Inquilab Logo Happiest Places to Work

چال کے ایک کمرہ سے ایم بی بی ایس تک، ڈاکٹر عدنان انصاری کاسفرجدوجہدبھرارہا

Updated: April 23, 2026, 3:56 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

ٹی بی ا وردل کے عارضے سے لڑکر یہ کامیابی حاصل کرنے والےعدنان اور ان کے والد شہاب الدین انصاری نے ’انقلاب‘ کا بطور خاص شکریہ ادا کیا ۔

Dr. Adnan With His Father. Photo: INN
ڈاکٹر عدنان اپنے والد کےساتھ ۔تصویر:آئی این این
 اعظمی نگر کی ایک تنگ چال کے ایک کمرے میں پلنے والا ایک لڑکاعدنان جس کے وسائل محدود مگر خواب واہداف بڑے تھے،آج ڈاکٹر عدنان شہاب الدین انصاری کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ ان کی کامیابی صرف ڈگری نہیں بلکہ حوصلہ، قربانی اور مسلسل جدوجہد کی مثال ہے۔
ڈاکٹر عدنان نے ابتدائی تعلیم نہایت محدود حالات میں حاصل کی۔ چال کے ایک کمرے سے سفر شروع ہوا، پھر ایک کمرہ اور ہال کے چھوٹے فلیٹ میں منتقل ہوئے جہاں واحد کمرہ ان کی پڑھائی کیلئے دے دیا گیا اورگھر والوں کیلئے سونے کیلئے ہال مختص رہا ۔ ان کے والد شہاب الدین انصاری اسکریپ کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ آمدنی قلیل تھی مگر حوصلے بلند تھے، وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے تھے اور اسی مقصد کے لیے ہر ممکن قربانی دی۔
عدنان کی آزمائش آٹھویں جماعت میں شروع ہوئی جب وہ ٹی بی میں مبتلا ہوکر سائن کے سومیا اسپتال میں مہینوں زیر علاج رہے۔ اس بیماری نے انہیں کمزور کرنے کے بجائے ڈاکٹر بننے کا عزم دیا۔انہوںنے۲۰۱۷ء میں الحمد ہائی اسکول سے۸۴؍ فیصد کے ساتھ ایس ایس سی اور۲۰۱۹ء میںکے ایم ای ایس جونیئر کالج سے۸۸؍ فیصد کے ساتھ ایچ ایس سی پاس کیا۔ 
 
 
اس کے بعد نیٹ ان کا سب سے بڑا ہدف تھا۔ کوچنگ کیلئے کوٹہ گئے مگر کوچنگ کے دوران اور لاک ڈاؤن سے قبل دل کے عارضے کے باعث شدید بیمار ہوکر کوچنگ چھوڑنی پڑی اور واپس آکر اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ اسپتال میں بھی صبح سے رات تک پڑھائی جاری رکھی، گھر آکر بھی سلسلہ برقرار رکھا اور سوشل میڈیا کے ذریعے سوالات حل کرتے رہے ۔ لاک ڈاؤن میں مشکلات اور بڑھ گئیں۔ کوچنگ اور زیراکس بند ہونے پر ان کے والد شہاب الدین انصاری  خود ہاتھ سے پرچے لکھ کر دیتے تھے تاکہ تیاری جاری رہے۔آخرکار۲۰۲۰ءمیں انہوں نے پہلی ہی کوشش میں نیٹ میں ۷۲۰؍ میں  سے ۵۸۵؍نمبر حاصل کیے اور سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ پایا۔ دھولیہ کے شری بھاؤ صاحب ہیرے میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس مکمل کیا اور حال ہی میں کانوؤکیشن بھی منعقد ہوا۔
 
 
ان کی کامیابی میں آپ کے محبوب روزنامہ  ’انقلاب ‘کا بھی اہم کردار رہا۔ والد کے مطابق گزشتہ۲۵؍  سال سے گھر میں انقلاب کا مطالعہ ہو رہا ہے،آج بھی باقاعدگی کے ساتھ اخبار کی کاپی آتی ہے۔ انقلاب کے تعلیمی مضامین تعلیمی خبریں، تعلیمی میدان میں نمایاں کردار ادا کرنے والوں کے انٹرویوز و رپورٹ ، اداریہ بالخصوص تعلیمی اداریوں نے پورے خاندان میں تعلیم کا شوق پیدا کیا۔ عدنان ان خبروں کو شوق سے پڑھتا تھا۔‘‘ انہوں نے بیٹے کی اس کامیابی کیلئےبطور خاص ’انقلاب ‘کا شکریہ ادا کیا ۔ ڈاکٹر عدنان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط ارادہ، والدین کی دعائیں اور سچی محنت ہر مشکل کو آسان بنا دیتی ہے۔ اب ان کا ہدف نیٹ پی جی کرکے ایم ڈی فزیشن بننا ہے تاکہ انسانیت کی خدمت کر سکیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK