Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران-امریکہ مذاکرات کا نیا دور ۱۱؍جولائی سے متوقع

Updated: July 06, 2026, 1:03 PM IST | Tehran

اس مرحلے میں تہران پر عائد پابندیوں، منجمد اثاثوں اور جوہری پروگرام سمیت مختلف اہم امور پر بات چیت ہوگی، دونوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں ۔

Regarding the Strait of Hormuz, Tehran has made it clear that its responsibility lies solely with Iran and Oman. Photo: INN
آبنائے ہرمز کے تعلق سے تہران نے واضح کیا ہےکہ اس کی ذمہ داری صرف ایران اور عمان پر ہے۔ تصویر: آئی این این

ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا اگلا دور ۱۱؍جولائی سے پاکستان میں شروع ہونے کا امکان ہے۔ سعودی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس مرحلے میں ایران پر عائد پابندیوں، منجمد اثاثوں اور جوہری پروگرام سمیت مختلف اہم امور پر بات چیت متوقع ہے۔ سعودی میڈیا العربیہ کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم مکمل ہونے کے بعد ۱۱؍جولائی سے شروع ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ان مذاکرات میں ایران پر پابندیوں، ایران کے منجمد اثاثوں سمیت جوہری پروگرام پر بات چیت کا امکان ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بدھ کے روز دوحہ میں ہوئے تھے جنہیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تعمیری قرار دیا تھا۔ دوحہ مذاکرات کے بعد ایران کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مذاکرات میں ایران کے منجمد اثاثوں میں کچھ ارب ڈالر بحال کرنے پر اتفاق ہوا تھا تاہم امریکہ نے ایرانی دعوؤں کی تردید کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز: جہازوں کے گزرنے کی فیس لیں گے مگر اتحادی ملکوں کے ساتھ مختلف رویہ

آبنائے ہرمز پر واضح موقف 
ایران نے آبنائے ہرمز میں غیر ملکی فوجی موجودگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ حساس آبی گزرگاہ کسی بھی بیرونی طاقت کے فوجی مظاہرے کی جگہ نہیں بن سکتی۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور، کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کی ذمہ داری صرف ایران اورعمان پر عائد ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی بیرونی فوجی نقل و حرکت کو قابل قبول نہیں سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کا ذمہ دار اور سلامتی کا ضامن ملک ہے لہٰذا خطے میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری فوجی سرگرمی سے گریز کیا جانا چاہئے۔ ایرانی بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ کے سبکدوش ہونے والے وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایک مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تمام ممالک کے جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دونوں لیڈروں نے یہ بھی کہا تھا کہ عمان برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر اپنی علاقائی سمندری حدود میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے تعاون کرے گا جبکہ ضرورت پڑنے پر برطانیہ اور فرانس کثیرالقومی فوجی مشن کے ذریعے بھی بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق تازہ بحری معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ۸؍تجارتی جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض آئل ٹینکر اور مال بردار جہاز آبنائے ہرمز کے داخلی مقام تک پہنچنے کے بعد اچانک واپس مڑگئے جبکہ چند جہازوں نے ایرانی حکام کی ہدایات کے مطابق اپنا بحری راستہ تبدیل کر لیا۔ 
یاد رہے کہ ایران نے فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز میں اسرائیل یا امریکہ سے منسلک بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے بعد اس اہم عالمی آبی گزرگاہ کی صورتحال پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مضبوط سینے اور کمر کے پٹھے دل کے دورے کا خطرہ کم کر سکتے ہیں: اے آئی تحقیق

فلسطینی کاز کی حمایت جاری رہے گی، ایران کا دوٹوک اعلان
ایران نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی کاز اور آزادی کی جدوجہد کی ہر ممکن سطح پر حمایت جاری رکھی جائے گی۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کی آزادی کی جدوجہد کی مسلسل حمایت کرتا رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران اس مقصد کیلئے اپنی تمام ممکنہ سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ فلسطینی مسئلہ ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی حصہ ہے اور ایران مستقبل میں بھی فلسطینی عوام کے ساتھ اپنے تعاون اور حمایت کو برقرار رکھے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کو اپنی مستقل پالیسی سمجھتا ہے اور اس موقف میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران خطے میں امن، انصاف اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور فلسطین کے مسئلے پر مختلف ممالک کے درمیان سفارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK