Updated: August 14, 2026, 10:05 PM IST
| New Delhi
سابق مرکزی وزیر اور سینئر صحافی ایم جے اکبر نے سوال اٹھایا کہ کیا اسلام حقیقت پسندانہ طور پر ایک جدید قومی ریاست کی بنیاد بن سکتا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ ”اگر اسلام قوم پرستی کی بنیاد کیلئے کافی ہوتا تو عرب ممالک کی تعداد ۲۲ کیوں ہوتی؟“ انہوں نے مشترکہ مذہب ہونے کے باوجود افغانستان سے پاکستان کی الگ قومی شناخت کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”اسلام پاکستان کے اندرونی اتحاد کی بنیاد نہیں بن سکتا۔“
سابق مرکزی وزیر اور سینئر صحافی ایم جے اکبر نے بیان دیا ہے کہ پاکستان کا بنیادی نظریہ، جو اس یقین پر قائم تھا کہ اسلام قوم پرستی کی بنیاد کے طور پر کام کر سکتا ہے، قومی یکجہتی قائم کرنے میں ناکام رہا ہے اور اب ملک کی اندرونی تفریق کا سبب بن رہا ہے۔
’نیٹ اسٹریٹ کنورسیشنز‘ (NatStrat Conversations) پوڈکاسٹ پر پنکج سرن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اکبر نے دلیل دی کہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ وہاں کے عوام نہیں بلکہ وہ نظریاتی بنیاد ہے جس پر یہ ملک قائم کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات کی نشان دہی کی کہ ملک کی بنیاد خود کو بقیہ ہندوستان سے الگ شناخت دینے پر رکھی گئی تھی، جہاں مذہب اس منصوبے کا مرکزی جزو بن گیا۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان، سعودی اور ترکی کا دفاعی معاہدہ ایران کیخلاف نہیں ہے: حاقان فیدان
”ٹنڈر باکس: دی پاسٹ اینڈ فیوچر آف پاکستان“ سمیت ۱۲ کتابوں کے مصنف اکبر نے سوال اٹھایا کہ کیا اسلام حقیقت پسندانہ طور پر ایک جدید قومی ریاست کی بنیاد بن سکتا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ ”اگر اسلام قوم پرستی کی بنیاد کیلئے کافی ہوتا تو عرب ممالک کی تعداد ۲۲ کیوں ہوتی؟“ انہوں نے مشترکہ مذہب ہونے کے باوجود افغانستان سے پاکستان کی الگ قومی شناخت کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”اسلام پاکستان کے اندرونی اتحاد کی بنیاد نہیں بن سکتا۔“
اکبر نے اس نظریاتی ناکامی کو پاکستان کے بڑھتے ہوئے اندرونی انتشار سے جوڑا، بالخصوص بلوچستان میں، جہاں ان کے مطابق غربت اور سیاسی بیگانگی نے اسلام آباد کے خلاف ناراضگی کو ہوا دی ہے۔ پاکستانی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں غربت کی شرح ۴۳ فیصد ہے، سندھ اور خیبر پختونخوا میں بھی اسی طرح کی بلند شرح پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”آپ نے جو کچھ بنایا ہے وہ ملک کے اندر غلامی کے علاقے ہیں۔“ انہوں نے پاکستان کو ”منقسم اور مٹتے ہوئے جغرافیے“ کے طور پر بیان کیا جہاں وسائل ایک طاقتور فوجی اور سیاسی اشرافیہ تک محدود ہیں۔ انہوں نے اسے ”کشکول والا ملک“ (a begging bowl country) قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: عمران خان فوت، ایک صحافی کا دھماکہ خیز دعویٰ، غیر یقینی صورتحال برقرار
اکبر نے فعال جمہوری اداروں کے متبادل کے طور پر بار بار فوجی آمریت پر پاکستان کے انحصار پر بھی تنقید کی اور موجودہ سیٹ اپ کو ”ایک ناکام سرکس کا طاقتور کردار“ قرار دیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اسے گہری معاشی اور سیاسی کمزوریوں کے باوجود اسٹریٹجک اہمیت ظاہر کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ پوڈکاسٹ کے دوران انہوں نے پاکستان کو ”ناکام ریاست“ اور ”گرتی ہوئی ریاست“ قرار دیا۔
اکبر نے اس تصور کو مسترد کر دیا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں حقیقی بحالی کا اشارہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ملک کی طاقت کا اندازہ اس کی معیشت اور طرزِ حکمرانی سے لگایا جانا چاہئے، نہ کہ اس کو ملنے والی بین الاقوامی توجہ سے۔ انہوں نے کہا کہ ”پاکستان دراصل ایک جدید سوڈان سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔“ انہوں نے دلیل دی کہ اگرچہ حکومتیں موجود ہیں، لیکن ملک پر مؤثر کنٹرول محدود ہی رہتا ہے۔