Inquilab Logo Happiest Places to Work

میانمار ۱۱؍ ہزار قیراط کا نایاب روبی دریافت، دنیا کے قیمتی ترین پتھروں میں شامل

Updated: May 11, 2026, 9:59 PM IST | Naypyidaw

میانمار میں کان کنوں نے ۱۱؍ ہزار قیراط وزنی ایک نایاب اور بڑا روبی دریافت کیا ہے جسے ملک کی تاریخ کے سب سے قیمتی جواہرات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تقریباً پانچ پاؤنڈ وزنی یہ روبی موگوک کے علاقے سے ملا، جو دنیا بھر میں اعلیٰ معیار کے یاقوت کے لیے مشہور ہے۔

Photo : X
تسویر : ایکس

میانمار میں کان کنوں نے ایک انتہائی نایاب اور بڑا روبی دریافت کیا ہے جسے ماہرین ملک کی تاریخ کے اہم ترین قیمتی پتھروں میں شمار کر رہے ہیں۔ ملک کے سرکاری اخبار گلوبل نیو لائٹ آف میانمار کے مطابق ۱۱؍ ہزار قیراط وزنی یہ روبی اپریل میں موگوک کے قریب ایک کان سے دریافت کیا گیا۔ تقریباً پانچ پاؤنڈ وزنی یہ قیمتی پتھر بعد ازاں دارالحکومت نیپیداو میں میانمار کے سربراہ من اونگ ہلینگ کے دفتر میں پیش کیا گیا، جہاں اس کی تصاویر بھی جاری کی گئیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ روبی ملک میں اب تک دریافت ہونے والا دوسرا سب سے بڑا یاقوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے : ایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیر سمندر انٹرنیٹ کیبل پر مکمل کنٹرول پرغور

اس سے قبل ۱۹۹۶ء میں میانمار میں ۲۱۴۵۰؍ قیراط وزنی ایک دیوقامت روبی دریافت ہوا تھا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ پتھر اپنے اعلیٰ معیار، گہرے رنگ اور شفافیت کی وجہ سے ممکنہ طور پر زیادہ قیمتی ثابت ہو سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس روبی کی سطح انتہائی چمکدار اور عکاس ہے، جبکہ اس کا رنگ گہرا سرخ ہونے کے باعث اسے غیر معمولی درجہ دیا جا رہا ہے۔ ماہرین جواہرات کے مطابق اعلیٰ معیار کے روبی کی قیمت کا انحصار اس کے رنگ، شفافیت اور اندرونی ساخت پر ہوتا ہے، اور نئے دریافت شدہ پتھر میں یہ تمام خصوصیات نمایاں طور پر موجود ہیں۔ یہ دریافت میانمار کے موگوک علاقے میں ہوئی، جسے دنیا بھر میں ’’وادیِ روبی‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

موگوک صدیوں سے قیمتی پتھروں، خصوصاً روبی، نیلم اور جیڈ کے ذخائر کے لیے عالمی شہرت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کے تقریباً ۹۰؍ فیصد قدرتی روبی میانمار سے حاصل ہوتے ہیں، جن میں سے اکثریت موگوک کے پہاڑی علاقوں سے نکالی جاتی ہے۔ قیمتی پتھروں کی صنعت میانمار کی معیشت کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے، اگرچہ اس شعبے کو تنازعات، غیر قانونی کان کنی اور اسمگلنگ جیسے مسائل کا بھی سامنا رہا ہے۔ یہ دریافت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب میانمار سیاسی اور عسکری بحرانوں سے گزر رہا ہے، جبکہ کئی معدنی علاقوں میں مسلح جھڑپیں بھی جاری ہیں۔

اس کے باوجود جواہرات کی صنعت ملک کے لیے غیر ملکی زرِمبادلہ کا بڑا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس روبی کی بین الاقوامی سطح پر نیلامی کی گئی تو یہ دنیا کے مہنگے ترین قیمتی پتھروں میں شامل ہو سکتا ہے۔ فی الحال حکام نے اس پتھر کی ممکنہ مالیت ظاہر نہیں کی، تاہم جواہرات کی عالمی منڈی میں اس دریافت نے غیر معمولی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK