Updated: July 24, 2026, 8:02 PM IST
| Mumbai
نیٹ یو جی ۲۰۲۶ء کے مبینہ پرچہ لیک پر جاری ملک گیر احتجاج کے درمیان یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ NEET کے نمایاں کامیاب طلبہ (چیمپیئنز) کی کامیابی کا جشن منائیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس ہدایت نے نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب ہزاروں طلبہ امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، حکومت کا یہ اقدام اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔ طلبہ نے اسے ’’منظم پروپیگنڈہ‘‘ قرار دیا۔
نیٹ یو جی ۲۰۲۶ء کے مبینہ پرچہ لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف جاری احتجاج کے دوران حکومت اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی جانب سے ایک نئی ہدایت سامنے آئی ہے، جس میں تعلیمی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ NEET کے نمایاں کامیاب طلبہ کی کامیابیوں کا جشن منائیں اور ان کی محنت کو اجاگر کریں۔ اس اقدام کا مقصد ان طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا بتایا گیا ہے جنہوں نے مشکل حالات کے باوجود نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ہدایت کے مطابق کالجوں اور تعلیمی اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں تقریبات، تعریفی پروگرام اور دیگر سرگرمیاں منعقد کریں تاکہ طلبہ میں مثبت پیغام جائے اور یہ تاثر قائم ہو کہ امتحانی تنازع کے باوجود لاکھوں امیدواروں نے اپنی محنت کے بل پر کامیابی حاصل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دیا مرزا نے مودی کے ویڈیو پیغام پر سوال اٹھایا، امول پالیکر کا طلبہ کے نام خط
دوسری جانب اس فیصلے پر مختلف حلقوں نے سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب ملک بھر میں لاکھوں طلبہ پرچہ لیک، امتحانی شفافیت اور جوابدہی کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں، ایسے وقت میں جشن منانے کی ہدایت جاری کرنا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق اس سے احتجاج کرنے والے طلبہ کے خدشات پس منظر میں چلے جانے کا اندیشہ ہے۔حکو متی ذرائع کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام احتجاج یا اصلاحاتی عمل کے خلاف نہیں بلکہ ان لاکھوں طلبہ کی محنت کو تسلیم کرنے کے لیے ہے جنہوں نے تمام مشکلات کے باوجود امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ حکام کے مطابق امتحانی نظام میں اصلاحات، مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور کامیاب امیدواروں کی حوصلہ افزائی، تینوں عمل ایک ساتھ جاری رہ سکتے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق طلبہ نے اسے ’’منظم پروپیگنڈہ‘‘ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر انٹرنیٹ بندش کے خلاف پی آئی ایل، دہلی ہائی کورٹ فوری سماعت پر آمادہ
ادھر جنتر منتر سمیت ملک کے مختلف حصوں میں جاری احتجاج بدستور جاری ہے۔ احتجاجی طلبہ اور ان کی حمایت کرنے والی تنظیمیں امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ نئے قوانین، انتظامی اصلاحات اور مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل کی کوشش کر رہی ہے۔