• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیلی بھیت کی انتخابی فہرست میں ۱۳؍ ہزارووٹرس کے نام تبدیل

Updated: October 22, 2026, 1:40 PM IST | Agency | Luckhnow

اکثریت مسلمانوں کی، ایپک نمبر وہی ہے مگر ووٹر کا نام بدل دیاگیا، کانگریس نے اسے ’’کسی کو بھی ہرانےا ور کسی کوبھی جتانے کے الیکشن کمیشن کے نظام‘‘کا حصہ قرار دیا۔

Supriya Shrinate displaying evidence. Alongside her (on the left) are Rajendra Pal Gautam, the UP Congress in-charge, and President Aradhana Mishra. Photo: INN
سپریہ شرینیت ثبوت دکھاتے ہوئے۔ ان کے ساتھ (بائیں) یوپی کانگریس کے انچارج راجندر پال گوتم اور صدر ارادھنا مشرا۔ تصویر: آئی این این

اتر پردیش کانگریس نے بدھ ( ۲۱؍ اکتوبر)کو پیلی بھیت صدر اسمبلی حلقے میں ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر گڑبڑی کے ثبوت پیش کرتےہوئے دعویٰ کیا کہ۱۳؍ ہزار ۱۵۰؍ ووٹروں کے نام تبدیل کردیئے گئے جبکہ ان کےانتخابی کارڈ (الیکٹورل فوٹو آئیڈنٹٹی کارڈ جسے عرف عام میں ایپک نمبر کہا جاتاہے)وہی رہے۔

الیکشن کمیشن کا’’کسی کو بھی جتانے کانظام‘‘

لکھنؤ میں یوپی کانگریس کمیٹی کے صدر دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتر پردیش کیلئے پارٹی کے انچارج راجندر پال گوتم نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے ایسا نظام تیار کیا ہے جس کے ذریعے ’’کسی کو بھی ہرایا اور کسی کو بھی جتایا جاسکتا ہے۔‘‘انہوں نے بتایاکہ ایس آئی آر کے تحت حتمی ووٹر لسٹ ۱۰؍اپریل۲۶ءکو شائع ہوئی مگر اس  کے بعد جولائی سے ستمبر کے درمیان ووٹرس کی تفصیلات میں تبدیلیاں کی گئیں۔گوتم نے کہا کہ ’’کوئی بھی ووٹر فائنل لسٹ میں اپنا نام، پتہ، ای پی آئی سی نمبر اور سلسلہ وار نمبر دیکھ کر مطمئن ہوجاتاہے کہ اس کا ووٹ محفوظ ہے لیکن  بعد میں اس کا نام اگرتبدیل کردیا جائے تو پولنگ کے دن اسے بتایا جائےگا کہ اس کا نام موجود نہیں ہے۔اس کے پاس ووٹر شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات موجود ہوں گے مگر وہ ووٹ نہیں دے سکےگا۔‘‘

نام کاٹنےا ور جوڑنے کا بھی کھیل

انہوں نے بتایا کہ پیلی بھیت صدر حلقے میں ۱۳؍ ہزار۱۵۰؍  ووٹرس  کے نام بدل دینے کے علاوہ فائنل لسٹ  میں آنے کے بعد ۸۸۴؍ ووٹرس کے نام حذف کردیئےگئے جبکہ وہ اب بھی اسی علاقے میں مقیم ہیں۔اس کے برخلاف ۲۶۰۰؍ ایسے افراد کے نام شامل کئےگئے جو مبینہ طور پر اس علاقے کےنہیں  ہیں۔ انہوں نے کہاکہ  اس طرح مجموعی طور پر۱۶؍ ہزار ۵۵۴؍ ووٹوں سے متعلق گڑبڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کانگریس کارکن  ایسے معاملات کی بوتھ وار فہرستیں تیار کررہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی طرح کی بے ضابطگیاں دیگر اسمبلی حلقوں میں بھی ہوسکتی ہیں۔

 ووٹنگ سےمحروم کرنے کی سازش

اتر پردیش کانگریس کی صدر آرادھنا مشرا ’مونا‘ نے  اسے سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے تشویش ظاہر کی کہ یہ ووٹر شناختی کارڈ ہونے کے باوجود لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی سازش  ہے۔  انہوں نے کہا کہ پارٹی اس معاملے میں قانونی رائے لے گی اور ایس آئی آر کے طریقۂ کار کے خلاف مہم چلائے گی۔ مشرا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ان کی ٹیم کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ عمل ’’جمہوریت کا قتل‘‘ ہے۔

سافٹ ویئر کے ذریعہ گڑ بڑی

کانگریس کی سوشل میڈیا شعبے کی سربراہ اور قومی ترجمان سپریا شرینیت  بھی موجود تھیں۔ انہوں  نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کے سافٹ ویئر اورتکنالوجی  شعبہ کے ذریعے ووٹروں کے نام حذف، شامل اور تبدیل کئےجارہے ہیں۔ انہوں  نے  یوپی کے تمام ووٹرس  کوووٹر لسٹ میں اپنا نام کی دوبارہ جانچ  لینے کا مشورہ دیا۔ 

 نام کیسے بدلا گیا، ایک مثال

سپریہ شرینیت نےبتایا کہ فائنل لسٹ میں ۳۵؍سالہ محمد یوسف کے نام کے سامنے ایپک نمبر 4G-MCM-4746 درج تھا  لیکن بعد میں یہی نمبر رمضان علی کے بیٹے حسرت کے نام کے سامنے دکھائی دینے لگا۔ حسرت کی عمر بھی ۳۵؍سال ہے۔ یعنی  ایپک نمبر، عمر اور جنس میں  تبدیلی نہیں ہوئی لیکن ووٹر اور اس کے والد کے نام بدل گیا۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر یہ تبدیلیاں مختلف مرحلوں میں ایک ساتھ کی گئی ہیں، جس سے سافٹ ویئر کے ذریعے گڑبڑی کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

ایس آئی آر کو منسوخ کرو

اگرکسی کا ایپک نمبردوسرے کو دے دیا جائے تو اصل ووٹر کو ووٹ ڈالنے کے وقت شناخت  کے تضاد کا سامنا کرنا  ہوگا اور اسے ووٹ دینے سے محروم کیا جاسکتا ہے۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ اس بات کی جانچ کی جائے کہ یہ تبدیلیاں کیسے ہوئیں اور کون ذمہ دار ہے۔ سپریہ شرینیت نے سپریم کورٹ سے ایس آئی آر کو منسوخ کرنے کی اپیل کی اور ووٹروں سے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر اپنے ای پی آئی سی نمبر کے ذریعے نام اور دیگر تفصیلات کی جانچ کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK