Updated: August 27, 2026, 1:58 PM IST
| New York
غزہ کے لیے امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے پر پیش رفت کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ غزہ پیس بورڈ کے اعلیٰ نمائندے نِکولے ملادینوف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ حماس اور دیگر مسلح فلسطینی گروہوں نے ہتھیار حوالے کرنے اور شہری و سیکوریٹی اختیارات اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ عبوری انتظامیہ کو منتقل کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کے اگلے مرحلے سے متعلق امریکی حمایت یافتہ منصوبے پر اہم پیش رفت کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ غزہ پیس بورڈ کے اعلیٰ نمائندے نِکولے ملادینوف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ حماس اور دیگر مسلح گروہوں نے ہتھیار حوالے کرنے اور غزہ کا مکمل شہری و سیکوریٹی انتظام اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ عبوری انتظامیہ کو منتقل کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ ملادینوف نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ حماس اور دیگر مسلح گروہوں نے ہتھیار چھوڑنے اور تمام حکومتی اختیارات ایک عبوری انتظامیہ کو منتقل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ انتظامیہ غزہ میں عبوری دور کے دوران شہری امور چلائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال: تباہ کن سیلاب کی وجہ سامنے آگئی، گلیشیئر کا دو تہائی حصہ ٹوٹ کر گرا
غزہ پیس بورڈ نے جولائی کے آخر میں ۱۵؍ نکاتی روڈ میپ پیش کیا تھا۔ اس میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کی غیر مسلح کاری، غزہ کی انتظامیہ ایک نیشنل کمیٹی کے سپرد کرنا اور اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا شامل ہے۔ منصوبے کے تحت غزہ میں تمام اقسام کے ہتھیاروں، اسلحہ ڈپو، سرنگوں اور مسلح گروہوں کے زیر استعمال ذاتی ہتھیاروں کو بھی غیر مسلح کاری کے عمل میں شامل کیا گیا ہے۔ منصوبے کے مطابق نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) کو علاقے میں ہتھیار رکھنے، ذخیرہ کرنے یا کنٹرول کرنے کا واحد مجاز ادارہ بنایا جائے گا۔ اسرائیلی فوج کا انخلا ہتھیاروں کی تصدیق شدہ تلفی کے بعد مرحلہ وار ہوگا اور ہر مرحلہ پچھلے وعدے کی تکمیل سے مشروط ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیل کے حملے میں ۷؍فلسطینی شہید، متعدد افراد زخمی
تاہم منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل کا موقف ہے۔ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اس روڈ میپ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلا سے پہلے حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح ہونا ہوگا۔ حماس اس کے برعکس مرحلہ وار اور باہمی اقدامات پر زور دے رہی ہے۔ ملادینوف کے مطابق منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تین شرائط اہم ہیں: بین الاقوامی استحکامی فورس کا غزہ میں تعینات ہونا، شرم الشیخ پروٹوکول کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں پر عمل اور حماس کی جانب سے اپنے وعدوں کی تکمیل۔ انہوں نے کہا کہ پیش رفت کیلنڈر کے بجائے عملی کارکردگی کی بنیاد پر ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز میں عارضی راستے پر ایران اور عمان کے درمیان اتفاق
غزہ کی عبوری انتظامیہ کے لیے بنائی جانے والی نیشنل کمیٹی میں آزاد فلسطینی ماہرین شامل ہوں گے۔ ملادینوف کے مطابق اس کا مقصد عبوری دور میں مؤثر انتظامیہ بحال کرنا ہے، جبکہ حتمی کامیابی کا پیمانہ فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی، سیکوریٹی اور بنیادی خدمات میں حقیقی بہتری ہوگا۔ دوسری جانب غزہ میں زمینی صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں اور فلسطینی ہلاکتوں اور گھروں و بے گھر افراد کے خیموں کی تباہی کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ ملادینوف نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کے خاتمے کی صورت میں امن عمل “واپسی کے مقام” تک پہنچ سکتا ہے۔
حماس نے اس سے قبل بین الاقوامی برادری پر زور دیا تھا کہ اسرائیل پر امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ ثالثوں اور غزہ پیس بورڈ کے ساتھ طے شدہ مفاہمت کے لیے بدستور پرعزم ہے۔ منصوبے کی عملی کامیابی اب اس بات پر منحصر ہے کہ حماس کی غیر مسلح کاری، نئی فلسطینی عبوری انتظامیہ، بین الاقوامی نگرانی اور اسرائیلی انخلا کے مراحل کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کیے جاتے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے موجودہ ترتیب کو مسترد کیے جانے کے باعث حتمی نفاذ ابھی غیر یقینی ہے۔