امتحانات کے دوران ماؤں کا رویہ اور گھر کا ماحول خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس دوران بچوں کو محبّت آمیز توجہ اور دباؤ سے نمٹنے کیلئے حوصلہ افزاء باتیں درکار ہوتی ہیں۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 2:01 PM IST | Rahmani Kashifa Dr. Irfan Ahmed | Mumbai
امتحانات کے دوران ماؤں کا رویہ اور گھر کا ماحول خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس دوران بچوں کو محبّت آمیز توجہ اور دباؤ سے نمٹنے کیلئے حوصلہ افزاء باتیں درکار ہوتی ہیں۔
رتعلیمی اداروں میں عنقریب امتحانات کے سلسلے کا آغاز ہونے والا ہے۔ ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہمارے بچوں کی تعلیمی کیفیت بہتر ہو اور اس کے لئے ہم حد درجہ محنت و مشقت کرتے ہیں لیکن بہترین کامیابی کے لئے چند اہم باتیں پیش خدمت ہیں:
باقاعدگی سے مطالعہ کی عادت ڈالیں
نئے تعلیمی سال کے ابتدا سے ہی بچوں کو اس بات کی تنبیہ کی جائے کہ روزانہ پڑھائی کریں۔ جو حصہ اساتذہ نے پڑھایا ہے بہت ہی توجہ سے پڑھیں۔ کسی بھی درسی اقتباس کو رٹ کر نہ پڑھیں بلکہ سمجھ کر یاد کرنے کی کوشش کریں۔ اور ضرورت کے مطابق انہیں وقت دیں۔
از خود مشق کرنے کی عادت ڈالیں
والدین، خاص طور پر ماؤں کو چاہئے کہ امتحان کے قبل از وقت ہی اپنی نگرانی میں اسکول ورک مکمل کروائیں۔ بچے بذات خود کام انجام دیں تو نتیجتاً ان کی شخصیت پائیدار ہوتی ہے بصورت دیگر وہ ہر کام کی انجام دہی کے لئے مددگار تلاش کرتے ہیں اور یہ خامی ان کی شخصیت کو مجروح کردیتی ہے۔
وقت کا خیال رکھتے ہوئے باقاعدگی سے اسکول روانہ کریں
عموماً یوں ہوتا ہے کہ کچھ بچے امتحان سے گھبرا کر کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش لیتے ہیں تاکہ اسکول جانے سے بچ سکیں۔ اس صورت حال میں والدین بچوں کی ہمت بڑھائیں۔ غیر معمولی باتوں کو نظر انداز کرکے بچوں کو وقت اور حالات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔
یہ بھی پڑھئے: ایسنشئل آئل استعمال کرتے وقت محتاط رہیں
نمبرات کا دباؤ
امتحانات کے دوران بچوں کا ذہنی دباؤ کم کرنے اور ان کا اعتماد بڑھانے کے لئے والدین اور اساتذہ کو مثبت اور حوصلہ افزاء جملے بولنے چاہئیں۔ یہ جملے بچوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ان کی قدر صرف نمبروں سے نہیں بلکہ ان کی محنت سے ہے۔ انہیں یقین دلائیں کہ وہ امتحانات میں بہتر کرسکتے ہیں۔
گھریلو مسائل سے بچوں کو دور رکھیں
حتی الامکان کوشش کریں کہ گھریلو مسائل سے بچوں کو دور رکھیں۔ اسی عمر میں بچوں کا ذہن پختگی کے مراحل سے گزرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ گھر میں پیدا ہونے والے مسائل انہیں ذہنی تناؤ کا شکار بنا دیتے ہیں۔
پڑھائی کا ماحول بنائیں
بالخصوص امتحان کے ایام میں دیگر سرگرمیوں اور چھوٹے چھوٹے کاموں سے بچوں کو دور رکھیں۔ پڑھائی کے اوقات متعین کریں۔ پُرسکون ماحول فراہم کریں تاکہ بچہ یکسوئی سے پڑھائی کرسکے۔ پڑھائی کے دوران چھوٹے چھوٹے وقفے لینے دیں تاکہ بچہ تازہ دم ہوسکے۔ اس دوران بچوں کو صحت بخش غذائیں دیں۔ مسالے دار اور تلی ہوئی اشیاء کے بجائے تازہ پھل، جوس اور خشک میوہ جات کو ترجیح دیں۔
موازنہ سے بچیں
امتحانات کی تیاری کے دوران بچوں کا دوسرے بچوں کے ساتھ موازنہ نہ کریں کہ دیکھو وہ تو گھنٹوں کو پڑھتا ہے۔ اس قسم کی باتیں بچوں کو ڈسٹرب کرسکتی ہیں۔ ہر بچہ، دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، اس بات کو یاد رکھیں اور اس کے مطابق ان کے ساتھ برتاؤ کریں۔
نقل سے گریز کرنے کی ہدایت دیں
بچوں پر کڑی نظر رکھیں کہ وہ کوئی غیر معیاری سرگرمیاں انجام نہ دیں۔ امتحان ہال میں نقل کی جائے تو ’ضمیر مطمئن نہیں رہتا‘، اس بات کو وقتاً فوقتاً بتا کر بہترین ذہن سازی کریں۔ انہیں بار آور کروائیں کہ صرف پیپر حل کرنا ہی امتحان کا مقصد نہیں ہوتا بلکہ امتحان خود احتسابی کا عمل ہے۔
اگلے پرچہ کی تیاری کرائیں
کچھ بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ جو پرچہ ہوگیا ہو گھر آکر یا پھر اپنے دوستوں سے اسی پر بحث کرتے ہیں یہ ٹھیک ہے مگر بار بار اسی بات کو زیر بحث لانے سے وہ دوسرے مضامین پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتے۔ اس بات کا خیال رکھتے ہوئے انہیں مطمئن کریں اور اگلے پرچہ کے لئے ذہنی طور پر تیار کریں۔
امتحان کے ایام میں سیر و تفریح کو نظر انداز کریں
گھر کے بڑوں کو چاہئے کہ امتحانات کے کچھ روز قبل سے ہی سیر و تفریح اور شادی بیاہ جیسی تقریبات سے بچوں کو دور رکھیں۔ امتحانات کے دوران بچوں کے سامنے ان کا ذکر بھی نہ کریں، اس سے ان کی توجہ پڑھائی سے ہٹ سکتی ہے۔
دین سے قربت
ہمارے بچے ہمارے لئے بہترین سرمایہ ہیں اور ان کیلئے دینی و عصری تعلیم نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ بچوں کو یہ نظریہ واضح کرنا چاہئے کہ جہاں عصری علوم کا حصول ہماری زندگی کا اہم جزو ہے وہیں دینی علوم بھی قدر اہمیت کا حامل ہے۔ اسے پس پشت ڈالنا، بالکل درست نہیں۔ امتحانی ایام میں بھی پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام، تلاوت قرآن پاک اور سنتوں پر عمل کرنا چاہئے اور یہی دراصل دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔