یونیسیف کی خیر سگالی سفیر موزون الملیہان نے ملک کے دورے کے بعد کہا کہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد نازک بحالی کے باوجود شامی بچے تعلیمی و تحفظاتی بحران کا شکار ہیں، جبکہ شہری بے گھر کیمپوں کے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔
EPAPER
Updated: February 23, 2026, 5:05 PM IST | Damascus
یونیسیف کی خیر سگالی سفیر موزون الملیہان نے ملک کے دورے کے بعد کہا کہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد نازک بحالی کے باوجود شامی بچے تعلیمی و تحفظاتی بحران کا شکار ہیں، جبکہ شہری بے گھر کیمپوں کے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔
یونیسیف کی خیرسگالی سفیر موزون الملیہان نے ملک کے حالیہ دورے کے بعد جمعہ کو کہا کہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد نازک بحالی کے باوجود شام کے بچے غریبی، نقل مکانی اور تعلیمی انتشار کا شکار ہیں۔ جنیوا میں لنک کے ذریعے پریس کے دوران انہوں نے امید اور مشکلات دونوں کا ذکر کیا: کمیونٹیز دوبارہ تعمیر ہو رہی ہیں، لیکن لاکھوں بچے اب بھی خطرے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ کاایران پرحملے کیلئے امریکہ کو اپنی زمین دینے سے انکار
تعلیم میں شدید خلا
تقریباً ۲۵؍ لاکھ بچے ابھی بھی اسکول نہیں جا رہے، جبکہ تعلیمی ڈھانچہ تباہ ہونے کی وجہ سے مزید ۱۶؍ لاکھ بچے اسکول چھوڑنے کے خطرے میں ہیں، غربت ہے اور بے گھری کا سامنا ہے۔ ۴۰؍ لاکھ سے زائد شامی شہری داخلی طور پر بے گھر ہیں جو کیمپوں کے باہر رہ رہے ہیں، جبکہ ۱۳؍ لاکھ سے زیادہ لوگ کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔ الملیہان نے کہا، ’’تحفظ کے بغیر بچے سیکھ نہیں سکتے۔ اسکول کے بغیر کوئی مستقبل نہیں ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پابندیاں درکنار، ایک لاکھ افراد نے مسجد اقصیٰ میں تراویح ادا کی
دھماکہ خیز مواد کے باقیات کا خطرہ
الملیہان کے مطابق، دھماکہ خیز مواد کے باقیات (explosive remnants of war) اب بھی ایک بڑا خطرہ ہیں، تقریباً ایک ہزار حادثات رپورٹ ہوئے اور سینکڑوں بچوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ایسے بارودی گولے جو پھٹے نہیں، ان کی موجودگی اب بھی کمیونٹیز، بچوں کی حفاظت اور ان کے تعلیمی تحفظ کیلئے خطرہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ خامنہ ای کو قتل کرنے پر غور کر رہے ہیں؟ رپورٹس میں دعویٰ
سرمایہ کاری کی اپیل
الملیہان نے تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور بنیادی خدمات میں مسلسل بین الاقوامی سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا، اور خبردار کیا کہ فنڈنگ میں کمی پیش رفت کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ملک کو دوبارہ تعمیر کرنے کیلئے نوجوان تیار ہیں لیکن انہیں خیرات کے بجائے مواقع کی ضرورت ہے۔ واضح ہو کہ یہ اپیل اس وقت سامنے آئی ہے جب شام برسوں کے تنازع کے بعد وسیع پیمانے پر تعمیر نو کی ضروریات سے نبرد آزما ہے۔