کامیڈین اور ایک سینئر وکیل کے مطابق اس پورٹل اور ترمیم کی وجہ سے انٹرنیٹ پر دستیاب تمام مواد سرکاری افسران کے من مانے اوریکطرفہ فیصلوں کی زد پر رہیں گے اور انہیں چیلنج کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: February 08, 2026, 4:36 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
کامیڈین اور ایک سینئر وکیل کے مطابق اس پورٹل اور ترمیم کی وجہ سے انٹرنیٹ پر دستیاب تمام مواد سرکاری افسران کے من مانے اوریکطرفہ فیصلوں کی زد پر رہیں گے اور انہیں چیلنج کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔
معروف اسٹینڈ اَپ کامیڈین اور ایک سینئر وکیل نے اکتوبر ۲۰۲۵ء میں آئی ٹی ایکٹ میں کی گئی ترمیم اور سائبر سیکورٹی کے نام پر شروع کئے گئے ’سہیوگ پورٹل‘ کو غیرقانونی بتاتے ہوئے اسے بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ ایکٹ میں ترمیم اور پورٹل کی وجہ سے انٹرنیٹ پر موجود مواد کیخلاف من مانی اور جانبدارانہ کارروائی کرنے کا موقع حکومت اور سرکاری افسران کو ملے گا اوران فیصلوں کو چیلنج بھی نہیں کیا جاسکے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اضافی عملہ کو ایڈجسٹ کرنے کی ہدایت سے دشواری
واضح رہے کہ سہیوگ پورٹل مرکزی وزارت داخلہ نے ۲۰۲۴ء میں متعارف کرایا تھا۔ یہ پورٹل سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر دستیاب مواد کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
اس کے تعلق سے کنال کامرا نے اپنی پٹیشن میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ پورٹل سرکاری افسران کو ایسے اختیارات دیتا ہے جس کی بنا ءپر وہ کسی کی نگرانی اور روک ٹوک کے بغیر کوئی ویڈیو بنانے اور اَپ لوڈ کرنے والے یا کسی تحریر کے مصنف کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیئے بغیر اور انہیں سنے بغیر ان کے مواد کو سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ سے ہٹانے کا نوٹس سوشل میڈیا اور ویب سائٹ کی کمپنی کو بھیج سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ان اختیارات سے انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ میں آئین کے ذریعہ دیئے گئے حقوق کی پامالی ہوتی ہے اس لئے یہ پورٹل اور ترمیم غیر آئینی، غیر ضروری اور بولنے کی آزادی پر حملہ ہے۔پٹیشن کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ سہیوگ پورٹل اس لئے شروع کیا گیا ہے تاکہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر سے قابل اعتراض مواد ہٹانے کیلئے جو حکم جاری کئے جاتے ہیں ان میں تیزی آئے لیکن اس کی وجہ سے انٹرنیٹ پر موجود تمام چیزوں کیلئے اس بات کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ انہیں من مانے طریقہ سے ہٹا دیا جائے اور جب کوئی چیز انٹرنیٹ سے اس قانون کے تحت ہٹا دی جائے گی تو اس کارروائی کو چیلنج کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں رکھا گیا ہے۔اس پورٹل کے ذریعہ مرکزی اور ریاستی حکومت کے ہزاروں افسران کو ایسے اختیار مل جاتے ہیں کہ من مانی کارروائی کی نہ تو کوئی نگرانی ہے اور نہ ہی کوئی روک ٹوک ہے۔ ان کے مطابق یہ ترمیم آئین پر صریح حملہ ہے اور اس سے شہریوں کو دیئے گئے حق معلومات کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۲؍ اضلاع میں ضلع پریشدانتخابات کیلئے پولنگ مکمل
اسی طرح سینئر وکیل ہریش جگتیانی نے بھی ایک علاحدہ پٹیشن داخل کی ہے جس میں انفارمیشن ٹکنالوجی (انٹرمیڈیئری گائیڈلائنس اینڈ ڈجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ امینڈمنٹ رُولس ۲۰۲۳ء) کے رُول ۳ (۱) (ڈی) میں اکتوبر ۲۰۲۵ء میں کی گئی ترمیم اور سہیوگ پورٹل کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ایڈوکیٹ ہریش نے بھی سرکاری افسران کو انٹرنیٹ پر موجود مواد کو یکطرفہ کارروائی کے تحت ہٹانے کا اختیار دینے پر اعتراض کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ریتو تاؤڑے ممبئی میں بی جے پی کی پہلی میئر
آئی ٹی رُول ۳ (۱) (ڈی) کے تحت اب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم فراہم کرنے والی کمپنیوں کیلئے یہ لازمی ہوگیا ہے کہ جب انہیں کوئی عدالتی حکم یا پھر ترمیم شدہ ایکٹ کے تحت کسی سرکار یا اختیار دیئے گئے افسران سے ہدایت موصول ہو تو انہیں متعینہ مدت میں متعلقہ مواد انٹرنیٹ سے ہٹانا ہوگا۔تقریباً ایسا ہی معاملہ آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ ۶۹ (اے) کے ساتھ ہے جو مرکزی حکومت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر دستیاب کسی ویب سائٹ بلاک کرنے کا حکم دے دے۔