پاٹن گائوں کے باشندے چٹان کھسکنے کے واقعے کے بعد انتظامیہ کے مشورے پر محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے تھے۔
ماول میں گزشتہ پیر کو تودہ گرنے سے مکان دب گیا تھا-تصویر:آئی این این
بارش کے دوران پونے کے ماول تعلقہ میں واقع پاٹن گاؤں میں چٹان کھسکنے کے سبب ایک مکان زمین میں دھنس گیا تھا جس میں ۳؍ لوگوں کی موت واقع ہو گئی تھی۔ اس کی وجہ سے مقامی باشندوں کے اندر خوف ہے لیکن اس خوف نے انہیں مزید نقصان پہنچایا ہے۔ ان میں سے کئی لوگ اپنا مکان چھوڑ کر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے تھے۔ اس دوران چوروں نے ان کے گھر میں ہاتھ صاف کر لیا۔
یاد رہے کہ ۶؍جولائی کو پاٹن گاؤں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے تین افراد کی المناک موت ہو گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں میں خوف تھا کیونکہ مزید تودوں کے گرنے خطرہ برقرار تھا۔ انتظامیہ نے حفاظتی وجوہات کی بناء پر پورے گاؤں کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ اپنی جان بچانے کیلئے گاؤں والوں نے اپنے گھروں کو تالے لگا کر محفوظ مقامات کا رخ کیا۔ تاہم اس صورتحال کا فائدہ چوروں نے اٹھایا۔بدھ کی آدھی رات کو نامعلوم چور گاؤں میں داخل ہوئے اور ۱۵؍ تا ۲۰؍ بند گھروں کے تالے اور زنجیریں توڑ ڈالیں۔
انہوں نے گھروں میں موجود سونے اور چاندی کے زیورات، نقدی اور دیگر قیمتی سامان پر ہاتھ صاف کیا۔ اس طرح لاکھوں روپے سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔ جیسے ہی گاؤں والوں کو چوری کی اطلاع ملی، وہ گاؤں لوٹ آئے۔ یہاں آکر اپنے گھروں میں ہوئی توڑ پھوڑ اور زندگی بھر کی پونجی کے غائب ہونے کا نظارہ دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ ایسے وقت میںجب گاؤں والے ابھی تک چٹان کھسکنے کے واقعے کے صدمے سےباہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے، اس چوری نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’انتظامیہ کے مشورے پر ہم نے گاؤں چھوڑ دیا، لیکن انتظامیہ نے ہمارے گھروں کی حفاظت کیوں نہیں ؟ گاؤں والے اس واقعے سے برہم ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر گاؤں میں پولیس پہرہ دیتی یا گشت لگاتی تو اس واقعہ سے بچا جا سکتا تھا۔
یاد رہے کہ پونے کے متعدد دیہی علاقوں میں گزشتہ دنوں بارش کے سبب تودے کھسکنے کے واقعات پیش آئے ۔ اس میں ماول تعلقے میں۳؍ لوگوں کی دردناک موت ہو گئی جبکہ بہت سی جگہوں پرراستے بند ہو گئے۔