Inquilab Logo Happiest Places to Work

’حب الوطنی کو لازمی اطاعت تک محدود نہیں کرسکتے‘: ناگالینڈچرچ کونسل کی ’وندےماترم‘ کی ہدایت کی مخالفت

Updated: August 14, 2026, 10:04 PM IST | Kohima

ناگالینڈ میں گرجا گھروں کی ایک کونسل نے دلیل دی کہ ہندوستان کا آئینی ڈھانچہ آزادی، مساوات، کثرت پسندی اور ضمیر کی آزادی پر قائم ہے۔ کونسل نے مزید کہا کہ قومی یکجہتی کو یکسانیت کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ کسی شہری کی ملک سے محبت کو صرف کسی مقرر کردہ حب الوطنی کے اظہار میں شرکت کے ذریعے نہیں ناپا جا سکتا۔ کونسل نے زور دیا کہ عقائد، ثقافتوں، زبانوں اور روایات کا بھارت کا تنوع ملک کی ایک بنیادی پہچان ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ناگالینڈ میں گرجا گھروں کی ایک کونسل نے بیان جاری کرکے ’وندے ماترم‘ کے گانے کو لازمی قرار دینے والی کسی بھی ہدایت یا عمل کی خاص طور پر، مسیحی برادری کے ارکان کیلئے، مخالفت کرنے کا اعلان کیا اور زور دیا کہ ”حب الوطنی کو کبھی بھی لازمی اطاعت تک محدود نہیں کیا جانا چاہئے۔“

یہ بھی پڑھئے: یوپی الیکشن : خواتین کو ’’بڑی رشوت ‘‘ دینے کی تیاری ، ۵۰؍ ہزار دئیے جاسکتے ہیں!

جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں، ناگالینڈ باپٹسٹ چرچ کونسل (NBCC) کے جنرل سیکریٹری ریورنڈ ڈاکٹر مار پونگینر اور سماجی امور کے سیکریٹری ڈاکٹر ولو نالے نے کہا کہ یہ ادارہ ہندوستان کی قومی علامتوں، حب الوطنی کے جذبات اور آئینی اقدار کا مکمل احترام کرتا ہے۔ تاہم، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ عقیدے، مذہبی یقین، ضمیر اور شناخت سے جڑے معاملات میں حساسیت اور احترام کی ضرورت ہوتی ہے۔

چرچ باڈی نے دلیل دی کہ ہندوستان کا آئینی ڈھانچہ آزادی، مساوات، کثرت پسندی اور ضمیر کی آزادی پر قائم ہے۔ کونسل نے مزید کہا کہ قومی یکجہتی کو یکسانیت کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ کسی شہری کی ملک سے محبت کو صرف کسی مقرر کردہ حب الوطنی کے اظہار میں شرکت کے ذریعے نہیں ناپا جا سکتا۔ کونسل نے زور دیا کہ عقائد، ثقافتوں، زبانوں اور روایات کا بھارت کا تنوع ملک کی ایک بنیادی پہچان ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر پر چہرہ شناسی کی ٹیکنالوجی استعمال کئے جانےکیخلاف عدالت میں عرضی

کونسل نے ریاست اور عوامی اداروں پر زور دیا کہ جب قومی علامتیں مختلف برادریوں کیلئے مختلف معانی رکھتی ہوں تو وہ ضبط اور حساسیت کا مظاہرہ کریں۔ کونسل نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے پرامن رہنے کی اپیل کی، نیز دشمنی، دھمکیوں اور ایسے اقدامات سے خبردار کیا جو سماجی یا فرقہ وارانہ تقسیم کو گہرا کرسکتے ہیں۔ اس نے کہا کہ ”جبر ظاہری پابندی تو پیدا کر سکتا ہے لیکن حقیقی وفاداری، یقین یا اپنائیت کا احساس پیدا نہیں کرسکتا۔“ کونسل نے اس کے بجائے بات چیت، باہمی افہام و تفہیم اور ضمیر کی بنیاد پر اختلاف کے احترام کا مطالبہ کیا اور حکومت، تعلیمی اداروں، طلبہ تنظیموں، گرجا گھروں، سول سوسائٹی گروپس اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کو ”حکمت، ضبط اور آئینی حساسیت“ کے ساتھ حل کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK