بی جے پی کی سابق رکن پارلیمان نے اقلیتی کمیشن کے چیئرمین سے ہندوئوں کا ساتھ دینے اور مسلمانوں کی طرف سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 11:44 AM IST | Ali Imran | Mumbai
بی جے پی کی سابق رکن پارلیمان نے اقلیتی کمیشن کے چیئرمین سے ہندوئوں کا ساتھ دینے اور مسلمانوں کی طرف سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
ایک روز قبل ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین پیارے خان نے بی جے پی کی سابق پارلیمان نونیت رانا پر الزام لگایا تھا کہ وہ اچل پور جنسی استحصال معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر فساد بھڑکانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ چونکہ نونیت رانا نےنابالغ متاثرہ لڑکیوں کی شناخت ظاہر کی ہے اس لئے ان کے خلاف پوکسو کے تحت کارروائی کی جانی چاہئے۔ پیارے خان کے اس بیان پر نونیت رانا بھڑک اٹھیں۔
یہ بھی پڑھئے: اب تک صرف ۱۸؍ مسلم خواتین لوک سبھا تک پہنچی ہیں
انہوں نے دوبارہ اشتعال انگیزی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ ’’ کیا پیارے خان قرآن کو چھوڑ کر آئین کو تھامیں گے؟‘‘ انہوں نے امراوتی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’’ ناسک میں ہماری بیٹیوں کو گائے کا گوشت کھلایا گیا، برقع پہنایا گیا، امراوتی میں کولہے کا واقعہ ہوا تو پیارے خان کہاں تھے؟ جب ریاست میں لو جہاد ہوتا ہے تو پیارے خان کہاں جاتے ہیں؟ جب ہماری ہندو بیٹیوں کی شادی ہوتی ہے تو پیارے خان کہاں ہوتے ہے؟ رانا نے یہ شرانگیز مطالبہ کیا کہ پیارے خان اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں اور کہیں کہ ہم ہندوؤں کے ساتھ ہیں مسلمانوں کی طرف سے معافی مانگیں۔ پیارے خان خود کے گریبان میں جھانکیں، پھر جہاں چاہیں نونیت رانا کے خلاف شکایت درج کروائیں۔ اگر کوئی ہندو لڑکیوں کو دھوکہ دیتا ہے تو نونیت رانا اِس کے خلاف ہمیشہ میدان میں رہے گی۔ انہوں نے کہا اچل پور پرتواڑہ کیس میں لیپ ٹاپ ضبط ہونے دیں، پھر آپ سے بات کروں گی۔ پیارے خان ایک ذمہ دار عہدے پر ہیں، کیا وہ آئین کو اہمیت دیں گے یا قرآن کو سامنے رکھیں گے؟ نونیت رانا نے مطالبہ کیا کہ پرتواڑہ کیس میں کلیدی ملزم کے والد کو شریک ملزم بنایا جائےکیونکہ وہ ملزم کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔ لیپ ٹاپ قبضے میں آنے پر تمام سراغ سامنے آجائیں گے۔