اشوینی اپادھیائے نے عرضی داخل کی ہے، ایسے تمام اداروں کو ضابطہ کے تحت لانے کا مطالبہ کیا، مدارس کا نام نہیں لیا مگر اندیشہ ہے کہ انہیں کو نشانہ بنایا ہے۔
EPAPER
Updated: May 10, 2026, 9:55 AM IST | New Delhi
اشوینی اپادھیائے نے عرضی داخل کی ہے، ایسے تمام اداروں کو ضابطہ کے تحت لانے کا مطالبہ کیا، مدارس کا نام نہیں لیا مگر اندیشہ ہے کہ انہیں کو نشانہ بنایا ہے۔
حق تعلیم ایکٹ کے تحت چھوٹے بچوں کو مدرسوں سے نکال کراسکولوں میں داخل کرانے کی قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد اب بی جے پی لیڈر اشونی کماراپادھیائے نے سپریم کورٹ میںعرضی دائر کرکے ایسے تمام اداروں کوضابطے کے تحت لانے کا مطالبہ کیا ہے جن میں ۱۴؍ سال سے کم عمر بچے پڑھتے ہیں۔ اس پرسپریم کورٹ میں پیر کو شنوائی کی امید ہے۔ حالانکہ عرضی میں دینی مدرسوں کانام نہیں لیا گیالیکن اندیشہ ہے کہ اصل نشانہ مدارس ہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بنگال میں بی جے پی کی پہلی حکومت قائم، بھگوا خیمہ سرشار
عرضی میں مطالبہ کیا گیاہے کہ جن مذہبی اداروں میں ۱۴؍سال سے کم عمر کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ، انہیں ضابطے کے تحت لانے کیلئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو جامع ہدایات جاری کی جائیں۔آئین کے آرٹیکل۳۲؍ کے تحت دائر عرضی میں ملک بھر میں ایسے اداروں کی لازمی رجسٹریشن، شناخت اور نگرانی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔اشونی کمار نے دعویٰ کیا ہے کہ آرٹیکل۳۰؍ اقلیتوں کو کوئی خصوصی یا اضافی حقوق نہیں دیتا جس کی پہلے سے آرٹیکل ۱۹(۱) (جی) میں ضمانت دی گئی۔درخواست کے مطابق آرٹیکل ۳۰؍ تعلیمی اداروں کے قیام کے عمومی حق کا صرف اعادہ ہے ۔ آئینی حدود میں اس کی تشریح ہونی چاہیے۔درخواست میں عدالت سے یہ واضح کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ مذہب کے فروغ کے مقصد سے مذہبی تعلیم دینے والے ادارے آرٹیکل ۲۶؍کے دائرہ کار میں آتے ہیں، جو مذہبی امور کو کنٹرول کرتا ہے۔انہیں آرٹیکل ۱۹؍یا ۳۰؍ کے تحت حق حاصل نہیں۔عرضی میں مطالبہ کیاگیا کہ آرٹیکل۳۰؍ کے تحت ’اپنی پسند کے تعلیمی ادارے‘ کی اصطلاح کو مذہبی تعلیمی اداروں کو چھوڑ کرصرف سیکولر یا پیشہ ورانہ اداروں تک محدود رکھا جائے۔ درخواست میں اشونی کمار نے دعویٰ کیا کہ اتر پردیش کی سرحد کے ساتھ متعدد اضلاع میںمتعدد غیر رجسٹرڈ اور غیر تسلیم شدہ ادارے مبینہ طور پر کام کرتے پائے گئے ہیں۔اس عرضی میں بھی بچوں کے بہبود کا بہانہ بنا کر دعویٰ کیا گیاکہ ان اداروں میں ضابطے کی عدم موجودگی آرٹیکل ۲۱؍اے کے تحت معیاری تعلیم کے حق کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ معیاری نصاب، قابل اساتذہ اور ادارہ جاتی احتساب کی کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔