Updated: February 13, 2026, 10:15 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کے خاندان سے متعلق ایک سابق سیکوریٹی افسر نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو کے بیٹے اور ان کے درمیان جسمانی جھڑپ ہوئی جبکہ اہلیہ سارہ نیتن یاہو کے کردار پر بھی سخت تنقید کی گئی۔ یہ الزامات ایک میڈیا انٹرویو میں سامنے آئے، جن پر تاحال وزیرِ اعظم یا ان کے خاندان کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کے خاندان سے متعلق ایک نئے تنازع نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایک سابق سیکوریٹی اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیرِ اعظم اور ان کے بیٹے کے درمیان شدید نوعیت کی جسمانی جھڑپ پیش آئی تھی، جس میں مداخلت کر کے فریقین کو الگ کرنا پڑا۔ یہ دعوے ایک میڈیا انٹرویو میں سامنے آئے جس میں سابق اہلکار نے نہ صرف وزیرِ اعظم بلکہ ان کی اہلیہ اور بیٹے کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ رپورٹ کے مطابق سابق سیکوریٹی افسر نے کہا کہ نیتن یاہو کے بیٹے یائیر اور ان کے والد کے درمیان ایک موقع پر شدید تلخی پیدا ہوئی جو جسمانی تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے بقول یہ کوئی معمولی بحث نہیں بلکہ ایسی جھڑپ تھی جس میں موجود افراد کو مداخلت کرنا پڑی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی نیتن یاہو کو تنبیہ: ایران سے جوہری بات چیت جاری رہے، وینس کا انتباہ
اسی انٹرویو میں وزیرِ اعظم کی اہلیہ سارہ کے بارے میں بھی سخت الفاظ استعمال کیے گئے اور ان پر خاندان کے اندرونی معاملات میں منفی کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ الزامات حالیہ دنوں میں ایک انٹرویو کے ذریعے سامنے آئے۔ مبینہ واقعے کی تاریخ یا مقام کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، تاہم دعویٰ کیا گیا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سابق اہلکار سیکوریٹی ذمہ داریوں پر تعینات تھے۔ تاہم، ان کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ یہ معاملہ اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ وزیرِ اعظم نیتن یاہو پہلے ہی سیاسی اور عدالتی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات عدالت میں زیرِ سماعت ہیں، اور ایسے میں خاندانی تنازع کے الزامات ان کی سیاسی ساکھ پر مزید اثر ڈال سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: حماس نے غزہ پر بین الاقوامی سرپرستی کو مسترد کر دیا
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ان دعوؤں کی مزید تصدیق یا تحقیقات ہوتی ہیں تو یہ معاملہ ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ سکتا ہے۔ اب تک وزیرِ اعظم یا ان کے خاندان کی جانب سے ان مخصوص الزامات پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اسرائیلی میڈیا میں اس خبر پر بحث جاری ہے جبکہ سوشل میڈیا پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ صارفین نے الزامات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دیگر نے انہیں سیاسی نوعیت کا دعویٰ قرار دیا ہے۔