Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیتن یاہو کی پارٹی کےانتخابی اشتہار میں ممدانی، اردگان کو خامنہ ای، حزب اللہ سربراہ کےساتھ دکھایاگیا

Updated: August 17, 2026, 8:09 PM IST | Tel Aviv

یہ بل بورڈ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو ۲۷ اکتوبر کے انتخابات سے قبل اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انتخابی جائزوں میں اپوزیشن پارٹیاں مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہیں۔ اس بل بورڈ پر اسرائیلی حریف سیاست دانوں کی جانب سے طنزیہ ردِعمل سامنے آیا ہے۔

Controversial Billboard by Likud Party. Photo: X
لیکوڈ پارٹی کا متنازع بل بورڈ۔ تصویر: ایکس

اسرائیل کی حکمران جماعت لیکود پارٹی کے ذریعے لگائے گئے ایک انتخابی اشتہار میں نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کو ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ ایک بل بورڈ پر آویزاں اس پوسٹر میں ان چاروں پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامین نیتن یاہو آئندہ اکتوبر کے انتخابات میں ہار جائیں۔ بل بورڈ پر لکھا ہے: ”وہ چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو ہار جائیں، انہیں جیتنے نہ دیں۔“ نیتن یاہو نے ایکس پر اس کی ایک تصویر دوبارہ پوسٹ کی جس کا کیپشن تھا ”انہیں جیتنے نہ دیں۔“ یہ اشتہار تل ابیب میں ایالون ہائی وے کے سامنے آویزاں کیا گیا ہے، حالانکہ سوشل میڈیا پر کچھ دعوؤں میں اسے یروشلم میں بتایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ مسترد کیا، ترکی سمیت ۷؍ ممالک نے شدید مذمت کی

یہ بل بورڈ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو ۲۷ اکتوبر کے انتخابات سے قبل اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انتخابی جائزوں میں اپوزیشن پارٹیاں مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہیں۔ اس بل بورڈ پر اسرائیلی حریف سیاست دانوں کی جانب سے طنزیہ ردِعمل سامنے آیا ہے۔ سابق آئی ڈی ایف چیف آف اسٹاف گیڈی آئزن کوٹ کی قیادت والی پارٹی ’یشار‘ نے اس کا ایک ترمیم شدہ ورژن پوسٹ کیا جس پر لکھا تھا: ”وہ چاہتے ہیں کہ آئی ڈی ایف تباہ ہوجائے، نیتن یاہو کو جیتنے نہ دیں۔“

اگرچہ ممدانی اور اردگان دونوں نیتن یاہو اور غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے سخت ناقد رہے ہیں، لیکن انہیں خامنہ ای اور قاسم کے ساتھ رکھنا، جو ان ممالک اور گروپس کے لیڈران ہیں جنہیں اسرائیل جانی دشمن سمجھتا ہے، انتہائی اشتعال انگیز قرار دیا گیا ہے۔ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں شدید بگاڑ آیا ہے، جس میں اردگان اسرائیل کے اقدامات کے سب سے بڑے بین الاقوامی ناقدین میں شامل رہے ہیں اور اس پر نسل کشی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر کے تازہ اشتعال انگیز بیان پر ایران کا سخت رد عمل

ممدانی، جو اس سال کے اوائل میں نیویارک کے میئر بنے ہیں، نے حال ہی میں کہا تھا کہ اگر نیتن یاہو اگلے ماہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے آتے ہیں تو شہر میں ان کا خیرمقدم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کے تحت اسرائیلی لیڈر کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کے گرفتاری وارنٹ کا حوالہ دیا تھا۔ ممدانی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ”بنجامین نیتن یاہو کا نیویارک سٹی میں کوئی خیرمقدم نہیں ہے اور نہ ہی کسی دوسرے مفرور جنگی مجرم کا۔“ نیتن یاہو نے جوابی ردِعمل دیتے ہوئے ممدانی پر ”نفرت پھیلانے“ کا الزام لگایا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK