ہندوستانی آئی ٹی صنعت کی نمائندہ تنظیم ناسکام (NASSCOM) نے کہا ہے کہ امریکہ میں ایچ وَن۔ بی ((H-1B ویزا فیس میں مجوزہ بڑے اضافے کے معاملے پر وہ مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام اہم متعلقہ فریقوں کے ساتھ فعال طور پر بات چیت کر رہی ہے۔
EPAPER
Updated: August 25, 2026, 5:02 PM IST | New Delhi
ہندوستانی آئی ٹی صنعت کی نمائندہ تنظیم ناسکام (NASSCOM) نے کہا ہے کہ امریکہ میں ایچ وَن۔ بی ((H-1B ویزا فیس میں مجوزہ بڑے اضافے کے معاملے پر وہ مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام اہم متعلقہ فریقوں کے ساتھ فعال طور پر بات چیت کر رہی ہے۔
ہندوستانی آئی ٹی صنعت کی نمائندہ تنظیم ناسکام (NASSCOM) نے کہا ہے کہ امریکہ میں ایچ وَن۔ بی H-1B ویزا فیس میں مجوزہ بڑے اضافے کے معاملے پر وہ مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام اہم متعلقہ فریقوں کے ساتھ فعال طور پر بات چیت کر رہی ہے۔ناسکام کے مطابق ایچ وَن۔ بی ویزا پروگرام کو بنیادی طور پر ان شعبوں میں عارضی طور پر ہنرمند پیشہ ور افراد کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بنایا گیا تھا جہاں امریکہ میں مخصوص مہارتوں کی کمی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مجوزہ فیس میں اضافے کو اسی بنیادی مقصد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:’’دِریشیم۴‘‘ کی تصدیق، موہن لال ایک بار پھر جارج کٹی کے کردار میں نظر آئیں گے
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکوریٹی کی جانب سے پیش کیے گئے نئے ضابطے کے تحت ہر ایچ وَن۔ بی ویزا درخواست پر۱۰۳۲۶۵؍ ڈالر کی اضافی فیس عائد کی جا سکتی ہے۔تاہم یہ بات اہم ہے کہ یہ فی الحال مجوزہ ضابطہ ہے اور ابھی حتمی طور پر نافذ نہیں ہوا۔ متعلقہ فریقوں اور عام عوام کو اس تجویز پر اپنی رائے دینے کے لیے ۳۰؍ دن کا وقت دیا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس فیس کا مقصد امیگریشن نظام کے اخراجات پورے کرنا اور کمپنیوں کو غیر ملکی ملازمین پر انحصار کرنے کے بجائے امریکی شہریوں کی بھرتی اور تربیت کی جانب راغب کرنا ہے۔ ناسکام نے کہا کہ ایچ وَن۔ بی پروگرام کئی برسوں سے امریکہ میں مختصر مدتی مہارتوں کی کمی پوری کرنے کا اہم ذریعہ رہا ہے۔تنظیم نے یہ بھی نشاندہی کی کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران امریکی مارکیٹ میں کام کرنے والی ہندوستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ایچ وَن۔ بی ملازمین کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں نے امریکہ میں مقامی سطح پر بھرتی بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ناسکام کے مطابق ہندوستانی ٹیکنالوجی کمپنیاں امریکہ میں مقامی ہنر اور تعلیم کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ہندوستانی آئی ٹی سیکٹر نے امریکہ میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کی تعلیم کو مضبوط بنانے کے لیے ۱ء۱؍ ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ناسکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ہندوستانی ٹیکنالوجی کمپنیاں امریکہ میں مقامی ورک فورس کی ترقی میں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
اگر مجوزہ ۱۰۳۲۶۵؍ ڈالر اضافی فیس نافذ ہوجاتی ہے تو امریکہ میں ہندوستان سمیت دیگر ممالک کے ہنرمند پیشہ ور افراد کو ملازمت دینے والی کمپنیوں کے اخراجات میں بہت بڑا اضافہ ہوسکتا ہے۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکوریٹی کے مطابق یہ فیس ایچ وَن۔ بی ویزا کی سالانہ حد کے تحت آنے والی درخواستوں پر لاگو ہوگی۔ یہ موجودہایچ وَن۔ بی فیس کے علاوہ اضافی رقم ہوگی۔ اس میں امریکی تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے غیر ملکی شہریوں کے لیے دستیاب خصوصی کیٹیگری میں آنے والے درخواست دہندگان بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکوریٹی کا اندازہ ہے کہ اس تجویز سے حکومت کو ہر سال تقریباً ۸ء۸؍ ارب ڈالر کی اضافی آمدنی ہوسکتی ہے۔ یہ اندازہ سالانہ تقریباً ۸۵؍ہزار ایچ وَن۔ بی درخواستوں کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق اس رقم کا استعمال قانونی امیگریشن نظام کے انتظام، درخواستوں کی کارروائی، فراڈ کی نشاندہی، قومی سلامتی کی جانچ، سرکاری نظام کو جدید بنانے اور ریکارڈ مینجمنٹ جیسے اخراجات پورے کرنے کے لیے کیا جائے گا۔