ان میں سے بھی ۱۳؍ کا تعلق بڑے سیاسی گھرانوں سے رہا، پارلیمنٹ کی ۵؍ میعادوں میں ایک بھی مسلم خاتون نہیں رہی۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 10:17 AM IST | Mumbai
ان میں سے بھی ۱۳؍ کا تعلق بڑے سیاسی گھرانوں سے رہا، پارلیمنٹ کی ۵؍ میعادوں میں ایک بھی مسلم خاتون نہیں رہی۔
پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن پر مباحثہ کے دوران ۳۳؍ فیصد ریزرویشن میں مسلم خواتین کیلئے کوٹہ مختص کرنے کے سماجوادی پارٹی کے مشورہ پر ایوان میں جمعرات کو بحث چھڑ گئی تھی مگر اعدادوشمار کا جائزہ لیں تو ایوان میں مسلم خواتین کی انتہائی کم نمائندگی بہت واضح ہے۔ ۱۹۴۷ء کے بعد سے اب تک لوک سبھا کیلئے صرف ۱۸؍مسلم خواتین منتخب ہوئی ہیں جبکہ لوک سبھا کی ۵؍ میعادیں ایسی بھی رہیں جب ایوان میں ایک بھی مسلم خاتون نہیں تھی۔
اہم بات یہ ہے کہ لوک سبھا تک پہنچنے والی ان ۱۸؍ خواتین میں سے ۱۳؍ کا تعلق بڑے سیاسی گھرانوں سے تھا۔ کیرالا، تمل ناڈو، کرناٹک، آندھرا پردیش اور تلنگانہ سمیت جنوبی ہند کی کسی بھی ریاست سے آج تک کوئی مسلم خاتون لوک سبھا تک نہیں پہنچ سکی۔ اس کی تصدیق رشید قدوائی اور عنبر گھوش کی تصنیف ’’مسنگ فرام ہاؤس: مسلم ویمن اِن لوک سبھا‘‘سے ہوتی ہے۔ اس میں لوک سبھا کیلئے منتخب ہونے والی ان خواتین کا تفصیلی تعارف پیش کیاگیاہے۔ یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ لوک سبھا کی ۵؍ میعادوں میں ایک بھی مسلم خاتون نہیں تھی، رشید قدوائی کہتے ہیں کہ ’’ اتنی کم تعداد بہت ہی حیران کردینےوالی ہے۔‘‘موجودہ لوک سبھا میں بھی ا قراء حسن اور ساجدہ احمد کی شکل میں صرف ۲؍ ہی مسلم خواتین ہیں جو سماجوادی اور ٹی ایم سی سے تعلق رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آسام الیکشن کے بعد محفوظ کی گئی ای وی ایم کی سیکوریٹی میں ضوابط کی خلاف ورزی
اب تک لوک سبھا کیلئے منتخب ہونےوالی مسلم خواتین کی فہرست میں مفیدہ احمد (کانگریس، ۱۹۵۷ء)، ، زہرہ بین اکبر بھائی چاوڈا (کانگریس، ۶۷ء-۱۹۶۲ء) میمونہ سلطان (کانگریس، ۶۷ء-۱۹۵۷ء) ،بیگم اکبر جہاں عبداللہ (نیشنل کانفرنس، ۷۹ء-۱۹۷۷ء: ۸۹ء-۱۹۸۴ء)، رشیدہ حق (کانگریس ۷۹ء-۱۹۷۷ء) ،محسنہ قدوائی (کانگریس۔ ۸۹ء-۱۹۷۷ء) عابدہ احمد (کانگریس، ۸۹ء-۱۹۸۱ء) ،نور بانو (کانگریس، ۱۹۹۶ء: ۲۰۰۴ء-۱۹۹۹ء)، رباب سیدہ ( سماجوادی پارٹی، ۰۹ء-۲۰۰۴ء) ، محبوبہ مفتی (پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی،۰۹ء-۲۰۰۴ء: ۱۹ء-۲۰۱۴ء)،تبسم حسن (سماجوادی پارٹی، لوک دل، بہوجن سماج پارٹی ۱۴-۲۰۰۹ء) ، موسم نور (ترنمول کانگریس، ۱۹ء-۲۰۰۹ء)، قیصر جہاں (بہوجن سماج پارٹی، ۱۴ء-۲۰۰۹ء) ممتاز سنگھامیتا (ترنمول کانگریس، ۱۹ء-۲۰۱۴ء)، ساجدہ احمد (ترنمول کانگریس، ۲۴ء-۲۰۱۴ء: ۲۰۲۴ء تا حال) ، رانی نارہ (کانگریس، ۲۰۰۴ء-۱۹۹۸ء: ۱۴ء-۲۰۰۹ء)، نصرت جہاں روحی (ترنمول کانگریس، ۲۴ء-۲۰۱۹ء اور اقراء حسن چودھری (سماجوادی پارٹی،۲۰۲۴ء تا حال) شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بنگال میں تعینات سی آر پی ایف جوانوں کے رول پر سوال
جمعرات کو لوک سبھا میں اس وقت تنازع کھڑا ہوا جب سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور رکن دھرمندر یادو نے مطالبہ کیا کہ مسلم اور او بی سی خواتین کو بھی ریزرویشن کے دائرے میں شامل کیا جائے، ورنہ ان کی پارٹی بل کی مخالفت کرے گی۔ ان کے بیان پر حکمراں محاذ کی جانب سے سخت اعتراض کیا گیا۔ وزیر داخلہ امیت شاہ اور پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینا غیر آئینی ہے۔ رجیجو نے کہا کہ کوٹہ مذہب کی بنیاد پر نہیں دیا جا سکتا اور اراکین سے کہا کہ وہ’’ملک کی تمام خواتین‘‘کی بات کریں۔سماجوادی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی سوال اٹھایا کہ کیا مسلم خواتین’’آدھی آبادی‘‘ کا حصہ نہیں ہیں اور کیا حکومت ذات پر مبنی مردم شماری سے بچ رہی ہے۔