• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیہا سنگھ راٹھوڑ سے متعلق توہین آمیز رپورٹنگ پر این سی ڈبلیو نے ازخود نوٹس لیا

Updated: October 19, 2026, 10:04 PM IST | New Delhi

مشہور لوک گلو کارہ نیہا سنگھ راٹھوڑ کے متعلق ایک نیوز چینل کی جانب سے نازیبا اور جھوٹی خبر چلائی گئی جس پر قومی کمیشن برائے خواتین نے ازخود نوٹس لیا ہےاور کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ نیوز چینل نے رپورٹنگ کے دوران راٹھوڑ کے خلاف مبینہ طور پر تحقیر آمیز زبان کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ایک جنسی کارکن (سیکس ورکر ) کے طور پر پیش کیا اور ان کی ساکھ اور عزت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

Neha Singh Rathore. Photo: INN
نیہا سنگھ راٹھوڑ۔ تصویر: آئی این این

قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) نے پیر کو خبروں کا از خود نوٹس لیا ہے جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایک نیوز چینل نے لوک گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھوڑ کو ایک سیکس ریکٹ سے جوڑتے ہوئے توہین آمیز مواد نشر کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق، نیوز چینل نے رپورٹنگ کے دوران راٹھور کے خلاف مبینہ طور پر تحقیر آمیز زبان کا استعمال کیا۔ گلوکارہ نے الزام لگایا کہ اس رپورٹ کے ذریعے انہیں ایک جنسی کارکن (سیکس ورکر ) کے طور پر پیش کر کے ان کی ساکھ اور عزت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس: طلبہ کا احتجاج لوور میوزیم تک پہنچ گیا، مشہور عجائب گھر کے دروازے بند

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، این سی ڈبلیو نے کہا کہ عوامی تنقید کے بعد چینل نے بعد میں اعتراف کیا کہ اس کی رپورٹ حقائق کے برعکس تھے اور اس پر معافی بھی مانگی۔ کمیشن کی چیئرپرسن وجیا رہاٹکر نے وزارتِ اطلاعات و نشریات سے درخواست کی ہے کہ وہ متعلقہ ریگولیٹری، انتظامی اور سیلف ریگولیٹری اداروں کو اس معاملے میں فوری کارروائی کی ہدایت دیں۔ ان اداروں میں پریس کونسل آف انڈیا (پی سی آئی)، الیکٹرانک میڈیا مانیٹرنگ سینٹر (ای ایم ایم سی)، نیوز براڈکاسٹرز اینڈ ڈجیٹل ایسوسی ایشن (این بی ڈی اے) اور ڈجیٹل پبلشرز کنٹینٹ گریوانس کونسل (ڈی پی سی جی سی) شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پیرس: احتجاج کے دوران لوٹا گیا سامان بے گھر افراد میں تقسیم؟ ویڈیو وائرل

کمیشن نے انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیری گائیڈ لائنز اینڈ ڈجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) رولز ۲۰۲۱؍ کے تحت ایک مقررہ وقت کے اندر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی ۱۵؍ دنوں کے اندر ایکشن ٹیکن رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ کمیشن نے خواتین کو صنفی بنیاد پر کردار کشی اور ڈجیٹل ہراسانی سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا۔ این سی ڈبلیو نے کہا،’’میڈیا کی آزادی کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ کیا جانا چاہئے، جس میں حقائق کی درستگی، خواتین کے وقار، پرائیویسی اور ان کی عزت و ساکھ کا پورا احترام کیا جانا چاہئے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK