اگلے سال سے نیٹ یوجی امتحان کمپیوٹرٹیسٹ پر مبنی ہو سکتے ہیں یعنی اسے سی بی ٹی موڈ میں منعقد کروانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ در اصل پارلیمانی کمیٹی برائے تعلیم نےوزارت تعلیم اور این ٹی اے کو سفارش کی ہے کہ یہ امتحان کمپیوٹر پر لیا جائے جس سے پیپر لیک جیسے مسائل ختم ہو جائیں گے۔
اگلے سال سے نیٹ یوجی امتحان کمپیوٹرٹیسٹ پر مبنی ہو سکتے ہیں یعنی اسے سی بی ٹی موڈ میں منعقد کروانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ در اصل پارلیمانی کمیٹی برائے تعلیم نےوزارت تعلیم اور این ٹی اے کو سفارش کی ہے کہ یہ امتحان کمپیوٹر پر لیا جائے جس سے پیپر لیک جیسے مسائل ختم ہو جائیں گے۔ اسی سبب وزارت تعلیم اور نیشنل ٹیسنگ ایجنسی اس امتحان کو کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ کی صورت میں لینے کی تیاری کررہے ہیں۔ اس کے لئے امتحان ملک کے ۵۰۰؍شہروں میں تقریباً ایک ہزار مراکز پر سی بی ٹی موڈ میں منعقد کیا جائے گا۔ یہ پانچ سے چھ دنوں میں منعقد کیا جائے گا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق امتحانی مراکز بنیادی طور پر کیندریہ ودیالیہ جیسے سرکاری اداروں میں واقع ہوں گے۔ تقریباً پانچ لاکھ امیدوار ہر روز ملٹی ڈے امتحان میں شرکت کرینگے ۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت این ٹی اے میں بھی بڑی تبدیلیوں کی تیاری کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ این ٹی اے ایک خود مختار ادارہ ہے جو نیٹ یوجی کے علاوہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کیلئے کئی دوسرے داخلہ امتحانات بھی منعقد کرتا ہے۔ ایجنسی کی تنظیم، بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق این ٹی اے کی پوری تنظیم کو اوپر سے نیچے تک اوور ہال کیا جائے گا۔ یہ عمل اکتوبر سے پہلے مکمل ہونے کی امید ہے۔ساتھ ہی این ٹی اے کے اندر تقریباً ۱۵۰؍ عہدوں کی منظوری دی گئی ہے۔ وزارت تعلیم کی جانب سے یہ تجاویز پیپر لیک کے واقعے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ یاد رہے کہ اس سال ۳؍مئی کو منعقد ہونے والے نیٹ یوجی امتحان میں تقریباً ۲۲؍ لاکھ امیدواروں نے شرکت کی تھی ، لیکن پیپر لیک ہونے کی وجہ سے اسے منسوخ کرنا پڑا تھا ۔ پیپر لیک نے بڑے پیمانے پر غصہ اور احتجاج کو جنم دیا جس کے نتیجے میں سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے بعد نیٹ یوجی امتحان کا دوبارہ انعقاد کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ امتحان اور این ٹی اے میں تبدیلیاں سات رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی سفارشات پر مبنی ہیں۔ اس کمیٹی کی سربراہی اسرو کے سابق چیئرمین کے رادھا کرشنن کر رہے ہیں اور اس کی تشکیل مرکزی حکومت نے ۲۰۲۴ء میں پیپر لیک کے واقعے کے بعد کی تھی۔ اس کمیٹی نے کئی اہم تجاویز پیش کی ہیں جن پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔