کیلا مارکیٹ سے اردو گھر تک بننے والی سڑک نقشے میں کچھ اور ہے ، اصل میں کچھ اور طریقے سے تعمیر ہو رہی ہے۔
سڑک کی تعمیر کا کام جاری ہے- تصویر:آئی این این
ناندیڑ شہر میں کیلا مارکیٹ سے اردو گھر تک مجوزہ سڑک کی تعمیر کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔مسجد سرائے فخراللہ شاہ، درگاہ فخراللہ شاہ اور ملحقہ قبرستان کے متولی سید شاہد علی شاہ نے ضلع کلکٹر کو تفصیلی میمورنڈم پیش کرتے ہوئے منظور شدہ ڈی پی پلان پر سختی سے عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ میمورنڈم میں واضح کیا گیا ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے منظور شدہ ڈی پی پلان کے مطابق سڑک کا راستہ پہلے ہی طے ہے، تاہم بعض عناصر ذاتی مفادات کے تحت اس روٹ میں تبدیلی کی کوشش کر رہے ہیں۔
الزام ہے کہ سی ٹی ایس نمبر ۱۲۳۱۷؍ کے حوالے سے کچھ افراد قبرستان کی دیوار سے تقریباً ۴۰؍ فٹ دور سڑک نکالنے کی تجویز دے رہے ہیں ، جو کہ نہ صرف اصل منصوبے کے خلاف ہے بلکہ حساس مذہبی مقامات کے سبب شہر کے پرامن ماحول کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔سید شاہد علی شاہ نے اپنے مطالبے میں کہا ہےکہ سڑک کی تعمیر مکمل طور پر منظور شدہ ڈی پی پلان کے مطابق ہی کی جائے اور کسی بھی غیر قانونی تبدیلی کو فوری طور پر روکا جائے۔ انہوں نے انتظامیہ سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں مداخلت کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی کو روکا جا سکے۔
درخواست میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر منصوبہ بندی کے برخلاف سڑک تعمیر کی گئی تو شہر کے مذہبی اور سماجی توازن پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں میمورنڈم کی نقول ریاستی سطح پر بھی ارسال کی گئی ہیں، تاکہ معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ اس سڑک کی تعمیر انتظامیہ کے جاری کردہ ڈی پی پلان کے مطابق نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے مقامی افراد میںتشویش ہے۔