• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر ایس آئی آر:ووٹر لسٹ سے خارج کئے گئے افراد میں ’شیخ‘ سر نیم سرفہرست

Updated: November 07, 2026, 9:55 PM IST | Mumbai

مہاراشٹر میں ایس آئی آر کے دوران۲؍ کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کئےجانے پر سبار انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، حذف کئے گئے ووٹروں میں ’شیخ‘ سر نیم رکھنے والوں کا تناسب ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ رہا، جبکہ ممبئی میں یہ فرق مزید نمایاں ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

سبار انسٹی ٹیوٹ کے ابتدائی تجزیے کے مطابق، مہاراشٹر میں خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے دوران انتخابی فہرستوں سے حذف کئے گئے ووٹروں میں ’شیخ‘ سب سے عام خاندانی نام رہا۔ اس نام کے حامل۷؍ لاکھ۵۳؍ ہزار ۹۷۸؍افراد کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کئےگئے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ حذف کئے گئے ووٹروں میں مسلم نام رکھنے والے افراد کی تعداد ان کے آبادی میں تناسب کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ ادارے کے تجزیے کے مطابق، ریاست میں مسلم نام رکھنے والے۳۰؍ لاکھ۲۰؍ ہزار۱۷۳؍ووٹروں کے نام فہرستوں سے حذف کئے گئے، جو مجموعی طور پر حذف کئے گئے۲؍ کروڑ۶؍ لاکھ۸۰؍ ہزار ووٹروں کا۶ء۱۴؍فیصد ہے۔ یہ تناسب مہاراشٹر کی آبادی میں مسلمانوں کے اندازاً۱ء۱۲؍فیصد حصے سے زیادہ ہے، جو مردم شماری کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ممبئی میں یہ فرق مزید نمایاں رہا، جہاں حذف کئے گئے ووٹروں میں مسلم نام رکھنے والوں کا تناسب۳ء۲۱؍ فیصد تھا، جبکہ مہاراشٹر کے دیگر علاقوں میں یہ شرح۲ء۱۳؍ فیصد رہی۔

یہ بھی پڑھئے: انجمن اسلام لگاتار تیسرے سال ہیرس شیلڈ پر قابض، جنرل ایجوکیشن اکیڈمی کوہرایا

خاندانی ناموں کے تجزیے میں شیخ کے بعد پاٹل کا نام دوسرے نمبر پر رہا، جس کے ۴؍ لاکھ۸۳؍ ہزار۵۲۶؍ ووٹروں کے نام حذف کئے گئے۔ اس کے بعد خان (۳؍لاکھ۶۸؍ ہزار۶۴۹)، جادھو (۳؍لاکھ۳۹؍ ہزار۷۹۶) اور پوار (۲؍لاکھ۷۴؍ ہزار۶۰۷) کے نام شامل ہیں۔ شیخ سرنام رکھنے والے ووٹروں میں سے۸۸؍ فیصد کے نام موت کے علاوہ دیگر وجوہات کی بنیاد پر حذف کئے گئے۔ ان وجوہات میں مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل ہونا، غیر حاضر یا ناقابلِ تلاش ہونا اور پہلے سے کسی دوسری جگہ انتخابی فہرست میں درج ہونا شامل ہیں۔ حذف کئے گئے شیخ ووٹروں میں تقریباً۳۰؍ فیصد کا تعلق ممبئی سے تھا، جبکہ۴۷؍ فیصد خواتین تھیں۔ 
رپورٹ کے مطابق، شیخ سرنام رکھنے والے ووٹر مہاراشٹر کے تمام۲۸۸؍ اسمبلی حلقوں میں موجود تھے، تاہم سب سے زیادہ نام ممبرا-کلوہ اسمبلی حلقے سے حذف کئے گئے۔ تاہم، ادارے نے واضح کیا ہے کہ صرف سر نیم کی بنیاد پر سامنے آنے والی اس درجہ بندی کو مذہبی یا ذات پات کی بنیاد پر نشانہ بنانے کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہئے۔ یہ فہرست حذف کئے گئے ووٹروں میں مختلف خاندانی ناموں کی تعداد ظاہر کرتی ہے، نہ کہ کسی مخصوص برادری کے مجموعی ووٹروں میں سے حذف کئے گئے افراد کا تناسب۔ مسلم نام رکھنے والے ووٹروں کے حوالے سے ادارے کا الگ تجزیہ اس معاملے کی وسیع تر تصویر پیش کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تلوجہ: پانی کی شدید قلت کےخلاف مختلف تنظیموں کے نمائندوں کی سڈکو کے اعلیٰ افسر سے ملاقات

مسلم نام رکھنے والے ووٹروں کو غیر حاضر یا پہلے سے درج قرار دیئے جانے کا امکان زیادہ
رپورٹ میں انتخابی فہرستوں سے نام حذف کرنے کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہوئے مسلم نام رکھنے والے ووٹروں اور دیگر ووٹروں کے درمیان فرق بھی سامنے آیا۔ مسلم نام رکھنے والے ووٹروں میں سے۸ء۱۱؍ فیصد کے نام موت کی وجہ سے حذف کئے گئے جبکہ۳ء۱۲؍ فیصد کو پہلے سے کسی دوسری جگہ انتخابی فہرست میں درج قرار دیا گیا۔ اس کے برعکس دیگر ووٹروں میں موت کی وجہ سے نام حذف ہونے کی شرح۸ء۱۶؍فیصد اور پہلے سے درج ہونے کی شرح ۹ء۷؍فیصد رہی۔ اسی طرح مسلم نام رکھنے والے۶ء۳۸؍ فیصد ووٹروں کو غیر حاضر یا ناقابلِ تلاش قرار دیا گیا جبکہ دیگر ووٹروں میں یہ شرح۳ء۳۷؍ فیصد تھی۔ عمر اور اسمبلی حلقوں کے فرق کو مدنظر رکھنے کے بعد کئے گئے تجزیے میں معلوم ہوا کہ دیگر ووٹروں کے مقابلے میں مسلم نام رکھنے والے ووٹروں کے پہلے سے درج ہونے کے زمرے میں ڈالے جانے کے امکانات، موت کے زمرے میں ڈالے جانے کے مقابلے میں ۰۷ء۲؍گنا زیادہ تھے۔ اسی طرح غیر حاضر یا ناقابلِ تلاش قرار دیئے جانے کے امکانات۴۰ء۱؍گنا زیادہ پائے گئے۔ 
ادارے کے مطابق، اس کی ایک ممکنہ وجہ ناموں کی بنیاد پر دوہرے اندراج کی شناخت کا طریقہ کار ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں میں شیخ، خان، سید اور پٹھان جیسے نسبتاً محدود تعداد میں خاندانی نام اور نام رکھنے کے مخصوص انداز عام ہیں، جس کی وجہ سے بعض اوقات مختلف افراد کے ناموں کو ایک جیسا سمجھ کر دوہرے اندراج کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم، ادارے نے واضح کیا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ اس طرح کی غلطیاں واقعی ہوئی ہیں یا نہیں، کیونکہ اس کے پاس ان اندراجات سے متعلق اصل رجسٹریشن ریکارڈ موجود نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھئے: مسجد کے باہر یوسی سی کیو آر کوڈ اسکین کرنے کی اپیل پرنوجوانوں کو پولیس نے روکا

ووٹروں کے نام حذف ہونے کے معاملے میں ممبئی کا غیر معمولی حصہ
رپورٹ کے مطابق، ممبئی کے۳۶؍ اسمبلی حلقوں سے حذف کئےگئے ووٹروں کی تعداد ریاست بھر میں حذف ہونے والے مجموعی ووٹروں کا۱۷؍ فیصد تھی، حالانکہ ایس آئی آر سے قبل ریاست کے مجموعی ووٹروں میں ممبئی کا حصہ صرف۱۱؍ فیصد تھا۔ ممبئی میں مجموعی ووٹروں کے۷ء۳۴؍فیصد نام انتخابی فہرستوں سے حذف کئےگئے۔ تھانے ضلع میں موت کے علاوہ دیگر وجوہات کی بنیاد پر حذف کئے گئے ووٹروں کی شرح وہاں کے مجموعی ووٹروں کے۴ء۳۵؍ فیصد کے برابر رہی۔ اس کے بعد ممبئی سٹی میں یہ شرح۶ء۳۱؍ فیصد اور ممبئی سبربن میں ۷ء۲۹؍ فیصد رہی۔ قلابہ اسمبلی حلقے میں ہی ایک لاکھ۱۹؍ہزار۶۰۶؍ ووٹروں کے نام حذف کئے گئے، جو۲۰۲۴ء کے اسمبلی انتخابات میں وہاں ڈالے گئے مجموعی ووٹوں (ایک لاکھ۱۸؍ ہزار۴۹۹) سے بھی زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے۲۸۸؍اسمبلی حلقوں میں سے۱۹۰؍ میں زندہ ووٹروں کے حذف کئےگئے ناموں کی تعداد۲۰۲۴ء کے اسمبلی انتخابات میں کامیاب امیدوار کی جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔ جبکہ۹۵؍ اسمبلی حلقوں میں صرف غیر حاضر یا ناقابلِ تلاش قرار دیئے گئے ووٹروں کی تعداد ہی جیت کے فرق سے زیادہ رہی۔

یہ بھی پرھئے: شکست کے بعد ٹرمپ کو استعفوں کا سامنا، ہرمیت ڈھلون مستعفی

مہاراشٹر میں ۲؍ کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف
مجموعی طور پر مہاراشٹر میں ۲؍کروڑ۶؍ لاکھ۸۸؍ ہزار۴۲۱؍ ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کئے گئے جو ایس آئی آر سے قبل ریاست کے مجموعی ووٹروں کا تقریباً۱ء۲۱؍فیصد ہے۔ حذف کئے گئے ناموں میں سے۸ء۱۶؍ فیصد افراد کو موت کی وجہ سے فہرست سے خارج کیا گیا، جبکہ باقی ایک کروڑ۷۲؍ لاکھ ووٹروں کو مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل ہونے، غیر حاضر یا ناقابلِ تلاش ہونے اور پہلے سے انتخابی فہرست میں درج ہونے جیسے زمروں میں شامل کیا گیا۔ رپورٹ میں تیسری جنس کے ووٹروں کے نام حذف ہونے کی بڑی تعداد کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ انتخابی فہرستوں میں درج تیسری جنس کے مجموعی۶؍ ہزار۱۰۱؍ ووٹروں میں سے۳؍ ہزار۲۵۰، یعنی۳ء۵۳؍ فیصد کے نام حذف کر دیئے گئے۔ ملاڈ ویسٹ اسمبلی حلقے میں تیسری جنس کے۳۴۵؍ ووٹروں میں سے۳۱۳؍ کے نام فہرست سے خارج کئے گئے۔

یہ بھی پڑھئے: تہوار کے دوران بھیڑ کے پیش نظر پلیٹ فارم ٹکٹ کی فروخت پر وقتی پابندی عائد کردی

سبار انسٹی ٹیوٹ نے واضح کیا ہے کہ اس کے نتائج الیکشن کمیشن کے شائع کردہ اعداد و شمار کے ابتدائی تجزیے پر مبنی ہیں۔ مسلم نام رکھنے والے ووٹروں کی شناخت کیلئے ادارے نے ووٹروں اور ان کے رشتہ داروں کے ناموں کی بنیاد پر اپنا درجہ بندی کا طریقہ استعمال کیا ہے۔ لہٰذا یہ ایک شماریاتی تخمینہ ہے، نہ کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری طور پر درج کی گئی کوئی الگ زمرہ بندی۔ رپورٹ میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ انتخابی فہرست سے کسی شخص کا نام حذف ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی شہریت یا سرکاری سہولیات حاصل کرنے کا قانونی حق ختم ہوگیا ہے۔ تاہم، انتخابی ریکارڈ میں نام نہ ہونے کی وجہ سے ان معاملات میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں جہاں ووٹر شناختی کارڈ یا رہائش کے دستاویزات کو ثبوت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK