Updated: August 14, 2026, 12:28 PM IST
| New Delhi
رکن پارلیمنٹ اے اے رحیم نےعرضی میں دہلی پولیس پر الزام لگایا کہ مظاہرین کو پہچاننے کیلئے یہ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی اور ڈیٹا نجی کمپنیوں کے پاس محفوظ کیاگیا۔
دہلی میںجنتر منتر پر جین زی کے احتجاج نے پولیس اورفورسیزکے ہوش ٹھکانے لگا دئیے تھے۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ نے جنتر منتر پر طلبہ کے حالیہ احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے ذریعے مبینہ فیشل رکگنیشن (چہرہ شناسی)ٹیکنالوجی اور دیگر بائیو میٹرک نگرانی کے ذرائع استعمال کیے جانے کے خلاف داخل کردہ درخواست پر غور کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ درخواست راجیہ سبھا میں سی پی ایم کے رکن پارلیمنٹ اے اے رحیم نے دائر کی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بینچ نے معاملے کو اسی نوعیت کی زیر التوا دیگر درخواستوں کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت دی ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ مینکا گروسوامی نے عدالت میں دلائل پیش کئے۔ ای ٹی وی بھارت کی رپورٹ کے مطابق سماعت کے دوران وکیل نے عدالت کی توجہ بنیادی طور پر دو امور کی جانب مبذول کرائی۔
پہلا مسئلہ احتجاج میں شریک افراد کی مبینہ چہرہ شناسی اور دوسرا ان کے بارے میں جمع کیے جانے والے ڈیٹا کو نجی کمپنیوں کے پاس رکھے جانے سے متعلق ہے۔ مینکا گروسوامی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے افراد کی شناخت کیلئے مذکورہ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی اور حاصل شدہ ڈیٹا نجی اداروں کے پاس موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کا ڈیٹا ان کی اجازت کے بغیر جمع کرنا اور اسے نجی کمپنیوں کے ذریعے محفوظ رکھنا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن قانون، اس سے متعلق قواعد اور فوجداری طریقۂ کار سمیت مختلف قانونی تقاضوں سے متصادم ہوسکتا ہے۔
واضح رہےکہ دہلی پولیس نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ جنتر منتر پر چہرہ ٹیکنالوجی کا استعمال عام لوگوں کی جاسوسی کے لیے نہیں بلکہ قانون و انتظام برقرار رکھنے اور ایسے افراد کی شناخت کے لیے کیا جارہا ہے جو پہلے سے پولیس کے ریکارڈ میں مطلوب یا جرائم میں ملوث قرار دیے گئے ہیں۔