حالیہ انتخابات میں ۲۶؍ میں سے ۱۹؍ سیٹوں پر این ڈی اے نے قبضہ کیا، اب وہ ایوان بالا میں دو تہائی اکثریت سے صرف ۱۳؍ نشستیں دور رہ گئی ہے۔
EPAPER
Updated: June 20, 2026, 9:46 AM IST | New Delhi
حالیہ انتخابات میں ۲۶؍ میں سے ۱۹؍ سیٹوں پر این ڈی اے نے قبضہ کیا، اب وہ ایوان بالا میں دو تہائی اکثریت سے صرف ۱۳؍ نشستیں دور رہ گئی ہے۔
بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے نے راجیہ سبھا میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر لی ہے۔ جمعرات کو مکمل ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات کے آخری مرحلے میں این ڈی اے نے۲۶؍ میں سے۱۹؍ نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ کانگریس کی قیادت والے’انڈیا اتحاد‘ کو۶؍ نشستیں ملیں اور میزورم کی حکمراں جماعت زورم پیوپلس موومنٹ نے ایک نشست اپنے نام کی۔
تازہ نتائج کے بعد۲۴۵؍ رکنی راجیہ سبھا میں این ڈی اے کے اراکین ۱۴۸؍ سے بڑھ کر۱۵۰؍ ہو گئے ہیں ۔ اب وہ دو تہائی اکثریت کیلئے درکار۱۶۳؍ نشستوں سے صرف۱۳؍ نشستیں دور ہے۔جھارکھنڈ میں ایک بڑا سیاسی الٹ پھیر دیکھنے کو ملا، جہاں ریاستی اسمبلی میں انڈیا اتحاد کے واضح اکثریتی اعداد و شمار کے باوجود این ڈی اے کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار پریمل ناتھوانی نے غیر متوقع کامیابی حاصل کی۔ان کی جیت کو اپوزیشن خیمے میں ہونے والی مبینہ کراس ووٹنگ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ریاست کی دوسری نشست پر بیج ناتھ رام نے کامیابی حاصل کی۔دوسری جانب میزورم کی واحد راجیہ سبھا نشست پر زورم پیپلز موومنٹ کے امیدوار کے کے لال تلو آنگالیہ کامیاب ہوئے ۔ ان ۲۶؍ نشستوں میں سے ۲۴؍ پر امیدوار پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہو چکے تھے جن میں ۱۹؍ این ڈی اے اور۵؍ اپوزیشن کے امیدوار شامل تھے۔ اپوزیشن کے اندرونی اختلافات نے این ڈی اے کی پوزیشن مزید مضبوط کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ابھیشیک بنرجی کی اسپیکر سے ملاقات، باغیوں کیخلاف ۲۰؍ پٹیشن پیش کیں
رپورٹ کے مطابق کچھ عرصہ قبل راگھو چڈھا کی قیادت میں عام آدمی پارٹی کے ۷؍ راجیہ سبھا ار اکین بی جے پی میں چلے گئے جس سے حکمراں اتحاد کو فائدہ پہنچا۔ پھر ممتا بنرجی کی ٹی ایم سی میں جاری اختلافات کے بعد ۳؍ راجیہ سبھا اراکین نے استعفیٰ دیدیا ہے۔ اگر این ڈی اے ان نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات جیت لیتا ہے تو اس کی تعداد۱۵۰؍ سے بڑھ کر۱۵۳؍ ہو جائے گی اور وہ دو تہائی اکثریت سے صرف۱۰؍ نشستیں دور رہ جائے گا۔ اگرچہ این ڈی اے کی پوزیشن راجیہ سبھا میں مضبوط ہوتی جا رہی ہے، لیکن دو تہائی اکثریت تک پہنچنے کا راستہ آسان نہیں ہے۔سال کے آخر میں یوپی سے راجیہ سبھا کے ۱۰؍ اراکین کی مدت ختم ہو رہی ہے جہاں سماج وادی پارٹی کی مضبوط موجودگی کے باعث وہ بعض نشستیں حاصل کر سکتی ہے، جس سے این ڈی اے کے حساب کتاب پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اسکے علاوہ وائے ایس کانگریس پارٹی کے۷؍ اور بیجو جنتادل کے۶؍ راجیہ سبھا ار اکین بھی مستقبل میں کسی اہم آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے دوران ’کنگ میکر‘کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان جماعتوں کا جھکاؤ اکثر بی جے پی کی جانب رہتا ہے۔ مجموعی طور پر این ڈی اے راجیہ سبھا میں اس پوزیشن کے بہت قریب پہنچ چکا ہے جہاں وہ آئینی ترامیم سے متعلق قانون سازی نسبتاً آسانی سے کروا سکے گا۔