Updated: April 27, 2026, 9:56 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیلی فوج کے سینئر عہدیداروں نے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ لبنان میں ناکامیوں اور ایران کے ساتھ محدود نتائج کی ذمہ داری فوج پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق حزب اللہ کے خلاف ’’سخت کارروائی‘‘ کے دعوے محض سیاسی بیانیہ ہیں، جبکہ زمینی سطح پر فوجی حکمت عملی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی۔
نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این
اسرائیلی سیکوریٹی اسٹیبلشمنٹ کے اندر اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آ گئے جب سینئر فوجی عہدیداروں نے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے حالیہ بیانات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’سیاسی شو‘‘ قرار دیا۔ حکام کے مطابق، نیتن یاہو کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے فوج کو حزب اللہ کے خلاف ’’زبردست جواب‘‘ دینے کی ہدایت دی تھی، عملی طور پر کسی نئی فوجی پالیسی یا آپریشنل تبدیلی میں تبدیل نہیں ہوا۔ سینئر افسران کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے انہی موجودہ قواعد کے تحت کیے گئے جو پہلے سے نافذ تھے، اور یہ کارروائیاں جنوبی لبنان تک محدود رہیں، بغیر کسی بڑے اضافے یا توسیع کے۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطین بلدیاتی انتخابات: ۱۹۷؍ کونسلوں میں بلامقابلہ جیت، ۵۴؍ فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ
انہوں نے نیتن یاہو کے بیانات کو ’’اسموک اسکرین‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا اور سیاسی سطح پر خود کو مضبوط دکھانا ہے، جبکہ حقیقت میں فوج کو وہی پرانے احکامات مل رہے ہیں۔ فوجی ذرائع کے مطابق، وزیر اعظم کی جانب سے نتائج نہ آنے کی صورت میں ذمہ داری فوج پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ فوجی کارروائیاں مکمل طور پر سیاسی قیادت کی ہدایات کے مطابق انجام دی جا رہی ہیں۔
مزید برآں، حکام نے نشاندہی کی کہ لبنان میں اسرائیلی آپریشنز پر امریکی پالیسی کا بھی اثر ہے، خاص طور پر ٹرمپ کی جانب سے طے کردہ جنگ بندی کے فریم ورک کے تحت، جس میں بعد میں مزید توسیع کی گئی۔ فوجی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ محدود حکمت عملی اسرائیلی فورسیز کو مسلسل خطرے میں ڈال رہی ہے جبکہ حزب اللہ جنگ بندی کی شرائط کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کے بدعنوانی کیس کی سماعت عین وقت پر منسوخ، سیکوریٹی وجوہات کا حوالہ
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ پالیسی برقرار رہی تو شمالی اسرائیلی علاقوں میں رہنے والی کمیونٹیز کو مؤثر تحفظ فراہم کرنا مشکل ہو جائے گا، اور سرحدی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ صورتحال نہ صرف عسکری سطح پر چیلنجز کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اسرائیل کے اندر سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کی بھی نشاندہی کرتی ہے، جو آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتی ہے۔