Inquilab Logo Happiest Places to Work

بلیک آؤٹس، مظاہروں اور ٹرمپ کے دباؤ کے درمیان کیوبا ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کیلئے تیاری میں مصروف

Updated: May 16, 2026, 5:01 PM IST | Washington/Havana

ٹرمپ انتظامیہ نے عوامی سطح پر کیوبا کو ۱۰۰ ملین ڈالر کی انسانی امداد اور مفت سیٹیلائٹ انٹرنیٹ کی پیشکش کی ہے۔ تاہم، اس کیلئے شرط ہے کہ ہوانا وسیع پیمانے پر سیاسی اور سرمایہ دارانہ نظام پر مبنی اصلاحات نافذ کرے۔ امریکی حکام نے کیوبا کے لیڈران کو خبردار کیا کہ ”وقت نکلنے سے پہلے معاہدہ کرلیں۔“

Photo: X
تصویر: ایکس

کیوبا اور امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے کوئی ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں جس کے بعد لاطینی امریکی ملک، امریکہ کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کیلئے تیاریاں کر رہا ہے۔ امریکی اخبار ’دی ہل‘ (The Hill) کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں، امریکہ میں متعین کیوبا کی سفیر لیانیس ٹوریس ریویرا نے بتایا کہ امریکی ناکہ بندی کے باعث بڑھتی ہوئی کشیدگی اور معاشی دباؤ کے درمیان ملک ”اب پہلے سے کہیں زیادہ“ اپنا دفاع کرنے کی تیاری کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران نے امریکی پابندیوں کے باوجود ہندوستان پر چابہار میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کیلئے زور دیا

ریویرا نے مزید کہا کہ کیوبا کیلئے اگلے ۲۴ گھنٹے انتہائی نازک ہیں۔ ایندھن کی قلت کی وجہ سے کچھ علاقوں میں ۲۰ گھنٹوں تک بجلی میسر نہ ہونے کے بعد مظاہرین سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ وہ اس بے چینی کو ہتھیار ڈالنے یا کمزور عزم سے تعبیر نہ کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب وہ ۲۰ گھنٹے کے بلیک آؤٹ برداشت کر رہے ہیں، تو ان کے پاس شکایات ہیں اور وہ ان کا اظہار کرتے ہیں۔“ ممکنہ حملے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ”ہم اس کیلئے تیاری کر رہے ہیں۔ ہم نادان نہیں بن سکتے۔“

ریویرا نے اس بات پر زور دیا کہ کیوبا امریکی علاقے یا شہریوں کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی کی تیاری نہیں کر رہا ہے بلکہ اس کی تمام تر توجہ اپنے دفاع پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ ایک خونی کھیل ہو سکتا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ کیوبا میں ہمارے شہری مارے جائیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ کیوبا یہ بھی نہیں چاہتا کہ ”کوئی بھی امریکی فوجی“ ہلاک ہو۔

یہ بھی پڑھئے: جرمن چانسلر مرز کا بیان: میں اپنے بچوں کو امریکہ میں پڑھنے یا کام کرنے کا مشورہ نہیں دوں گا

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس سال کے شروع میں کیوبا پر ”دوستانہ قبضہ “ کی تجویز پیش کی تھی۔ فروری ۲۰۲۶ء میں ٹرمپ نے کیوبا کو ”ناکام ملک“ قرار دیا تھا جبکہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کیوبا کی حکومت کو ”نااہل“ کہا تھا۔ روبیو نے کہا تھا کہ واشنگٹن ”اپنے ساحلوں سے ۹۰ میل دور ایک ناکام ریاست“ کے بجائے ”خوشحال کیوبا“ دیکھنا چاہتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے عوامی سطح پر کیوبا کو ۱۰۰ ملین ڈالر کی انسانی امداد اور مفت سیٹیلائٹ انٹرنیٹ کی پیشکش کی ہے۔ تاہم، اس کیلئے شرط ہے کہ ہوانا وسیع پیمانے پر سیاسی اور آزاد بازار (فری مارکیٹ) جیسی سرمایہ دارانہ نظام پر مبنی اصلاحات نافذ کرے۔ امریکی حکام نے کیوبا کے لیڈران کو خبردار کیا کہ ”وقت نکلنے سے پہلے معاہدہ کرلیں۔“

یہ بھی پڑھئے: سی آئی اے چیف کا دورہ ہوانا، کیوبا کا امریکہ کی۱۰۰؍ ملین ڈالرامدادی پیشکش پرغور

سی بی ایس نیوز (CBS News) کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ ۱۹۹۶ء میں طیارے گرائے جانے کے واقعے سے منسلک کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو کے خلاف ممکنہ الزامات تیار کر رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں، کیوبا نے محدود معاشی اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جن میں بیرونِ ملک رہنے والے کیوبن شہریوں کو ملک کے اندر سرمایہ کاری کرنے اور کاروبار کھولنے کی اجازت دینا شامل ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ء میں، کیوبا کے نائب وزیرِ خارجہ کارلوس فرنانڈیز ڈی کوسیو نے تصدیق کی تھی کہ ملک ”فوجی جارحیت کے امکان“ کیلئے تیاری کر رہا ہے۔ کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے بھی کہا ہے کہ حکومت نے ممکنہ حملے کی تیاری میں دفاعی مشقیں شروع کر دی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK