روہنگیا خواتین کو میانمار کی اراکان آرمی کے ذریعےجنسی تشدد کی بڑھتے واقعات کا سامناکرنا پڑرہا ہے، جس میں عصمت دری، اجتماعی عصمت دری اور تشدد شامل ہیں۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 8:02 PM IST | Naypyidaw
روہنگیا خواتین کو میانمار کی اراکان آرمی کے ذریعےجنسی تشدد کی بڑھتے واقعات کا سامناکرنا پڑرہا ہے، جس میں عصمت دری، اجتماعی عصمت دری اور تشدد شامل ہیں۔
برمنیز روہنگیا آرگنائزیشن یوکے (BROUK) کی۱۴؍ مئی کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، میانمار کی ریاست رخائن میں اراکان آرمی (AA) کے قبضے والے علاقوں میں روہنگیا خواتین اور لڑکیوں کو بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کا سامنا ہے، جس میں عصمت دری، اجتماعی عصمت دری اور تشدد شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پر بے دخلی اور بگڑتے ہوئے انسانی حالات کے درمیان، جنسی تشدد اور جنسی تشدد کی دھمکی کو مسلم اقلیتی نسلی گروہ روہنگیاکے خلاف ایک وسیع نظام کے حصے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اکثریتی بدھ مت والے میانمار میں روہنگیا کے خلاف جنسی تشدد کو طویل عرصے سے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جہاں انہیں۲۰۱۷ء کی نسل کشی سمیت کئی دہائیوں پر محیط تشدد کا سامنا رہا ہے۔تقریباً ایک دہائی بعد بھی کوئی احتساب نہیں ہوا، جبکہ روہنگیا برادریاں میانمار کی فوج اور اراکان آرمی دونوں کی طرف سے منظم ظلم و ستم، امتیازی سلوک، شہریت سے انکار اور سخت پابندیوں کا سامنا کرتی رہتی ہیں۔بعد ازاں خانہ جنگی کے دوران جنسی تشدد بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے اور یہ انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور نسل کشی کےزمرے میں شمار ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لبنان: جنگ بندی کے باوجود گزشتہ ۷؍دن میں کم از کم۵۹؍بچے ہلاک
ذہن نشین رہے کہ یانگ سوچی کے حکومت کا تختہ پلٹنے کے بعد حکومت میں آئی فوجی حکومت جنتا کے خلاف میانمار کے متعدد گروہ مسلح بغاوت کر رہے ہیں، جن کے اپنے اپنے مقبوضہ علاقے ہیں جہاں وہ مقامی روہنگیاؤں پر ظلم کر رہے ہیں،حیرت کی بات ہے کہ یہ گروہ فوج کے ساتھ باہم بھی متصادم ہیں، جس کی وجہ نسلی امتیاز ہے۔ ان مظالم کا شکار ۸؍ لاکھ کے قریب روہنگیا ہجرت کرکے بنگلہ دیش اور ہندوستان پہنچے۔ جبکہ جو میانمار میں رہ گئے انہیں متعدد باغی گروہ کی جانب سے تشدد کا سامنا ہے۔