ناندیڑ ضلع کے مختلف شہروں اور قصبوں میں نگر پریشد انتخابات کی ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا جس میں مختلف جماعتوں کو مختلف مقامات پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
این سی پی (اجیت پوار) کے لیڈران اورکارکنان فتح کا نشان ’وی ‘ دکھاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
ناندیڑ ضلع کے مختلف شہروں اور قصبوں میں نگر پریشد انتخابات کی ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا جس میں مختلف جماعتوں کو مختلف مقامات پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
صدرِ بلدیہ کے انتخابات پر نظر ڈالیں تو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی )نے بھوکر، مدکھیڑ اور کنڈلواڑی میں کامیابی حاصل کی ہے۔ این سی پی (اجیت پوار ) نے لوہا، دیگلور اور عمری میں صدرِ بلدیہ کا عہدہ اپنے نام کیا جبکہ کانگریس نے قندھار اور حمایت نگر میں کامیابی درج کی ہے۔ مراٹھواڑہ جنتا ہت پارٹی نے دھرم آباد اور بلولی میں عوام کا اعتماد حاصل کیا جبکہ مکھیڑ میں شیوسینا (شندے ) کو کامیابی ملی ہے۔ کنوٹ میں شیوسینا (ادھو ٹھاکرے ) کے امیدوار صدرِ بلدیہ منتخب ہوئے ہیں۔
اگر مجموعی طور پر کارپوریٹروں کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ ۷۴؍سیٹیں بی جے پی کے حصے میں آئی ہیں۔۷۰؍سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر این سی پی (اجیت پوار ) ہے اور ۳۴؍ سیٹوں کے ساتھ کانگریس تیسرے نمبر پر رہی جبکہ مراٹھواڑہ جن ہت پارٹی ۲۹؍سیٹوں پر کامیابی حاصل کرکے چوتھے نمبر رہی ۔ اسی طرح شیوسینا( شندے)۱۵؍ سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہیں ۔شیوسینا (ادھو ٹھاکرے )کو۷؍سیٹیں ملیں جبکہ این سی پی (شرد پوار) کو۶؍ سیٹیں ملیں ۔ایم آئی ایم کو ۲، ونچت بہوجن اگھاڑی نے ایک سیٹ حاصل کی ۔لوہا نگر پریشد کے نتائج نے خاص طور پر سیاسی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے جہاں این سی پی (اجیت پوار ) نے صدرِ بلدیہ سمیت بڑی تعداد میں سیٹیں جیت کر بی جے پی کو زبردست جھٹکادیا ۔ یہاں بی جے پی نے پوری طاقت جھونک دی تھی، حتیٰ کہ وزیر اعلیٰ سمیت کئی بڑے لیڈران نے انتخابی مہم چلائی ، اس کے باوجود عوام نے این سی پی اجیت پوار گروپ کی مقامی قیادت پر ہی اعتماد کا اظہار کیا۔دیگلور میں این سی پی (اجیت پوار ) اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا جبکہ عمری میں این سی پی اجیت پوار گروپ نے تقریباً یکطرفہ کامیابی حاصل کی۔ دھرم آباد اور بلولی میں مراٹھواڑہ جنتا ہت پارٹی کی مضبوط گرفت برقرار رہی جبکہ بھوکر اور کنڈلواڑی میں بی جے پی نے اپنی سیاسی موجودگی کو مضبوط کیا ہے۔
کنوٹ، حمایت نگر، قندھار اور حدگاؤں جیسے علاقوں میں مخلوط نتائج سامنے آئے ہیں جہاں مختلف پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو عوامی حمایت حاصل ہوئی ۔ ان نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ ضلع کے ووٹروں نے کسی ایک جماعت کو مکمل برتری دینے کے بجائے مقامی قیادت، کارکردگی اور علاقائی مسائل کو ترجیح دی ہے۔
نتائج کی تفصیلات کچھ اس طرح سے ہیں:مدکھیڑ (۲۰؍ سیٹیں) بی جے پی۱۴، کانگریس ۴، ایم آئی ایم۲۔ کنوٹ (۲۱؍ سیٹیں)این سی پی شرد پوار۵، این سی پی اجیت پوار۵، بی جے پی ۴، شیوسینا (ادھو)۳، شیوسینا (شندے) ایک، آزاد۳۔ لوہا ( ۲؍ سیٹیں)این سی پی اجیت پوار ۱۴، شیوسینا (ادھو) ایک، بی جے پی ایک ، کانگریس ایک ۔دیگلور (۲۷؍ سیٹیں) این سی پی اجیت پوار۱۵، کانگریس۱۲۔کنڈلواڑی (۲۰؍ سیٹیں )بی جے پی ۱۴، این سی پی اجیت پوار۲، کانگریس۲، آزاد۲۔دھرم آباد ۰۲۲؍ سیٹیں) مراٹھواڑہ جنتا ہت پارٹی۱۵، بی جے پی ۷۔بھوکر (۲۲؍ سیٹیں )بی جے پی۱۳، مراٹھواڑہ جنتا ہت پارٹی ۴، این سی پی اجیت پوار ۲، آزاد ۳۔ بلولی ( ۲۰؍ سیٹیں ) مراٹھواڑہ جن ہت پارٹی۱۴؍، کانگریس۴، این سی پی اجیت پوار ایک ، آزاد ایک ۔عمری (۲۰؍ سیٹیں )این سی پی اجیت پوار۱۸، بی جے پی ایک ، کانگریس ایک ۔حمایت نگر (۱۷؍ سیٹیں): کانگریس ۸، بی جے پی ۳، شیوسینا (شندے)۲، شیوسینا (ادھو)۳، این سی پی شرد پوار ایک۔ قندھار (۲۰؍ سیٹیں) این سی پی اجیت پوار ۱۰، کانگریس ۵، ونچت بہوجن اگھاڑی ایک، شیوسینا (شندے) ایک ، آزاد۳۔مکھیڑ (۲۰؍ سیٹیں) بی جے پی ۱۴، شیوسینا (شندے) ۶۔ حدگاؤں (۲۰؍ سیٹیں ) شیوسینا (ادھو) ۷، کانگریس ۵، بی جے پی ۳، شیوسینا (شندے) ۵