرقہ وارانہ کشیدگی بھڑکانے کے الزام میں مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔
پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق اتر پردیش کی ایک خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے بدھ کو استغاثہ کی درخواست منظور کر لی جس میں اپیل کی گئی تھی کہ ۲۰۱۳ء کے مظفرنگر فسادات سے متعلق۲۵؍ بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈروں اور ہندوتوا گروہوں سے وابستہ افراد کے خلاف مقدمہ واپس لیا جائے۔ واضح رہے کیہ ستمبر ۲۰۱۳ء میں مظفرنگر میں فرقہ وارانہ تشدد اس وقت بھڑکا جب بی جے پی لیڈروں بشمول سریش رانا، سابق پارٹی ایم ایل اے سنگیت سوم اور سابق ایم پی بھارتیندر سنگھ نے مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقاریر کیں۔اس کے بعد ہونے والے فسادات میں کم از کم۶۰؍ افراد ہلاک اور ہزاروں مسلمان خاندان بے گھر ہو گئے۔ اس کے علاوہ مظفرنگر اور شاملی اضلاع میں جنسی حملوں اور زیادتیوں کی متعدد اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
یاد رہے کہ اس مقدمے میں ملوث ملزمان میں ریاستی وزیر کپل دیو اگروال، سابق مرکزی وزیر سنجیو بالیان اور سابق ریاستی وزیر سریش رانا شامل تھے۔ دیگر میں سابق اتر پردیش وزیر اشوک کٹاریہ، سابق بی جے پی ایم پی بھارتیندر سنگھ اور سوہن ویر سنگھ، سابق بی جے پی ایم ایل اے اشوک کنسل اور امیش ملک، وشو ہندو پریشد کی لیڈر سادھوی پراچی اور ڈاسنا شیو مندر کے نرسنگھانند شامل ہیں۔وشو ہندو پریشد کا تعلق ہندوتوا تنظیموں کے ایک گروپ سے ہے جس کی قیادت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کرتا ہے، جو حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی ذیلی تنظیم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: متھرا شاہی عیدگاہ کے تنازع میں ہندومدعیان کے درمیان شدیداختلاف
استغاثہ افسر راہل سنگھ کے حوالے سے پی ٹی آئی نے بتایا کہ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے۳۱؍ جولائی۲۰۱۳ء کو ضلع میں واقع ناگلا مڈور میں منعقدہ مہاپنچایت میں پابندی کے احکامات کی خلاف ورزی کی، سرکاری ملازمین کے فرائض میں رکاوٹ ڈالی اور تقاریر کے ذریعے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کی۔ تاہم اتر پردیش حکومت کے مقدمہ واپس لینے کے فیصلے کے بعد استغاثہ نے درخواست دی۔علاوہ ازیں فروری میں، اتر پردیش کی ایک عدالت نے۲۰۱۳ء کے مظفرنگر فسادات کے دوران آٹھ افراد کے قتل کے سلسلے میں۳۷؍ افراد کو شواہد کی کمی کی بنیاد پر بری کر دیا تھا۔