• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین: بے روزگار افراد اہلِ خانہ سے اپنی بے روزگاری چھپانے کیلئے کام پر جانے کا جھوٹا ڈھونگ رچا رہےہیں

Updated: October 20, 2026, 10:05 PM IST | Beijing

کورنیل یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈیانا فو نے کہا کہ کام کرنے کا جھوٹا ڈھونگ رچانا لوگوں کو اپنی عزت بچانے میں مدد کرتا ہے اور عوامی بے چینی کو کم کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بیجنگ کو سماجی استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ وہ آٹومیشن کو آگے بڑھا رہا ہے اور ٹیکنالوجی میں امریکہ کا مقابلہ کر رہا ہے۔ چین کے بے روزگار افراد کے درمیان یہ بڑھتا رجحان، جاپانی اور جنوبی کوریائی تنخواہ یافتہ ملازمین کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے ۱۹۹۰ء کی دہائی کے ایشیائی مالیاتی بحران کے دوران اپنی ملازمتوں کے خاتمے کو چھپایا تھا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

غیرملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، چین میں بے روزگار افراد کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اپنے اہلِ خانہ کو پریشانی سے بچانے اور ان سے اپنی بے روزگاری چھپانے کیلئے کیلئے روزانہ کام پر جانے کا ناٹک کر رہی ہے۔ ایک سرکاری پراپرٹی فرم کی ۳۲ سالہ سابق ملازمہ کوکو لی نے ۶ ماہ سے زائد عرصہ قبل نوکری چھوڑ دی تھی لیکن انہوں نے اپنی والدہ کو نہیں بتایا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی والدہ زیادہ پریشان ہو جائیں گی۔

اسی طرح، ۲۸ سالہ سوسن سن کو ایک انٹرنیٹ کمپنی نے گزشتہ کے اواخر میں فارغ کردیا تھا۔ مئی میں سن کے والدین ان کے گھر منتقل ہوگئے جس کے بعد، وہ صبح ۹ بجے سے پہلے چونگ چنگ میں واقع اپنے گھر سے نکل جاتی ہیں اور شام ۶ بجے کے بعد واپس آتی ہیں۔ وہ بے روزگاری الاؤنس اور بچی ہوئی سیورینس (ملازمت ختم ہونے پر ملنے والی رقم) سے ماہانہ ۱۸۶۴ یوآن (۲۷۸ ڈالر) پر گزر بسر کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی کمپنیوں کی نئی دوڑ: اب انسانی مہارت اور روزمرہ کاموں کا ڈیٹا اربوں ڈالر میں خریدنے کیلئے تیار

انٹرنیٹ پر یہ رجحان بڑے پیمانے پر دکھائی دیتا ہے۔ بے روزگاروں کیلئے دن کا وقت گھر سے باہر گزارنے اور رشتہ داروں کے سوالات سے بچنے کے طریقے بتانے والی پوسٹس کو ریڈ نوٹ (RedNote) پر ۷ کروڑ، ڈوئین (Douyin) پر ۶۰ کروڑ سے زائد اور ویبو (Weibo) پر ۳۲ کروڑ سے زائد لوگ پڑھ چکے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنے دن پارک، لائبریریوں، کیفے اور شاپنگ مالز میں گزارتے ہیں۔ اگست میں اے آئی کی وجہ سے ہونے والی برطرفیوں میں اپنی نوکری گنوانے والی ۳۶ سالہ ویژول ایفیکٹس پروڈیوسر ژانگ نے بتایا کہ کام کے دن کے دوران لائبریری کو کھچا کھچ بھرا دیکھ کر انہیں حیرت ہوئی۔ 

تجزیہ کار اس رجحان کو روزگار کی کمزور منڈی سے جوڑ کر پیش کرتے ہیں۔ مینوفیکچررز قیمتوں اور تنخواہوں کے بلوں میں کٹوتی کر رہے ہیں جبکہ باقی ماندہ عملے پر کام کا بھاری بوجھ ڈال رہے ہیں۔ پراپرٹی کا طویل بحران، مقامی حکومتوں کی مالی تنگی، آٹومیشن اور اے آئی کو تیزی سے اپنانے کے عمل نے بھی ملازمتوں اور آمدنی کو نقصان پہنچایا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پیرس: احتجاج کے دوران لوٹا گیا سامان بے گھر افراد میں تقسیم؟ ویڈیو وائرل

کورنیل یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈیانا فو نے کہا کہ کام کرنے کا جھوٹا ڈھونگ رچانا لوگوں کو اپنی عزت بچانے میں مدد کرتا ہے اور عوامی بے چینی کو کم کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بیجنگ کو سماجی استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ وہ آٹومیشن کو آگے بڑھا رہا ہے اور ٹیکنالوجی میں امریکہ کا مقابلہ کر رہا ہے۔

چین کے بے روزگار افراد کے درمیان یہ بڑھتا رجحان، جاپانی اور جنوبی کوریائی تنخواہ یافتہ ملازمین کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے ۱۹۹۰ء کی دہائی کے ایشیائی مالیاتی بحران کے دوران اپنی ملازمتوں کے خاتمے کو چھپایا تھا۔ تاہم، بفیلو یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ییگے ڈونگ کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چین کا کمزور سماجی حفاظتی نیٹ ورک اس ڈھونگ کو برقرار رکھنا مشکل بنا سکتا ہے، کیونکہ لوگوں کو اپنے خاندان اور رشتہ داروں سے پیسے ادھار لینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK