Inquilab Logo Happiest Places to Work

اگر کچھ تبدیل نہ ہوا تو پارٹی آئندہ انتخاب میں ہار جائے گی: نیتن یاہو کا اعتراف

Updated: August 27, 2026, 10:11 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اعتراف کیا ہےکہ اگر کچھ تبدیلی نہ ہوئی تو آئندہ انتخاب میں ان کی پارٹی ہار جائے گی،ان کا خیال ہے کہ ان کی پارٹی کی صورتحال پول سے بھی بدتر ہے،ساتھ ہی انہوں نے۱۰؍ نشستوں کے نقصان کا اعتراف کیا۔

Israeli Prime Minister Netanyahu. Photo: X
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے بند کمروں میں ہونے والی گفتگو میں کہا کہ ان کی پارٹی لیکوڈ آنے والے قانون ساز انتخابات ہار جائے گی، جب تک کہ کچھ تبدیل نہ ہو۔‘‘اسرائیلی عوامی براڈکاسٹر کے این کے مطابق، نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ ان کی پارٹی کو۱۰؍ نشستوں کا نقصان ہوا ہے۔ مبینہ طور پر انہوں نے کہا، ’’مجھے نہیں معلوم کہ انہیں واپس کیسے حاصل کیا جائے۔‘‘براڈکاسٹر کے مطابق، نیتن یاہو کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان رائے شماریوں پر شک کرتے ہیں جو ان کے حق میں ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ان کی پارٹی کی پوزیشن ان سروے میں ظاہر کردہ نتائج سے بھی بدتر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیل کے حملے میں ۷؍فلسطینی شہید، متعدد افراد زخمی

واضح رہے کہ اسرائیلی چینل۱۳؍ کے کروائے گئے ایک سروے سے پتہ چلا کہ اگر آج انتخابات ہوئے تو آئزن کوٹ کی پارٹی کو۲۴؍ نشستیں ملیں گی، جو چینل کے گزشتہ ہفتے کے سروے سے دو کم ہیں۔جبکہ لیکوڈ کو۱۹؍ نشستیں ملیں گی، جبکہ پچھلے سروے میں یہ تعداد ۲۳؍ تھی۔نتائج کے مطابق، آئزن کوٹ کی قیادت میں یہودی اپوزیشن جماعتوں کے بلاک کو۵۷؍ نشستیں حاصل ہوں گی، جبکہ نیتن یاہو کے اتحادی بلاک کو۴۸؍ نشستیں، اور عرب جماعتوں کو۱۵؍ نشستیں ملیں گی۔اسرائیل میں حکومت بنانے کے لیے۱۲۰؍ نشستوں والی کنیسیٹ میں کم از کم۶۱؍ قانون سازوں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ امن منصوبہ: حماس ہتھیار اور حکومتی اختیار منتقل کرنے پر راضی

بعد ازاں جہاں تک وزیرِاعظم کےعہدےکیلئے قابل  قبول امیدوار کا تعلق ہے، اسی سروے کے مطابق آئزن کوٹ۴۶؍ فیصد حمایت کے ساتھ آگے ہیں، جبکہ نیتن یاہو کو۳۵؍ فیصد حمایت حاصل ہے، اور۱۹؍ فیصد نے کہا کہ وہ ’’نہیں جانتے۔‘‘ یادرہے کہ اسرائیل میں عام انتخابات۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے  ہیں اور انہیں نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان پر بدعنوانی، آمریت اور ناکامی کے الزامات ہیں۔۷۶؍ سالہ نیتن یاہو دسمبر۲۰۲۲ء کے اواخر سے اسرائیل کی تاریخ کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے سربراہ ہیں۔وہ  اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ پر اسرائیلی جنگ کے دوران وہاں ہونے والے جنگی جرائم کی وجہ سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کومطلوب ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK