• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

این سی ایل ٹی نے ویڈیوکون کے سابق پروموٹر وینوگوپال دھوت کو دیوالیہ قرار دیا

Updated: November 06, 2026, 8:08 PM IST | New Delhi

نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (این سی ایل ٹی) کی ممبئی بنچ نے ویڈیوکون انڈسٹریز کے سابق پروموٹر اور ڈائریکٹر وینوگوپال نندلال دھوت کو دیوالیہ قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی )کی جانب سے دائر درخواست پر کیا گیا، جس میں دھوت سے تقریباً ۱۲؍ ہزار ۶۶۸؍ کروڑ روپے کے قرض کی وصولی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

NCLT.Photo:INN
این سی ایل ٹی ۔ تصویر:آئی این این

نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (این سی ایل ٹی) کی ممبئی بنچ نے ویڈیوکون انڈسٹریز کے سابق پروموٹر اور ڈائریکٹر وینوگوپال نندلال دھوت کو دیوالیہ قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی )کی جانب سے دائر درخواست پر کیا گیا، جس میں دھوت سے تقریباً ۱۲؍ ہزار ۶۶۸؍ کروڑ روپے کے قرض کی وصولی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ رقم ان قرضوں سے متعلق ہے جو ایس بی آئی اور اس کے سابقہ معاون بینکوں نے ویڈیوکون گروپ کی کمپنیوں کو فراہم کیے تھے اور جن کی ادائیگی کی ذاتی ضمانت دھوت نے دی تھی۔ ٹریبونل کے اس فیصلے کے بعد اب دھوت کے اثاثوں اور جائیدادوں کو دیوالیہ پن کے قانونی طریقۂ کار کے تحت قرض خواہوں میں تقسیم کرنے کا راستہ کھل گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:دلجیت دوسانجھ لاس ویگاس میں لاطینی گریمی ایوارڈز کی تقریب میں پرفارم کریں گے

این سی ایل ٹی کی جانب سے ۵؍ نومبر کو جاری حکم کے مطابق، ایس بی آئی نے دھوت کے خلاف دیوالیہ پن کی کارروائی شروع کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔ بینک کے مطابق ۳۰؍ ستمبر ۲۰۲۶ء تک ان پر مجموعی طور پر ۱۲؍ ہزار ۶۶۸ ؍کروڑ روپے سے زیادہ کی واجب الادا رقم تھی، جس میں اصل قرض کے علاوہ سود اور جرمانے بھی شامل ہیں۔ اس رقم کی تفصیل کے مطابق، ۹؍ ہزار ۳۲۲ ؍کروڑ روپے روپے کے مدتی قرض (Rupee Term Loan)، تقریباً ایک ہزار ۴۳۷؍کروڑ روپے ویڈیوکون ٹیلی کمیونیکیشنز سے متعلق قرض اور ایک ہزار ۹۰۸ ؍کروڑ روپے ورکنگ  کیپٹل  قرض کی مد میں واجب الادا ہیں۔ 
یہ معاملہ ویڈیوکون انڈسٹریز اور ویڈیوکون ٹیلی کمیونیکیشنز لمیٹڈ کو فراہم کیے گئے قرضوں سے متعلق ہے۔ ان کمپنیوں نے ایس بی آئی اور اس کے سابقہ معاون بینکوں سے مختلف مالی سہولتیں حاصل کی تھیں۔ بعد میں قرض کی ادائیگی میں ناکامی کے بعد بینک نے فروری ۲۰۱۸ء میں دھوت کی جانب سے دی گئی ذاتی ضمانتوں کو نافذ کرتے ہوئے انہیں مطالباتی نوٹس جاری کیے تھے۔ واضح رہے کہ ایس بی آئی کے ساتھ ضم ہونے والے سابقہ بینکوں میں اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد، اسٹیٹ بینک آف میسور، اسٹیٹ بینک آف ٹراونکور، اسٹیٹ بینک آف بیکانیر اینڈ جے پور اور اسٹیٹ بینک آف پٹیالہ شامل تھے۔ یہ بینک اپریل ۲۰۱۷ء میں ایس بی آئی میں ضم ہوگئے تھے چونکہ دھوت نے ان قرضوں کے لیے ذاتی ضمانت فراہم کی تھی، اس لیے قرض کی عدم ادائیگی کے بعد بینک نے کمپنی کے ساتھ ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی شروع کی۔ 

یہ بھی پڑھئے:برازیل کے خلاف فٹبال دوستانہ میچ کے بعد ہندوستان پر ۱۹۰ ؍ملین روپے کی ادائیگی باقی

دھوت کے خلاف ذاتی دیوالیہ پن کی کارروائی ۸؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو شروع ہوئی تھی۔ اس دوران انہوں نے قرض خواہوں کو ۳۶ ؍ماہ کے اندر ۶۰۰؍ کروڑ روپے ادا کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ یہ رقم سلی گوڑی میں مجوزہ رئیل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے ادا کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ تاہم، قرض خواہوں اور متعلقہ ریزولیوشن پروفیشنل نے اس منصوبے پر اعتراضات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ ادائیگی مستقبل میں پروجیکٹ کی منظوری، تعمیراتی سرگرمیوں اور متوقع آمدنی پر منحصر تھی، جبکہ اس میں فوری طور پر کوئی رقم ادا کرنے کی یقین دہانی بھی نہیں تھی۔ مزید یہ کہ ۶۰۰ ؍کروڑ روپے کی پیشکش ایس بی آئی کے منظور شدہ دعوے کی رقم کا محض تقریباً ۰ء۴۲ فیصد بنتی تھی۔ اسی وجہ سے قرض خواہوں نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔ 
این سی ایل ٹی نے ۱۷؍ جولائی ۲۰۲۶ء کو دھوت کی جانب سے پیش کردہ ادائیگی کے منصوبے کو انسالوینسی اینڈ بینکروپسی کوڈ کی دفعہ ۱۱۴؍کے تحت مسترد کرتے ہوئے ان کے ذاتی دیوالیہ پن کی ریزولیوشن کارروائی ختم کردی تھی۔ اس کے بعد ایس بی آئی نے ۲۴؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو باقاعدہ دیوالیہ پن کی درخواست دائر کی۔ ٹریبونل نے جانچ کے بعد قرار دیا کہ بینک کی درخواست قانون میں طے کردہ شرائط پر پوری اترتی ہے، لہٰذا اسے قبول کیا جاتا ہے۔ 
این سی ایل ٹی نے اس کارروائی کی نگرانی اور تکمیل کے لیے آشیِش نارائن کو دیوالیہ پن ٹرسٹی  مقرر کیا ہے۔ ٹریبونل کے حکم کے مطابق دھوت کے اثاثے اور جائیدادیں ٹرسٹی کے انتظامی کنٹرول میں رہیں گی، جنہیں قانونی ضابطوں کے مطابق قرض خواہوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔ دھوت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سات دن کے اندر اپنی مالی حالت اور اثاثوں کی تفصیلات ٹرسٹی کے حوالے کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK