Inquilab Logo Happiest Places to Work

وی ایچ پی کے ہنگامے کے بعد سردار پٹیل ودیالیہ میں پروفیسر زویاحسن کا خطاب منسوخ

Updated: August 14, 2026, 10:04 PM IST | New Delhi

دہلی میں وی ایچ پی کے ہنگامے کے بعد سردار پٹیل ودیالیہ میں جواہر لال یونیورسٹی کی پروفیسر زویا حسن کا یوم آزادی کے موقع پر اجتماعیت پر مبنی خطاب آخری وقت میں منسوخ کردیا گیا،ذرائع کے مطابق، پولیس اسکول کی حدود میں داخل ہوئی اور پرنسپل اور انتظامیہ سے کہا کہ انہیں یہ پروگرام منسوخ کرنا ہوگا کیونکہ اس سے پروفیسر حسن کی سلامتی کو خطرہ ہوگا۔

Professor Zoya Hassan of Jawaharlal Nehru University. Photo: INN
جواہر لال یونیورسٹی کی پروفیسر زویا حسن۔ تصویر: آئی این این

دہلی میں وی ایچ پی کے ہنگامے کے بعد سردار پٹیل ودیالیہ میں جواہر لال یونیورسٹی کی پروفیسر زویا حسن کا یوم آزادی کے موقع پر اجتماعیت پر مبنی خطاب آخری وقت میں منسوخ کردیا گیا،ذرائع کے مطابق، پولیس اسکول کی حدود میں داخل ہوئی اور پرنسپل اور انتظامیہ سے کہا کہ انہیں یہ پروگرام منسوخ کرنا ہوگا کیونکہ اس سے پروفیسر حسن کی سلامتی کو خطرہ ہوگا۔ اس تعلق سے زویا حسن نے بتایا کہ انہیں یہ تقریب کا دعوت نامہ ڈیڑھ ماہ قبل موصول ہوا تھا، اور انہوں نے اسے بخوشی قبول بھی کر لیا تھامگر انہیں حیرت ہوئی کہ اسکول کے سیکورٹی انچارج اور ایک سینئر استاد نے معذرت خواہانہ انداز میں اطلاع دی کہ بطور مہمانِ خصوصی ان کی کثرتیت پر مبنی گفتگو منسوخ کر دی گئی ہے۔ یہ معافی کسی لاجسٹک یا تکنیکی خرابی کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ اس کی وجہ ای ایچ پی کے غنڈوں کا ہنگامہ تھا جنہوں نے ۱۹۵۸ءمیں گجرات ایجوکیشن سوسائٹی کے زیرِ انتظام اس اسکول کے باہر احتجاج کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ساورکر پر تبصرہ: سپریم کورٹ نے راہل گاندھی کے خلاف فوجداری شکایت خارج کردی

حسن نے خبر رساں ادارے ’’دی وائر‘‘سے تصدیق کی ۔دریں اثنا، ذرائع نے دی وائر کو بتایا کہ کم از کم۱۰؍ سے ۱۵؍ وی ایچ پی غنڈے اسکول کے باہر جمع ہوئے اور حسن کی گفتگو منسوخ کرنے کے نعرے لگائے۔ جلد ہی پولیس اسکول کی حدود میں داخل ہوئی اور پرنسپل اور انتظامیہ سے کہا کہ انہیں یہ پروگرام منسوخ کرنا ہوگا کیونکہ اس سے پروفیسر حسن کی سلامتی کو خطرہ ہوگا۔ پرنسپل اور اساتذہ نے انہیں سمجھایا کہ اگر پولیس کو خطرہ محسوس ہوتا ہے تو وہ خود انہیں اسکول لانے اور پروگرام کو بحفاظت جاری رکھنے کا انتظام کریں، مگر پولیس نے ان درخواستوں کے باوجود اصرار کیا کہ اگر کچھ ہوا تو ذمہ داری اسکول کی ہوگی، جس پر ایس پی وی کے پاس گفتگو منسوخ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔  بعد ازاں متعدد سابق طلبہ، شہریوں اور صحافیوں نے سوشل میڈیا پر اس واقعے کی مذمت کی۔توسیعی ماہرِ معاشیات اور یونیورسٹی آف میساچوسٹس ایمہرسٹ کی پروفیسر جیاتی گھوش نے پورے واقعے پر اہم سوالات اٹھائے۔ انہوں نے دی وائر کو بتایا، ’’پولیس کس نے بلائی؟ اچانک اتنی بڑی تعداد میں پولیس کیسے آگئی؟ جو مظاہرین سے کہیں زیادہ تھی۔ میرے خیال میں نکتہ یہ ہے کہ دہلی پولیس، جو براہِ راست مرکزی وزارتِ داخلہ کے ماتحت ہے، کثرتیت جیسے موضوع کو بھی اتنا خطرناک کیوں سمجھتی ہے ۔ خاص طور پر جب پروفیسر حسن اپنی متوازن اور جدید فکر کے لیے جانی جاتی ہیں، جس میں وہ دلائل کے دونوں پہلوؤں کو پرکھ کر نتیجہ اخذ کرتی ہیں۔‘‘ بعد ازاں تقریب گجرات ایجوکیشن سوسائٹی (جی ای ایس) کی صدر اور اسکول کی سابق طالبہ شویتا کلیان والا کی زیرِ صدارت جاری رہی، جس میں طلبہ نے پنڈت برج نارائن چکبست کی مشہور نظم ’’خاکِ ہند‘‘ پیش کیا، جس کا آغاز معروف سطر ’’اے خاکِ ہند تیری عظمت میں کیا گماں ہے‘‘ سے ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی الیکشن : خواتین کو ’’بڑی رشوت ‘‘ دینے کی تیاری ، ۵۰؍ ہزار دئیے جاسکتے ہیں!

واضح رہے کہ اکتوبر۲۰۲۲ء میں، ایس پی وی کے۲۳۷؍ سابق طلبہ نے اسکول کی پرنسپل اور گجرات ایجوکیشن سوسائٹی کو خط لکھ کر اس فیصلے کی مخالفت کی تھی کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی جینتی کی تقریب میں مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا جائے۔ خط میں سابق طلبہ نے استدلال کیا کہ شاہ کی موجودگی اسکول کے آئینی اقدار، کثرتیت، جمہوری بحث اور اختلافِ رائے کے عزم کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی قطبی بندی، نفرت اور تشدد کے وقت کسی سینئر سیاسی شخصیت کو مدعو کرنا ایس پی وی کے طلبہ میں پیدا کردہ اخلاقیات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ایک اور سابق طالبہ نے دی وائر کو بتایا، "ہم سابق طلبہ ہمیشہ ایسی صورتوں میں آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ اگر اسکول پروفیسر حسن کے ساتھ کھڑا ہے تو اسے عوامی طور پر معافی مانگنی چاہیے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK