• Wed, 07 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نارائن رانے کا دوران تقریر گلا بیٹھ گیا، چکر آنے لگا،پروگرام ادھورا چھوڑ دیا

Updated: January 06, 2026, 2:06 PM IST | Agency | Ratnagiri

سابق وزیر اعلیٰ کو فوری طور پر گیسٹ ہائوس پہنچایا گیا۔ رانے نے ایک روز قبل ہی ایک جلسے میں سیاست سے ریٹائر ہونے کا اشارہ دیا تھا۔

Narayan Rane and his wife in the middle of security. Picture: Agency
نارائن رانے اور ان کی اہلیہ سیکوریٹی کے درمیان۔ تصویر: ایجنسی
مرکزی وزیر نارائن رانے کو پیر کے روز ایک پروگرام کے دوران اپنی تقریر کو اس وقت روک دینا پڑا جب اچانک ان کا گلا بیٹھ گیا اور انہیں چکر آنے لگا۔ انہیں اسٹیج سے لے جایا گیا۔ یاد رہے کہ ایک روز قبل ہی نارائن رانے نے سیاست سے ریٹامنٹ لینے کا اشارہ دیا تھا۔ 
اطلاع کےمطابق پیر کے روز رتنا گیری ضلع کے چپلون علاقے میں ایک ’زرعی میلہ‘ لگایا گیا تھا جس میں سابق مرکزی وزیر رائو صاحب دانوے سمیت کئی بڑے لیڈران نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں نارائن رانے نے بھی تقریر کی۔ تقریر کے دوران ان کا گلا بیٹھنے لگا لیکن انہوں نے اپنی تقریر جاری رکھی لیکن ان سے بولا نہیں جا رہا تھا۔ ساتھ ہی انہیں چکر آنے لگا۔ تب انہوں نے کہا ’’ مجھے چکر آ رہا ہے ‘‘ کہہ کر تقریر ادھوری چھوڑ دی اور اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئے۔ اس دوران سیکوریٹی گارڈ نے انہیں سہارا دیا۔ اس کے بعد وہ اچانک وہاں سے اپنی اہلیہ کے ساتھ گیسٹ ہائوس روانہ ہو گئے جہاں انہیں ٹھہرایا گیا تھا۔ وہاں سیکوریٹی سخت کر دی گئی جبکہ ان کا علاج کیا جا رہا تھا۔ خبر لکھے جانے تک ان کی طبیعت کے تعلق سے کوئی ٹھوس اطلاع فراہم نہیں ہوئی تھی ۔ البتہ ان کے کارکنان کی بھیڑ گیسٹ ہائوس کے ارد گرد جمع ہو گئی تھی۔ 
یاد رہے کہ ایک روز قبل اپنے آئی ضلع سندھو درگ میں نارائن رانے نے ایک ریلی میں شرکت کی اور ایک جلسے سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے کافی جذباتی باتیں کیں اور اپنے علاقے کی پرانی یادوں کا تازہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ ایک وقت آتا ہے جب آپ کو لگتا ہے کہ اب مجھے آرام کرنا چاہئے۔ انسان کب تک کام کرے گا؟ میرے دونوں بیٹے سیاست میں سیٹل ہو چکے ہیں۔ اب میرا دل کرتا ہے کہ سیاست سے کنارہ کش ہو کر آرام کروں۔ کسی کو کاروبار بھی تو سنبھالنا چاہئے۔ ‘‘  نارائن رانے کے اس بیان کو ان کے ریٹائرمنٹ کا اشارہ سمجھا گیا۔ اس کے دوسرے ہی دن دوران تقریر ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ 
نارائن رانے نے اپنے سیاسی کریئر کی شروعات شیوسینا  کے بانی بال ٹھاکرے کی قیادت میں کی تھی۔ وہ شیوسینا  کے بانی اراکین میں سے ایک رہ ہیں۔ ۱۹۹۵ء میں جب مہاراشٹر میں شیوسینا کی حکومت بنی تو پہلے منوہر جوشی اس کے بعد نارائن رانے ہی کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔ ۲۰۰۵ء میں انہوں نے شیوسینا چھوڑ دی اور کانگریس میں شامل ہو گئے۔ کانگریس نے انہیں ریاستی کابینہ میں بطور وزیر محصول شامل کیا۔ ۲۰۱۵ء میں وہ بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ گزشتہ کابینہ میں وہ مرکز میں وزیر تھے مگر اس وقت وہ صرف رکن پارلیمان ہیں ۔ ان کے دونوں بیٹے نیلیش اور نتیش رانے بالترتیب شیوسینا (شندے) اور بی جے پی کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی بنے ہیں۔ ان میں سے نتیش وزیر بھی ہیں۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK