Inquilab Logo Happiest Places to Work

این سی پی کا انتخابی منشور جاری،’اپنی ممبئی ، سب کی ممبئی ‘ کا نظریہ پیش کیا

Updated: January 08, 2026, 6:25 PM IST | Inquilab News Network | Churchgate

پرانی چالیوں اور جھوپڑپٹیوں میں مفت پانی، معذور افراد کیلئےممبئی میٹرو میں مکمل رعایت جیسے متعدد وعدے ،دھاراوی معاملے پر اڈانی کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا نواب ملک کا وعدہ۔

NCP leaders Zeeshan Siddiqui, Nawab Malik, Sunil Tatkre, Sana Malik at the launch of the manifesto. Picture: INN
این سی پی لیڈران ذیشان صدیقی ،نواب ملک،سنیل تٹکرے، ثناءملک منشور کے اجراء کے موقع پر۔ تصویر: آئی این این
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (اجیت) نے ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے تناظر میں شہریوں کیلئے اپنا منشور جاری کرتے ہوئے واضح کیا  کہ پارٹی پوری خود اعتمادی کے ساتھ اور اپنی الگ سیاسی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے انتخابی میدان میں اتری ہے۔ این سی پی (اجیت)کے جاری کردہ منشور میں ’اپنی ممبئی، سب کی ممبئی‘ کے نظریے کے تحت غریب، متوسط اور خوشحال طبقے سب کو مساوی مواقع فراہم کرنے کا عہد کیا گیا ہے۔ اس میں پرانی چالیوں اور جھوپڑپٹیوں میں مفت پانی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، معذور افراد کیلئےممبئی میٹرو میں مکمل رعایت، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، خواتین کی سلامتی اور شفاف بلدیاتی انتظام جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ منشور محض وعدوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ممبئی کو سماجی ہم آہنگی، مساوات اور پائیدار ترقی کی راہ پر لے جانے کا عملی خاکہ ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ سنیل تٹکرے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی حدوں اور طاقت کا پورا ادراک ہے، اس کے باوجود ہم ممبئی شہر میں مضبوطی کے ساتھ اپنی الگ شناخت کے ساتھ انتخابات کا سامنا کر رہے ہیں اور تمام ممبئی والوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ این سی پی کا ساتھ دیں۔
ممبئی کے وانکھیڈے اسٹیڈیم کے ایم سی اے لاؤنج میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنیل تٹکرے نے کہا کہ ریاست میں ۲۶۵؍ میونسپل کونسلوں اور نگر پنچایتوں کے انتخابات کے بعد اب ۲۹؍ میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ بعض شہروں میں اتحاد کے تحت مقابلہ ہو رہا ہے، مگر ممبئی میں بی جے پی اور شیو سینا ایک ساتھ انتخابی میدان میں ہیں، جبکہ این سی پی ۹۴؍ نشستوں پر آزادانہ طور پر انتخاب لڑ رہی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ امیدواروں کے انتخاب میں کسی خاص طبقے کو ترجیح دی گئی ہے۔ ان کے مطابق۹۴؍ امیدواروں میں مراٹھی، اتر بھارتی، مسلم، عیسائی، تیلگو، تمل اور بوہرہ سماج سے تعلق رکھنے والے امیدوار شامل ہیں، جن میں۵۰؍ خواتین،۱۷؍ او بی سی اور۱۲؍درج فہرست ذات کے امیدوار بھی شامل ہیں، جو پارٹی کے ہمہ گیر سماجی کردار کو ظاہر کرتا ہے۔
سنیل تٹکرے نے کہا کہ ممبئی ملک کی اقتصادی راجدھانی اور عالمی معیار کا شہر ہے، جہاں مختلف زبانوں اور مذاہب کے لوگ بستے ہیں۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی تمام طبقات کو ساتھ لے کر، شہری مسائل کے حل اور مساوی مواقع کی بنیاد پر یہ انتخاب لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر نواب ملک، رکن اسمبلی ثناء ملک شیخ اور سابق رکن اسمبلی ذیشان صدیقی نے شہر کے مختلف مسائل پر سنجیدہ کام کیا ہے، جبکہ قومی صدر اور نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار اور قومی کارگزار صدر پرفُل پٹیل کو بھی ممبئی کے مسائل کی گہری سمجھ ہے۔ اس کے علاوہ دو مرتبہ ممبئی کے میئر رہ چکے چھگن بھجبل کو شہر کی سیاست اور انتظامی ڈھانچے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے نواب ملک نے ممبئی بی جے پی کے صدر امیت ساٹم پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ امیت ساٹم عوام کو گمراہ کر رہے ہیں ۔ گزشتہ ۵۰؍برسوں سے بنگلہ دیشی دراندازی کے نام پر سیاست کی جا رہی ہے، مگر زمینی حقائق کے بجائے صرف خوف پیدا کیا جا رہا ہے۔ دھاراوی ری ڈیولپمنٹ کے حوالے سے نواب ملک نے کہا کہ اس منصوبے کا تصور انہوں نے۲۰۰۲ء میں پیش کیا تھا اور اس وقت بھی پارٹی کا واضح موقف یہی تھا کہ ہر خاندان کو عزت کے ساتھ گھر ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دھاراوی کے معاملے میں اگرعوامی مفاد کے خلاف کوئی قدم اٹھایا گیا، یا اڈانی گروپ کی جانب سے ناانصافی کی گئی، تو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اس کی سخت مخالفت کرے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK