Updated: October 17, 2026, 8:02 PM IST
| Washington
امریکی قانون سازوں نے اس وقت کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف سی جے پی کے مظاہروں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہروں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے واشنگٹن میں ہندوستانی سفارت خانے اور دیگر امریکی شہروں میں واقع قونصل خانوں پر سی جے پی کی حمایت کرنے والے مظاہرین کی نگرانی کیلئے فوٹوگرافرز تعینات کرنے کا بھی الزام لگایا۔ جے پال نے ہندوستان کی عبوری انتخابی فہرستوں سے مبینہ طور پر ایک کروڑ ۳۰ لاکھ ووٹرز کے اخراج کا حوالہ دیتے ہوئے ایس آئی آر (SIR) پر علیحدہ طور پر خدشات کا اظہار کیا۔
امریکہ کے ۶ ڈیموکریٹ قانون سازوں نے اسٹیٹ سیکریٹری مارکو روبیو پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے دورہ ہند کے دوران، ہندوستان میں طلبہ مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر طاقت کے بے جا استعمال، مظاہرین کی حراست اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) سے وابستہ احتجاجی مظاہروں کی نگرانی پر اپنے خدشات اٹھائیں۔ واضح رہے کہ روبیو اگلے ہفتے ہندوستان کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ ممبئی میں وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کریں گے۔
امریکی قانون سازوں پرامیلا جے پال، الہان عمر، جم میک گورن، رشیدہ طلیب، ایلینور ہومز نورٹن اور جیسس گارشیا نے جمعہ کے روز روبیو کو خط لکھا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم دہلی اور ہندوستان کے دیگر علاقوں میں طلبہ کے احتجاج کے دوران سیکوریٹی فورسیز کی جانب سے جبر، غیر قانونی حراست اور طاقت کے ضرورت سے زیادہ استعمال کے طرزِ عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ خط لکھ رہے ہیں۔“
یہ بھی پڑھئے: ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ کی پوسٹ میں وسط مدتی انتخاب سے قبل اضافہ، ٹرافک میں کمی
انہوں نے اس وقت کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف سی جے پی کے مظاہروں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہروں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے واشنگٹن میں ہندوستانی سفارت خانے اور دیگر امریکی شہروں میں واقع قونصل خانوں پر سی جے پی کی حمایت کرنے والے مظاہرین کی نگرانی کیلئے فوٹوگرافرز تعینات کرنے کا بھی الزام لگایا۔
جے پال نے ہندوستان کی عبوری انتخابی فہرستوں سے مبینہ طور پر ایک کروڑ ۳۰ لاکھ ووٹرز کے اخراج کا حوالہ دیتے ہوئے ایس آئی آر (SIR) پر علیحدہ طور پر خدشات کا اظہار کیا۔ ہندوستانی سفیر ونے موہن کواترا نے اس سے قبل ان کے ریمارکس کو ”ہندوستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول مداخلت“ قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں مبینہ ووٹ چوری کے خلاف دھرو راٹھی کا لندن میں احتجاج کا اعلان
صدر جو بائیڈن کے سابق مشیر اور ڈیموکریٹک لیڈر اجے جین بھٹوریا نے جے پال پر مداخلت کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے ایکس پر کہا کہ ”ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جس کی اپنی عدالتیں، آزاد پریس اور ۹۰ کروڑ سے زائد ووٹرز ہیں۔ کانگریس کو نئی دہلی کو اس کے اندرونی معاملات پر درس دینے کا کوئی حق نہیں۔“
قانون سازوں نے روبیو سے کہا کہ وہ ہندوستان پر حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی مکمل، شفاف اور آزادانہ تحقیقات اور اپنے حقوق کا پرامن استعمال کرنے پر حراست میں لئے گئے افراد کی رہائی کیلئے ؤ ڈالیں۔ انہوں نے ہندوستانی مشنز کی جانب سے امریکہ میں مظاہرین کی نگرانی اور انہیں ہراساں کرنے کی رپورٹس کی تحقیقات اور اس بات کے جائزے کا بھی مطالبہ کیا کہ آیا ہندوستان کا یہ طرزِ عمل اسے آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ کے تحت ہتھیاروں کی فروخت کیلئے نااہل بناتا ہے۔