Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملّی تنظیموں نے وقف ترمیمی بل کویکسر مسترد کرنے کا اعلان کیا

Updated: August 23, 2024, 5:00 PM IST | Ahmadullah Siddiqui | New Delhi

مسلم پرسنل لاء بورڈ، جمعیۃ علماء ہند،جماعت اسلامی ہند اورجمعیۃاہل حدیث کی مشترکہ پریس کانفرنس ،پُرامن تحریک کا اعلان۔

Photo: INN
تصویر : آئی این این

ملک  کے مسلمانوں کی نمائندہ ملی تنظیموںنےوقف ترمیمی بل پر مرکزی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے اس کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ بل کو حکومت کے ذریعہ وقف املاک کو ہڑپنے کی گھناؤنی سازش قرار دیتے ہوئے ملی تنظیموں نے واضح کیا کہ ملک کے مسلمان اس کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ اگربل کو واپس نہیں لیا گیا تو قانون کے دائرے میں تحریک چلائی جائے گی اور احتجاج ومظاہرے کئے جائیں گے۔بیان میں کہا گیا کہ مجوزہ بل میں نہ صرف وقف کی تعریف،متولی کی حیثیت اوروقف بورڈ کےاختیارات سے سنگین چھیڑ چھاڑ کی گئی بلکہ وقف کونسل اور وقف بورڈ کے ممبر کے طور پر غیر مسلم کو رکھنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ کلکٹر کو تمام اختیارات د ئیے گئے ہیں جس سے وقف جائیدادوں پر حکومتی قبضہ کی راہ آسان ہوجائےگی۔


دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولا خالد سیف اللہ رحمانی،جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی، امیرجماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی،جمعیت اہل حدیث کے امیر مولانا اصغر امام مہدی سلفی،بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی اور ترجمان سید قاسم رسول الیاس کی موجودگی میں اول الذکر دونوں بزرگ عالم دین  نے وقف بل کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کی اور اس کے سنگین مضمرات سے آگاہ کیا۔ مولانا خالدسیف اللہ رحمانی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بل سے مسلمانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور ملک کا ہر مسلمان اس کی سختی کے ساتھ مخالفت کرتا ہے۔انہوںنے کہا کہ اس بل کو خواتین کی نمائندگی کے نام پر پیش کرنا حکومت کی سراسر دروغ گوئی ہے کیونکہ ۲۰۱۳ء کی ترمیم میں پہلے ہی خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنالیا گیا ہے۔ نمائندہ انقلاب کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم اس بل کو یکسر مسترد کرتے ہیں لیکن اگر ہمیں  مشترکہ پارلیمانی  کمیٹی میں طلب کیا جاتا ہے تو ہم اپنے اعتراضات اور موقف پیش کرنے کیلئے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:غزہ جنگ: اسرائیلی معیشت کو سب سے زیادہ سست رفتاری کا سامنا :اوای سی ڈی

بورڈ کے صدر نے کہا کہ ابھی تک چندرا بابو نائیڈو،نتیش کمار،تیجسوی یادو ،ایم کے اسٹالن اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کرکے ان سےاس بل کی مخالفت کی اپیل کی گئی۔ انہوں نے یہ سنسنی خیز دعویٰ بھی کیا کہ چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار نے اس بل کی  پارلیمنٹ میں مخالفت کا یقین دلایا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے  وقف ترمیمی بل کو اسلام اور مسلمانوں پر ایک کاری ضرب قرار دیا۔انہوںنے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد سے اب تک اس طرح کی کوئی چیز سامنے نہیں آئی تھی لیکن حکومت ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت اور دشمنی کا ماحول پیدا کرناچاہتی ہے اوریہ بل اس کے خطرناک ارادوں کی عکاسی کرتا ہے۔انہوںنےکہا کہ وقف ایکٹ مجوزہ ترامیم آئین ہند کی مختلف دفعات کی شدید خلاف ورزی ہے۔ہم اس کو ہر گز منظور نہیں کریں گے۔ ان ترمیمات کی آڑمیںحکومت مسلمانوں کو اپنے اسلاف کے عظیم ورثہ سے محروم کردینےکی سازش کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد نے جس طرح سے آئین اور سیکولر زم کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا،یہ اس کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملہ میںہمارے ساتھ کھل کر سامنے آئے۔ مولانا نے کہا کہ جمعیۃ علماءہند نے مہاتماگاندھی اور جواہر لال نہرو سے یہ عہد وپیمان لیا  تھا کہ ملک کا آئین اور قانون جمہوری اور سیکولر ہوگا۔آج بھی وہ دستاویزات موجود ہیں جن میں مسلمانوں کو ان کی مساجد،امام بارگاہ،مقبرے ،قبرستان اور دیگر مذہبی مقامات کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔
  ایک اور سوال کے جواب میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ مودی حکومت نے گزشتہ ۱۰؍سال سے ہم پر بات چیت کے دروازے بند کررکھے ہیں۔اگر حکومت بات چیت پر یقین رکھتی تو بل تیار کرنے سے پہلے مسلم تنظیموں اور ان کے نمائندوں سے صلاح ومشورہ ضرور کرتی ۔انہوںنے کہا کہ ہم وزیر اعظم ،وزیر داخلہ اور وزیر قانون سے اس معاملہ پر بات چیت کیلئے تیار ہیں۔اگر وہ ایک قدم بڑھائیں گے تو ہم دو قدم بڑھائیں گے ،لیکن حکومت کی منشا درست نہیں،کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو مشاورت کے بغیر اس کو لایا ہی نہیں جاتا۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK