Inquilab Logo

نیٹ معاملہ: احتجاج تیز، سی بی آئی جانچ میں پیشرفت، گجرات کنکشن بھی سامنے آیا

Updated: June 24, 2024, 9:04 PM IST | New Delhi

ملک بھر میں امتحان دوبارہ کرانے کے مطالبے میں شدت۔ بی جےپی کی طلبہ تنظیم بھی احتجاج میں شامل۔ اس احتجاج میں بڑی تعداد میں طلبہ اور این ایس یو آئی کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ طلبہ نے ہاتھوں میں پلے کارڈ لے کر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نیٹ امتحان کو منسوخ کرنے، دوبارہ امتحان کرانے اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

Students demanding re-conduct of NET exam. Photo: INN
نیٹ امتحان کو دوبارہ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے طلبہ۔ تصویر: آئی این این

نیٹ امتحان سے متعلق پیپر لیک کا معاملہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ اس معاملے میں جہاں ملک گیر احتجاج ہورہے ہیں، وہیں کانگریس کی طلبہ تنظیم ’نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا‘ (این ایس یو آئی)  کے اراکین نے دوبارہ امتحان کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی کے ساتھ اس مبینہ پیپر لیک کے تار اب گجرات سے جڑگئے ہیں جس کی جانچ کیلئے سی بی آئی کی ایک ٹیم گجرات پہنچی ہے۔   دلچسپ بات یہ ہے کہ نیٹ معاملے میں بی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی بھی احتجاج کررہی ہے جبکہ امتحان  کے نگراں ادارے (این ٹی اے) کا سربراہ اے بی وی پی سے وابستہ رہ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بہارمیں ایک اور پُل منہدم، ہفتے بھر میں تیسرا واقعہ

اس معاملے میں ملک گیر طلبہ کی نمائندگی کرتے ہوئے طلبہ تنظیم ’این ایس یو آئی‘ نے پیر کو دہلی میں جنترمنتر پر زبردست مظاہرہ کیا۔ اس احتجاج میں بڑی تعداد میں طلبہ اور این ایس یو آئی کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ طلبہ نے ہاتھوں میں پلے کارڈ لے کر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نیٹ امتحان کو منسوخ کرنے، دوبارہ امتحان کرانے اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ این ایس یو آئی کے سربراہ ورون چودھری نے سوال کیا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی ایسی کیا مجبوری ہے جو نیٹ امتحان دوبارہ نہیں کرا رہے؟ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں سی بی آئی ۲۔۳؍ دنوں میں اپنی جانچ مکمل کرے تاکہ نیٹ کا یہ  امتحان دوبارہ  ہونے  کا راستہ ہموار ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دوبارہ امتحان نہیں کرایا گیا تو این ایس یو آئی ملک بھر میں احتجاج کرے گی، جس کا  آغازوزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے ادیشہ واقع گھر سے ہوگا۔

اسی دوران اس معاملے میں جانچ کو آگے بڑھاتے ہوئے تفتیشی ایجنسی سی بی آئی کی ایک ٹیم گجرات کے پنچ محل ضلع کے گودھرا شہر پہنچی۔اس طرح پیپر لیک معاملے کا کنکشن اب گجرات سے بھی جڑ گیا ہے۔ بہار اور مہاراشٹر کے بعد گجرات تیسری ایسی ریاست ہے جس کے تار پیپر لیک معاملے سے جڑے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تینوں ہی ریاستوں میں این ڈی اے کی حکومتیں ہیں جن میں بی جے پی شامل ہے۔  خیال رہے کہ گودھرا پولیس نے ۸؍ مئی کو ہی مجرمانہ سازش اور فریب دہی سمیت تعزیرات ہند کے مختلف دفعات کے تحت ایک معاملہ درج کیا تھا۔ اس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ۲۷؍ امیدواروں سے۱۰۔۱۰؍ لاکھ روپے لے کر نیٹ امتحان پاس کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ 

پنچ محل کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ہمانشو سولنکی نے اس تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی کی ایک ٹیم گودھرا پہنچی  اور مقامی پولیس حکام سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے کی تحقیقات کیلئے ان سے ہر ممکن تعاون کریں گے۔ واضح رہے کہ طلبہ کے ملک گیر احتجاج اور سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے دعوؤں کی تحقیقات کے درمیان، ایک دن قبل سی بی آئی نے نامعلوم افراد کے خلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK