کسما گراج پرتشٹھان کی جانب سے منعقدہ پروگرام میں مراٹھی اور اردو کے علاوہ دیگر زبانوں کے فنکار شریک ہوئے، بشیر بدر کی اہلیہ کا خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔
EPAPER
Updated: June 13, 2026, 10:19 AM IST | Mukhtar Adeel | Nashik
کسما گراج پرتشٹھان کی جانب سے منعقدہ پروگرام میں مراٹھی اور اردو کے علاوہ دیگر زبانوں کے فنکار شریک ہوئے، بشیر بدر کی اہلیہ کا خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔
بدھ کی شام ۶؍ بجے ناسک میں کسماگرج پرتشٹھان کے زیر اہتمام اردو کےمقبول ترین شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کیلئے ایک پُروقار تعزیتی جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ اس تعزیتی تقریب کی صدارت جاوید انصاری (آکاش وانی) نے کی جبکہ مہمانانِ خصوصی میں ایڈوکیٹ نند کشوربترا، ایڈوکیٹ ولاس لوناری (رکن و ٹرسٹی کسماگرج پرتشٹھان ) شامل تھے۔
صدرِ جلسہ جاوید انصاری نے ڈاکٹر بشیر بدر کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے عہد کے سب سے معتبر اور ہر دلعزیز غزل گو شاعر تھے۔ انہوں نے مالیگاؤں، جلگاؤں اور بھوپال میں بشیر بدر سے ہونے والی ملاقاتوں کا تذکرہ کیا اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ادبی سرمایہ سمجھے جانے والے بزرگوں کے آخری ایام میں ان سے جس طرح کی ہمدردی اور وابستگی کا ا ظہار ہونا چاہئے، وہ نظر نہیں آتا، جو ہم سب کیلئے ایک اہم سوال اور لمحۂ فکریہ ہے۔
محب اردو اور معروف قانون داں ایڈوکیٹ نند کشور بھتڑا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان اور ادب سےمیری محبت کا پہلا زینہ ڈاکٹر بشیر بدر کی شاعری رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ مرحوم کے خوبصورت اور فکر انگیز اشعار سے بے حد متاثر رہا۔ اس موقع پر انہوں نے بشیر بدر کے متعدد اشعار سنائے اور کہا کہ ان کے کلام میں پوشیدہ پیغام کو عوام تک پہنچانا ہی ان کیلئے حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔ ایڈوکیٹ بھتڑا نے کسماگرج پرتشٹھان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے مراٹھی ادب کے ساتھ ساتھ اردو کے اس عظیم شاعر کی یاد میں تعزیتی جلسہ منعقد کرکے قابلِ ستائش مثال قائم کی ہے۔ ا نہوں نے خواہش ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ادارے کی جانب سے اردو ادبی محفلوں کا اہتمام کیا جاتا رہے۔
یہ بھی پڑھئے: سینٹرل اور ویسٹرن ریلوے میں بڑے پیمانے پر مسافروں کیخلاف کارروائی
کسماگرج پرتشٹھان کے ٹرسٹی ایڈوکیٹ ولاس لوناری نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ مراٹھی شعرا کے ساتھ ساتھ اردو اور ہندی کے ممتاز شعرا سے بھی گہری وابستگی رکھتے ہیں اور ڈاکٹر بشیر بدر کے کلام سے خصوصی طور پر متاثر رہے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر مرحوم کے متعدد مقبول اشعار بھی سامعین کی نذر کئے۔ تقریب کے دوران ڈاکٹر بشیر بدر کی اہلیہ محترمہ راحت بدر کا خصوصی پیغام بھی سنایا گیا، جس میں انہوں نے کسماگرج پر تشٹھان اور تمام منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر بشیر بدر کی یاد میں منعقدہ اس پروگرام کی ستائش کی۔
تقریب کے آخری مرحلے میں ناسک شہر کے غزل سنگر راجیش بھالے راؤ اور سنجے باونکولے نے ڈاکٹر بشیر بدر کے منتخب کلام کو خوبصورت انداز میں پیش کیا، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ اس یادگار تعزیتی محفل کی نظامت ایڈوکیٹ زبیر سوداگر نے نہایت خوش اسلوبی اور مؤثر انداز میں انجام دی۔ پرتشٹھان کے آڈیٹوریم میں مراٹھی اور اردو ادب سے وابستہ شعراء، ادباء، دانشوروں اور ادب دوست حضرات کی کثیر تعداد موجود تھی۔
ان میں ناسک بار کونسل کے صدر ایڈوکیٹ نتن ٹھاکرے، معروف مراٹھی شاعرارون مہاترے، پرشانت کیندرے، صنعتکار سنجے پٹیل، گلوکارہ راگنی کامٹھی کر، شاعر ارشاد وسیم و ریاض شیخ وغیرہ موجود تھے۔ آخر میں ایڈوکیٹ ولاس لوناری نے رسمِ شکریہ ادا کی، جس کے بعد بشیر بدر کی یادوں سے سجی یہ باوقار اور یادگار تعزیتی تقریب اختتام پذیر ہوئی۔