• Sun, 13 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دنیا کے تقریباً نقل مکانی کرنے والے نصف پرندے زوال کا شکار، رپورٹ میں خطرے کی گھنٹی

Updated: September 13, 2026, 4:02 PM IST | New Delhi

برڈ لائف انٹرنیشنل کی عالمی رپورٹ کے مطابق ۱۸۴۳؍ نقل مکانی کرنے والی انواع میں۴۵؍ فیصد کی تعداد کم ہورہی ہے، جبکہ ۲۰۰؍ انواع معدومی کے خطرے سے دوچار؛ ساحلی اور سمندری پرندے سب سے زیادہ متاثر۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

دنیا بھر میں موسم اور خوراک کی تلاش میں ایک خطے سے دوسرے خطے کا سفر کرنے والے پرندوں کی آبادی تیزی سے کم ہورہی ہے۔برڈ لائف انٹرنیشنل کی نئی اسٹیٹ آف دی ورلڈس برڈ ۲۰۲۶ء رپورٹ کے مطابق جائزہ لی گئی ۱۸۴۳؍ نقل مکانی کرنے والی انواع میں ۴۵؍ فیصد کی عالمی آبادی زوال کا شکار ہے، جبکہ صرف ۱۴؍ فیصد انواع کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ۳۰؍ فیصد انواع کی تعداد مستحکم ہے جبکہ ۱۱؍ فیصد کے بارے میں آبادی کے رجحانات واضح نہیں۔

رپورٹ کے مطابق ۲۰۰؍ انواع، یعنی تقریباً ۱۱؍ فیصد نقل مکانی کرنے والے پرندے، معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ان میں ۳۲؍ انواع کو انتہائی خطرے سے دوچار، ۵۷؍ کو خطرے سے دوچار اور ۱۱۱؍ کو غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ مزید ۱۱۱؍ انواع ’’قریب از خطرہ‘‘ زمرے میں ہیں، جس کا مطلب ہے کہ مجموعی طور پر تقریباً ۱۷؍فیصد نقل مکانی کرنے والے پرندے تحفظ کے حوالے سے نمایاں تشویش کا باعث بن چکے ہیں۔

سمندری اور ساحلی علاقوں پر انحصار کرنے والے پرندوں کی صورتحال خاص طور پر خراب ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ۵۴؍فیصد نقل مکانی کرنے والے ساحلی پرندوں اور ۴۹؍فیصد سمندری پرندوں کی آبادی کم ہورہی ہے۔ سمندری ماحول، جنگلات اور ساحلی دلدلی علاقوں سے وابستہ تقریباً ۴۷؍ فیصد سے ۵۱؍فیصد انواع بھی زوال کا شکار ہیں۔ مشرقی ایشیا۔آسٹریلیا نقل مکانی کے راستے میں ۵۳؍ فیصد انواع کی تعداد کم ہوئی، جو ۴؍ بڑے زمینی نقل مکانی کے راستوں میں سب سے زیادہ شرح ہے۔

طویل فاصلے تک سفر کرنے والے پرندوں کی کئی اہم آبادیوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔ یورپ اور افریقہ کے درمیان نقل مکانی کرنے والے پرندوں کی تعداد ۱۹۸۰ءکے بعد تقریباً ۳۵؍فیصد کم ہوئی۔ شمالی امریکہ میں ۱۹۷۰ء سے ۲۰۱۷ء کے درمیان ۴۱۹؍ نقل مکانی کرنے والی انواع کی مجموعی تعداد میں تقریباً ۵ء۲؍ ارب پرندوں کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ ۱۹۸۰ء سے ۲۰۱۹ء تک زیر نگرانی ۲۸؍ ساحلی پرندوں میں سے ۲۶؍ کی تعداد کم ہوئی اور نصف سے زیادہ انواع کی آبادی ۵۰؍فیصد سے بھی زیادہ گھٹ گئی۔

رپورٹ نے slender-billed curlew کے معدوم ہونے کو بھی نمایاں کیا ہے۔ یہ پرندہ آخری مرتبہ ۱۹۹۵ء میں مراکش میں قابلِ اعتماد طور پر دیکھا گیا تھا اور اب اسے معدوم قرار دیا گیا ہے۔ اسے براعظم یورپ، شمالی افریقہ اور مغربی ایشیا سے تعلق رکھنے والی کسی پرندے کی جدید دور میں پہلی تصدیق شدہ عالمی معدومی قرار دیا گیا ہے۔ گزشتہ ۱۵۰؍ برس میں دنیا بھر میں نقل مکانی کرنے والی ۷؍ پرندوں کی انواع کے معدوم یا ممکنہ طور پر معدوم ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بحران کے بنیادی اسباب میں انسانی سرگرمیاں نمایاں ہیں۔ خطرے سے دوچار نقل مکانی کرنے والی ۱۳۹؍ انواع کو بیرونی انواع اور بیماریوں، ۱۰۳؍  کو زرعی سرگرمیوں اور اتنی ہی انواع کو موسمیاتی تبدیلی سے خطرہ لاحق ہے۔ شکار اور پرندوں کو پکڑنے کے واقعات ۹۹؍ انواع، آلودگی ۹۶؍، شہری پھیلاؤ ۷۱؍، انسانی مداخلت ۶۵؍، ماہی گیری ۶۲؍، توانائی کے بنیادی ڈھانچے ۵۵؍ اور جنگلات کی کٹائی ۳۹؍ انواع کو متاثر کررہی ہے۔
برڈلائف انٹرنیشنل کے چیف سائنس دان اسٹورٹ بُچرٹ نے کہا کہ نقل مکانی کرنے والے پرندے قدرتی نظام کے لیے ’’نگہبان‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی تعداد میں کمی ان ماحولیاتی نظاموں پر بڑھتے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے جن پر انسان بھی انحصار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں مربوط تحفظ کی کوششوں سے بعض انواع کو معدومی سے بچایا اور کچھ آبادیوں کو بحال کیا گیا، لیکن اب کارروائی الگ الگ ممالک کے بجائے مکمل نقل مکانی کے راستوں کی سطح پر کرنا ہوگی۔
یہ رپورٹ کینیا کے شہر نیروبی میں منعقدہ گلوبل فلائی ویز سمٹ (Global Flyways Summit) کے دوران جاری کی گئی، جہاں حکومتوں، سائنس دانوں، ماحولیاتی تنظیموں اور مالیاتی اداروں نےنیروبی فلائی ویز ڈیکلریشن (Nairobi Flyways Declaration) منظور کیا۔ اس کے تحت نقل مکانی کے راستوں پر تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے اور ترقیاتی مالی اعانت میں پرندوں کے اہم مسکن شامل کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک، ڈیولپمنٹ بینک آف لاطینی امریکہ اور دی کیریبین اور ودلڈ بینک سے وابستہ منصوبوں کے ذریعے مسکن کے تحفظ اور بحالی کے لیے تقریباً ۶؍ بلین ڈالر متحرک کرنے کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ۲۰۳۰ء تک حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ۱۹۶؍ممالک کی جانب سے طے کیے گئے اہداف کی جانب پیش رفت اب بھی ’’بہت سست‘‘ ہے۔ چونکہ نقل مکانی کرنے والے پرندے افزائش، خوراک اور موسم سرما گزارنے کے لیے کئی ممالک اور براعظموں سے گزرتے ہیں، اس لیے کسی ایک اہم دلدلی علاقے، جنگل یا ساحلی مقام کا نقصان پوری نوع کی آبادی کو متاثر کرسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK