• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نرمدا بچاؤ تحریک سے ترنگا مارچ تک، ۹۳؍ سالہ دیوکی جین آج بھی حقوق کیلئے سرگرم

Updated: October 17, 2026, 9:32 PM IST | New Delhi

ماہرِ معاشیات اور پدم بھوشن ایوارڈ یافتہ دیوکی جین نے ۹۳؍ برس کی عمر میں نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترنگا مارچ میں شرکت کی اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کی حمایت کی۔ نرمدا بچاؤ آندولن اور حقِ معلومات کی تحریک سے وابستہ رہنے والی دیوکی جین نے نوجوانوں کی آئینی حقوق کے لیے جدوجہد کو سراہتے ہوئے اپنے ماضی کے احتجاجی تجربات یاد کیے۔

93-year-old economist Devaki Jain. Image: X
۹۳؍ سالہ ماہرِ معاشیات دیوکی جین۔ تصویر: ایکس

 نرمدا بچاؤ آندولن سے لے کر حقِ معلومات کی تحریک تک کئی عوامی تحریکوں میں حصہ لینے والی ۹۳؍ سالہ ماہرِ معاشیات دیوکی جین جمعہ، ۱۶؍ اکتوبر کو نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترنگا مارچ میں شریک ہوئیں۔ پدم بھوشن ایوارڈ یافتہ دیوکی جین نے نوجوان نسل کی جانب سے آئینی حقوق اور انصاف کے لیے آواز اٹھانے کا خیرمقدم کیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں یہ ایک بہت اچھی اور زبردست لڑائی ہے، اور مجھے خوشی ہے کہ یہ نسل آئینی حقوق جیسی چیزوں کے لیے جدوجہد کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔‘‘ ریٹائرڈ پروفیسرِ معاشیات دیوکی جین نے احتجاج کے دوران ماضی کی تحریکوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو اسی طرح کے مقاصد کے لیے سڑکوں پر اترتے دیکھ کر انہیں اپنی جدوجہد کے دن یاد آتے ہیں۔ نرمدا بچاؤ آندولن میں اپنی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’مجھے یہ ’زندہ باد‘ کے نعرے بہت پسند ہیں۔ ہم یہ نعرے گایا کرتے تھے، اس لیے یہ مجھے اُس دور کی یاد دلاتے ہیں۔ نرمدا ڈیم کی تعمیر کے دوران جدوجہد میں ہم کئی میل پیدل چلتے تھے۔‘‘ ان کے یہ الفاظ اس طویل عوامی جدوجہد کی یاد دلاتے ہیں جس میں بڑے ترقیاتی منصوبوں سے متاثر ہونے والے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

سی جے پی کے احتجاج میں شرکت کی وجہ بتاتے ہوئے دیوکی جین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں اس کے لیے لڑنا بہت ضروری ہے۔ لیکن ذرا تصور کیجیے کہ حکومت ایک بدعنوان افسر کی حمایت کر رہی ہے۔ اس لیے میں انہیں عہدے سے ہٹانے کے حق میں ہوں۔ میں ان کی حمایت کرتی ہوں۔‘‘ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب سی جے پی انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی، یعنی ایس آئی آر، میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ دیوکی جین نے اپنے ماضی کے تجربات کی روشنی میں موجودہ دور میں احتجاج کرنے والوں کے ساتھ پولیس کے رویے کا بھی موازنہ کیا۔ انہوں نے مظاہرین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ’’آپ سب کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہماری جمہوریت اب بھی کام کر رہی ہے۔ ہمارے زمانے میں ہمیں گرفتار کر لیا جاتا تھا۔‘‘ ان کے اس تبصرے میں احتجاج کے حق اور جمہوری آزادیوں سے متعلق ان کے طویل تجربے کی جھلک نظر آتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ترنگا مارچ: سی جے پی بانی ابھیجیت دِپکے کو مشروط ضمانت، امن برقرار رکھنے کا بانڈ دینے کی ہدایت

وزیرِ اعظم نریندر مودی اور ان کی اقتصادی پالیسیوں کے بارے میں پوچھے جانے پر دیوکی جین نے کہا، ’’میں نہیں جانتی کہ وزیرِ اعظم مودی عوامی رائے کے بارے میں حساس ہیں یا نہیں، لیکن ہر جگہ یہی رائے ہوگی کہ یہ شخص جمہوریت کو کچل رہا ہے۔ اس سے وزیرِ اعظم اور ان کی اُن اقتصادی پالیسیوں کے خلاف ہماری جدوجہد کو مدد ملے گی جنہیں ہم پسند نہیں کرتے۔‘‘ ان کے اس بیان نے احتجاج کے سیاسی پہلو اور عوامی رائے کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا۔ سی جے پی نے یہ دو روزہ احتجاج اپنے لیڈروں سورَو داس اور آشوتوش رانکا کی گرفتاریوں کے خلاف بھی منعقد کیا تھا۔ پارٹی اس سے قبل انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ جنتر منتر کو اب باضابطہ احتجاجی مقام کے طور پر نوٹیفائی نہ کیے جانے کے باعث پارٹی نے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں اجتماع کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جہاں جمعہ اور ہفتہ کو احتجاج کا منصوبہ بنایا گیا۔ دیوکی جین کی شرکت نے اس مارچ کو عوامی حقوق کی جدوجہد سے وابستہ ایک تجربہ کار کارکن کی حمایت بھی فراہم کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK